”قبضے“ کا نیا قانون اور ایسٹ انڈیا کمپنی !

آپ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے بارے میں خوب پڑھا ہوگا، اور یہ بھی علم ہوگا کہ یہ کمپنی جب چاہتی، جہاں چاہتی اور جیسے چاہتی عوامی جائیدادوں، کاروبار اور زرعی اراضی کو قبضے میں لیتی اور من پسند پراجیکٹ تعمیر کرتی ،،، اور خاص طور پر جب لارڈ کلائیو کی قیادت میں ہندوستان پر قبضہ کیا گیا اور یہ کام بنگال سے شروع ہوا اور پورے ہندوستان تک پھیلتا چلا گیا اور ایک دن وہ تاجر کمپنی پورے ہندوستان کی مالک بن بیٹھی۔ اس کمپنی نے پہلے مقامی حکمرانوں سے تجارتی مراعات حاصل کیں، پھر فوجی فتوحات اور معاہدوں کے ذریعے علاقوں پر اثر و رسوخ بڑھایا ۔بعض ریاستوں کو براہِ راست اپنے زیر انتظام لے لیا، جبکہ کئی ریاستیں نام کے لحاظ سے آزاد رہیں مگر کمپنی کے زیر اثر تھیں۔ مثال کے طور پر جنگِ پلاسی کے بعد بنگال میں کمپنی کا اثر بہت بڑھ گیا، اور بعد میں وہ صرف تاجر نہیں بلکہ حکمران قوت بن گئی۔اس لیے آپ مختصراََ کہہ لیں کہ جہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کا قبضہ یا غلبہ قائم ہو جاتا تھا وہاں وہ خود کو حکمرانی اور وسائل کے استعمال کا حق دار سمجھتی تھی۔

یہ تو بات تھی سترھویں ،اٹھارہویں صدی کی ”ایسٹ انڈیا کمپنی “کی،،، لیکن آج بھی ہمارے حکمران اسی طرز عمل پر چل رہے ہیں تاکہ وہ عوام پر مکمل غلبہ حاصل کر سکیں،،، یعنی گزشتہ ہفتے ہمارے حکمرانوں نے قومی اسمبلی سے ایک بل منظور کروا یا ہے،،،اس بل کا نام ”پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 “ ہے جس کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو کسی بھی نجی یا سرکاری عمارت پر بغیر اجازت ٹاورز لگانے اور آپٹیکل فائبر اور دیگر انفرااسٹرکچر نصب کرنے کی مجوزہ اجازت دی گئی ہے،،،اور خلاف ورزی کرنے والے کو 5کروڑ روپے جرمانہ ادا کیا جائے گا،،،اب پانچ کروڑ کی روداد اور طریقہ کار بھی خود چیک کر لیں کہ کمپنی کے لوگ آپ کے گھر آئیں گے اوراپنی مرضی کا رینٹ آفر کریں گے، آپ وہ رینٹ نہ مانے تو وہ کمپنی سرکاری ادارے کے پاس جائے گی اور آپ کی شکایت کرے گی کہ آپ اسے زمین نہیں دے رہے۔ وہ سرکاری ادارہ آپ کا فیصلہ کرے گا اور جو فیصلہ کرے گا وہ قبول کرنا ہوگا۔ اگر آپ اس ادارے کے فیصلے کو نہ مانے تو پھر آپ پر پانچ کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔ اس قانون کے تحت آپ کسی عدالت وغیرہ میں بھی نہیں جاسکتے۔ آپ کا فورم صرف وہ ادارہ ہے جس کا چیئرمین بھی حکومت لگائے گی، اس کے ممبران بھی سرکاری افسران ہوں گے جن کا تعلق اسی وزارت سے ہے جو یہ بل لائی ہے۔ یعنی مختصر یہ کہ آپ یا تو کمپنیوں کا دیا ہوا رینٹ قبول کر لیں یا پانچ کروڑ جرمانے کے لیے تیار رہیں۔

