اوٹاوا:کینیڈا میں ضمانت اور سزا سے متعلق اصلاحاتی قانون نافذ

اوٹاوا( نمائندہ خصوصی)کینیڈا میں ضمانت اور سزا سے متعلق اصلاحاتی قانون نافذ العمل ہو گیا ہے، جس کے تحت بار بار جرائم کرنے والے افراد کیخلاف سخت قانونی اقدامات اور ضمانت کے قوانین میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔

وفاقی وزیرِ انصاف شان فریزر کے مطابق بیل اینڈ سینٹنسنگ ریفارم ایکٹ کو شاہی منظوری ملنے کے بعد یہ قانون نافذ ہو گیا ہے، جس کے تحت فوجداری قانون، نوجوانوں کے انصاف کے قانون اور نیشنل ڈیفنس ایکٹ میں مجموعی طور پر 80 ترامیم کی گئی ہیں۔

نئے قانون کے تحت متعدد سنگین جرائم میں “ریورس اونَس” کی شق کو وسعت دی گئی ہے، جس کے مطابق بعض ملزمان کو عدالت میں خود یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہیں ضمانت پر کیوں رہا کیا جائے۔ یہ شق گزشتہ دس برس کے دوران سابقہ سزائیں پانیوالے بعض ملزمان اور بعض پرتشدد جرائم کے اعادہ کی صورت میں بھی لاگو ہوگی۔

قانون میں گاڑیوں کی چوری، منظم جرائم اور دیگر مخصوص مقدمات میں اسلحہ رکھنے پر پابندی اور سخت شرائط عائد کرنے کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے، جبکہ عدالتوں کو ضمانت کا فیصلہ کرتے وقت یہ بھی مدنظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے کہ آیا مبینہ جرم بلااشتعال یا اتفاقیہ تشدد پر مبنی تھا یا نہیں۔

قانون کے مطابق بار بار پرتشدد جرائم کرنے والے مجرموں کے لیے سزا کے تعین میں سختی پیدا کرنے والے عوامل کو بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی سزا میں اضافہ کیا جا سکے گا۔

وفاقی وزیرِ انصاف شان فریزر کا کہنا ہے کہ یہ قانون حکومت کی عوامی تحفظ کی حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس کا مقصد ملک بھر کی کمیونٹیز کو مزید محفوظ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات خاص طور پر گاڑیوں کی چوری، گھروں میں ڈکیتی، بھتہ خوری،منشیات کی اسمگلنگ،حملوں اور جنسی جرائم جیسےمعاملات سےنمٹنے کیلئے تیار کی گئی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومتوں کو ضمانت کے نظام سے متعلق اعداد و شمار کو یکساں انداز میں جمع کرنے کیلئے مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی جبکہ ججوں کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کیلئےصوبوں کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔وفاقی وزیرِ انصاف شان فریزرکی میڈیاسے گفتگومیں ان کے ساتھ رکن پارلیمنٹ ،رانا اسلم،ریچی والڈیز،سلمیٰ زاہد اورسونیاسدھوبھی بھی موجودتھے.