ایران مکمل ہتھیار ڈال دے تو یہ ممکن نہیں:وینڈی شرمین

واشنگٹن( بلومبرگ، دی بُلوارک)امریکا کی سابق نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے کہا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے مکمل ہتھیار ڈالنے کی توقع رکھتے ہیں تو ایسا کبھی ممکن نہیں ہوگا۔

بلومبرگ ویک اینڈ شو میں گفتگو کرتے ہوئے وینڈی شرمین نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں ٹرمپ کا یہ مؤقف حقیقت پسندانہ نہیں، کیونکہ ایران تاریخی طور پر دباؤ کے سامنے مزاحمت کرتا آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2015 کے ایران جوہری معاہدہ کی ٹیم کا حصہ رہنے کے ناطے وہ سمجھتی ہیں کہ ایران اپنی بنیادی پالیسیوں سے آسانی سے پیچھے نہیں ہٹے گا، خاص طور پر یورینیم افزودگی کے حق سے دستبردار ہونا ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران وقتی طور پر کچھ اقدامات معطل کر سکتا ہے، تاہم وہ اپنے اتحادی گروپوں کے ساتھ تعلقات یا میزائل پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کرے گا، البتہ ممکن ہے کہ کچھ حد تک نرمی دکھائے۔

وینڈی شرمین نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا انداز زیادہ تر وقتی اور لین دین پر مبنی ہے، جس سے کسی جامع اور پائیدار حکمت عملی کی جھلک نظر نہیں آتی، اور یہ واضح نہیں کہ وہ کس نتیجے کو کامیابی تصور کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے قدامت پسند جریدے دی بُلوارک نے بھی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکا کے عالمی اتحاد کمزور ہو رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس کی پوزیشن متاثر ہو رہی ہے۔