اوٹاوا(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے وزیرِ تحفظِ عامہ گیری آنند سنگری نے ارکانِ پارلیمنٹ پر زور دیا ہے کہ متنازع لا فل ایکسس بل (بل سی-22) کی جلد منظوری کو یقینی بنایا جائے اور جرائم کے متاثرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مفاد میں اس قانون پر فیصلہ کیا جائے۔
اوٹاوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گیری آنند سنگری نے الزام عائد کیا کہ کنزرویٹو ارکان بل میں مجوزہ ترامیم پر بحث کے دوران تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، جس کے باعث قانون سازی کا عمل سست ہو گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو پارلیمانی کمیٹی میں شق وار جائزے کا عمل محدود کرنے اور بل کو جلد حتمی منظوری کے لیے ایوانِ نمائندگان میں پیش کرنے کی تحریک لائی جائے گی، چاہے متعدد مجوزہ ترامیم زیر غور ہی کیوں نہ ہوں۔
وزیرِ تحفظِ عامہ کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ یہ فیصلہ کرے کہ وہ جرائم کے متاثرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑی ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق جدید جرائم سے نمٹنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی اداروں کو جدید قانونی اختیارات فراہم کرنا ضروری ہے۔
مجوزہ قانون کے تحت پولیس اور قومی سلامتی کے اداروں کو عدالتی وارنٹ کی بنیاد پر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں سے صارفین کا ڈیٹا اور دیگر معلومات حاصل کرنے کے وسیع اختیارات دیے جائیں گے، جبکہ بعض بنیادی سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو صارفین کا میٹا ڈیٹا چھ ماہ تک محفوظ رکھنے کی شرط بھی شامل کی گئی ہے۔
ادھر ٹیکنالوجی کمپنیوں، ماہرینِ قانون اور پرائیویسی کے حامی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس قانون سے صارفین کی رازداری متاثر ہو سکتی ہے اور انکرپشن کمزور ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی صورت میں وہ کینیڈا میں اپنی خدمات محدود کرنے پر بھی غور کر سکتی ہیں۔
کنزرویٹو ارکانِ پارلیمنٹ نے حکومتی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بل پر تفصیلی بحث اور قانونی جانچ جمہوری عمل کا حصہ ہے اور جلد بازی میں قانون منظور کرانا مناسب نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کو آئینی تقاضوں اور شہری آزادیوں کے تناظر میں مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی منظور کیا جانا چاہیے۔