اور پھر اس مذکورہ بل کو آگے اسمبلی سے منظور کروانے تک کی کہانی بھی سن لیں،،، یعنی رپورٹس کے مطابق ہمارے ہاں چلائی جانے والی ٹیلی کام کمپنیوں کے سابقہ ملازم نے بل تیار کیا اور وزارت قانون سے لیگل رائے لے کر اسے منظور کرا لیا کہ ہاں یہ بل اب کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کریں۔ شہباز شریف اور ان کے وزیروں کی فوج نے بھی بغیر اس بل کو پڑھے اور سمجھے منظور کر دیا کہ اب اسے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے۔ وہاں پارلیمانی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اسے نیشنل اسمبلی کے ایجنڈے پر رکھ کر ہاﺅس میں متعارف کرا دیا جس پر قانون کے تحت اس بل کو اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ریفر کر دیا گیا جس کے پندرہ سے زائد ایم این ایز ممبر ہیں کہ وہ اس بل کو دیکھیں۔ اب اس کمیٹی میں نوید قمر اور شیری رحمن جیسے منجھے ہوئے سیاستدان بھی اس میں شامل ہیں۔ سب نے ”اوکے“ کی آواز کروائی،،، اور اس اثنامیں وزیر ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قائمہ کمیٹی کے اراکین سے بل کلیئر ا کرا کے اسمبلی میں ووٹنگ کے لیے پیش کرا دیا اور ساتھ ہی پورے ہاﺅس سے یہ منظور کرا لیا جس کے 340 اراکین ہیں۔ کسی ممبر نے بل کو نہیں پڑھا یا سمجھا یا جان بوجھ کر چپ رہے۔ اب قانون کے تحت بل کو سینیٹ بھیجا گیا جہاں بل پیش ہوا تو اسے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھیجا گیا جس کی چیئرپرسن پی پی پی کی سینیٹر پلوشہ خان ہیں۔ جب وہاں کمیٹی ممبرز نے بل پڑھنا شروع کیا تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں،،،ویسے اس پر سینیٹر پلوشہ خان‘ سینیٹر افنان اللہ خان اورسینیٹر سعدیہ عباسی کی تعریف کرنی چاہیے جنہوں نے اس بل کے خلاف آواز بلند کی۔

میرے خیال میںیہ بل آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور شہریوں کی جائیدادوں پر زبردستی قبضے کی قانونی شکل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ بل سینیٹ سے بھی منظور ہوگیا تو نہ ہماری مرضی، نہ ہمارا گھر اور نہ ہی ہماری زمین حقیقی معنوں میں ہماری رہے گی۔اور پھر جوں جوں اس بل کی تہیں کھلتی جائیں گی توں توں آپ کی آنکھیں بھی کھلتی جائیں گی ،،، بہرحال مجھے یقین تھا کہ یہ بل جب قومی اسمبلی سے منظور کروایا جا رہا ہوگا،،، تو بہت سے اراکین اسمبلی نے اسے پڑھا بھی نہیں ہوگا،،، جی ہاں! ایسا ہی ہوا عوامی ردعمل کے بعد حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کا مو¿قف بھی کم و بیش یہی نظر آیا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ بل میں کیا لکھا ہے، کون سی شقیں شامل ہیں اور ان کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ کسی نے کہا قانون کو غلط سمجھا گیا ہے، کسی نے کہا قبضے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا، کسی نے کہا عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر معاملہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ارکان کو تنخواہیں، مراعات، گاڑیاں، عملہ اور بے شمار سرکاری سہولیات اس لیے نہیں دی جاتیں کہ وہ قانون پڑھے بغیر اس پر ہاتھ کھڑا کر دیں۔ ان کا بنیادی کام قانون سازی ہے۔ اگر وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کس بل کی منظوری دے رہے ہیں تو پھر یہ صرف ایک متنازعہ بل کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے قانون سازی کے نظام کی ناکامی ہے۔

اور پھر پاکستان میں ایک خطرناک روایت بن چکی ہے۔ بل تیار ہوتا ہے، چند افراد اسے دیکھتے ہیں، پارٹی قیادت اشارہ کرتی ہے، اور پھر منتخب نمائندے تفصیلات پڑھے بغیر منظوری دے دیتے ہیں۔ بعد میں جب تنازعہ پیدا ہوتا ہے تو وضاحتیں شروع ہو جاتی ہیں کہ اصل مقصد یہ نہیں تھا، عوام نے غلط سمجھا یا میڈیا نے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔اور کیا ان جاہل حکمرانوں کو نہیں پتہ کہ پاکستان تو پہلے ہی زمینوں کے تنازعات، قبضہ مافیا، جعلی انتقالات، متضاد ریکارڈ اور طویل عدالتی مقدمات کی تاریخ رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی قانون غیر واضح الفاظ استعمال کرے تو لوگوں کا حساس ہونا فطری ہے۔حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اس قانون کا مقصد قبضہ نہیں بلکہ انفراسٹرکچر کی تعمیر ہے۔ ممکن ہے حکومت کی نیت یہی ہو۔ لیکن قانون صرف نیت پر نہیں چلتے، الفاظ پر چلتے ہیں۔ آج کی حکومت اچھی نیت رکھ سکتی ہے، کل کوئی اور حکومت آ سکتی ہے۔ آج کا وزیر اختیارات کا غلط استعمال نہ کرے، کل کوئی اور کر سکتا ہے۔ اسی لیے جمہوری معاشروں میں قوانین اس انداز میں لکھے جاتے ہیں کہ ان کے غلط استعمال کی گنجائش کم سے کم ہو۔ اصل سوال یہی ہے کہ کیا ان شقوں میں ابہام موجود ہے؟اگر موجود ہے تو انہیں مزید واضح بنانے میں ہچکچاہٹ کیوں؟

