تباہ ایف 15 طیارہ: فائٹر پائلٹ کے دعوؤں سے امریکی حکام میں بحث

واشنگٹن( امریکی میڈیا رپورٹس)امریکی لڑاکا طیارے F-15 Eagle کے ایک مبینہ پائلٹ کی جانب سے ایران جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعے سے متعلق انکشافات سامنے آئے ہیں، جنہیں امریکی حکام اور ماہرین کے درمیان بحث کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق پائلٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ نشانہ بننے سے قبل اس نے فضا میں متعدد ڈرونز کو ایک غیر معمولی فارمیشن میں اڑتے ہوئے دیکھا، جسے اس نے”جیلی فش” سے تشبیہ دی۔ اس کے مطابق درجنوں چھوٹے ڈرونز ایک بڑے ڈرون کے گرد اس طرح موجود تھے جیسے وہ کسی مربوط نظام کے تحت حرکت کر رہے ہوں۔

پائلٹ کے بقول یہ منظر “فضا میں ڈرونز کی بارودی سرنگ” جیسا تھا، جس نے صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا۔

دعویٰ کے مطابق یہ واقعہ اپریل میں پیش آیا جب ایران کی فضائی حدود کے قریب ایک مشن کے دوران امریکی طیارہ تباہ ہوا تھا، تاہم دونوں پائلٹس ایجیکٹ کر کے محفوظ رہے اور بعد ازاں امریکی اسپیشل آپریشنز کے ذریعے انہیں ریسکیو کیا گیا۔

امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جبکہ بعض دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ بیان درست ثابت ہوتا ہے تو یہ ایران کی ڈرون ٹیکنالوجی میں نمایاں پیش رفت کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کی ڈرون صلاحیتوں میں بیرونی تکنیکی معاونت کے حوالے سے بھی مختلف اندازے اور قیاس آرائیاں پائی جاتی ہیں، تاہم اس بارے میں کوئی حتمی اور مصدقہ ثبوت موجود نہیں۔