اسلام آباد( ارنا، انادولو، رائٹرز، دفترِ خارجہ پاکستان، سرکاری اعلامیے)ایران کے صدر مسعود پزشکیان امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اپنے پہلے غیر ملکی دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔ نور خان ایئر بیس پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء نے ان کا استقبال کیا۔
استقبالی تقریب میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، خاتونِ اول آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔ پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے ایرانی صدر کے طیارے کو فضائی سلامی دی جبکہ بچوں نے انہیں پھول پیش کیے۔

صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آیا ہے جس میں کابینہ کے وزراء اور سینئر حکام شامل ہیں۔ وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد میں ایرانی سفارت خانے کے مطابق صدر پزشکیان کا دورہ ایرانی حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستان کیلئے تشکر اور خیرسگالی کا پیغام لے کر آیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے ایران کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے، امن و استحکام کے فروغ اور سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔
ایرانی سفارت خانے کے مطابق دونوں ممالک کی قیادت دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لے گی اور باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر غور کرے گی۔ دفترِ خارجہ کے مطابق صدر پزشکیان اپنے دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں اور وفود کی سطح پر مذاکرات کریں گے، جبکہ نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے بھی ان کی ملاقات طے ہے۔
ملاقاتوں میں تجارت، توانائی، سرحدی سلامتی، علاقائی روابط، عوامی سطح کے تبادلوں اور دوطرفہ تعاون کے دیگر شعبوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔ فریقین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیں گے اور علاقائی و عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
ایرانی صدر گزشتہ سال اگست میں بھی پاکستان کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں، تاہم حالیہ دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات اور خطے میں سفارتی پیش رفت کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