پاکستان کا ٹیلی کام سیکٹر معمولی صنعت نہیں۔ یہ اربوں ڈالر کی معیشت ہے۔ ڈیجیٹل سروسز، فائبر آپٹک نیٹ ورکس، ڈیٹا سینٹرز اور موبائل انٹرنیٹ مستقبل کی معیشت کے بنیادی ستون ہیں۔ ہمارے پڑوسی بھارت میں مکیش امبانی کی جیو کمپنی کی مالیت ایک سو بیس سے ایک سو پچاس ارب ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ ٹیلی کام اور ڈیجیٹل سروسز نے نہ صرف ایک کمپنی بلکہ پورے معاشی منظرنامے کو تبدیل کر دیا۔ پاکستان کو بھی ڈیجیٹل انقلاب کی ضرورت ہے۔ لیکن ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد شہری اعتماد پر کھڑی ہوتی ہے، شہری خوف پر نہیں۔ اگر لوگ یہ محسوس کریں کہ ان کے بنیادی حقوق غیر محفوظ ہیں تو ہر قانون شک و شبہ کا شکار ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اس بل کے خلاف شدید ردعمل سامنے آیا۔ کچھ لوگوں نے اسے نجی جائیداد کے حقوق پر حملہ قرار دیا، کچھ نے ریاستی اختیارات میں خطرناک توسیع کہا اور کچھ نے سوال اٹھایا کہ اگر آج خاموشی کو رضامندی مان لیا گیا تو کل کون سا حق اسی اصول کے تحت محدود کیا جا سکتا ہے؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں قانون سازی کا معیار خود ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کئی ارکان پارلیمنٹ شاید پوری قانون سازی پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ کئی مرتبہ پیچیدہ قانونی دستاویزات چند گھنٹوں میں منظور ہو جاتی ہیں۔ بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ کسی شق کے غیر متوقع نتائج نکل رہے ہیں۔

بہرکیف عوام کی زمین، گھر اور جائیداد محض اثاثے نہیں ہوتے۔ یہ ان کی عمر بھر کی کمائی، ان کی شناخت اور ان کے مستقبل کا تحفظ ہوتے ہیں۔ اسی لیے یہ معاملہ صرف ایک ٹیلی کام بل کا نہیں رہا۔ یہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا معاملہ بن چکا ہے۔ یہ بنیادی آئینی حقوق کی تشریح کا معاملہ بن چکا ہے۔ یہ اس سوال کا معاملہ بن چکا ہے کہ کیا پاکستان میں قانون سازی عوامی اعتماد پیدا کرے گی یا عوامی خوف؟ اگر حکومت واقعی سمجھتی ہے کہ اس قانون کو غلط سمجھا گیا ہے تو بہترین راستہ یہ نہیں کہ عوام کو جاہل یا گمراہ قرار دیا جائے۔ بلکہ بہتر راستہ یہ ہے کہ عوام کے حق میں فیصلہ کیا جائے،،، لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ سرکار ان کمپنیوں کو لگام ڈالے،،، کیوں کہ یہ وہ کمپنیاں ہیں جو پہلے ہی عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہیں۔ ہر مہینے چپکے سے انٹرنیٹ اور کال پیکجز مہنگے کر دیے جاتے ہیں، جب کہ سروسز کا حال یہ ہے کہ سگنل ڈھونڈنے سے نہیں ملتے اور کالز ڈراپ ہونا روز کا معمول بن چکا ہے۔ عوام کو گھٹیا سروسز اور بھاری بل دینے والی ان کمپنیوں کو سدھارنے کے بجائے، اب انہیں شہریوں کی جائیدادوں پر قبضے کا قانونی لائسنس دیا جا رہا ہے!کیا اس سے بہتر ایسٹ انڈیا کمپنی نہیں تھی جو اعلانیہ آپ کی جائیداد پر قبضہ کر لیتی تھی مگر اس طرح چکے سے وارداتیں نہیں ڈالتی تھی!