ٹک ٹاکر افسروں کیخلاف گھیرا تنگ،پابندیوں کیلئےنئے ضابطے،وزیر اعظم کی منظوری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
62 سال بعد بڑا ریگولیٹری اقدام،بلا اجازت میڈیا و سوشل پلیٹ فارمز ممنوع قرار
گمنام اکاؤنٹس سےسرگرمی بھی خلافِ ضابطہ ہوگی،سرکاری معلومات کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرنے پر پابندی
اداروں کی ساکھ اور نظم و نسق بہتر بنانے کیلئےفیصلہ،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان کی کاوشیں نمایاں

حکومت نے  ٹک  ٹاکر  افسروں کی طرف سے  ذاتی تشہیر کیلئے سوشل میڈیا  کے  بے جا استعمال اور افسروں کی صحافتی ، اشاعتی اور  سیاسی سرگرمیوں پر  پابندیاں مذید سخت  کر دی  ہیں ،حکومت پاکستان نےباسٹھ سال بعد  سرکاری افسروں کیلئے نئے قواعد و ضوابط جاری کر دیے ہیں،جنہیں  سول سرونٹس ( کنڈکٹ) رولز  دو ہزار چھبیس کا نام دیا گیا ہے، اس سے پہلے یہ رولز انیس سو چونسٹھ میں بنے تھے،سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نبیل اعوان کا یہ کریڈٹ ہے کہ انہوں نے  چند ماہ پہلے ہی یہاں  اپنی تعیناتی کے بعد یہ اہم کام سر  انجام دیا ہے،ان نئے قواعد وضوابط  کا مقصد سرکاری نظم و نسق اور اداروں کی ساکھ کو مزید مضبوط  اور بہتر بنانا ہے، چند روز پہلے  جاری ان  ضوابط کے مطابق کوئی بھی سرکاری ملازم پیشگی اجازت کے بغیر کسی ویب سائٹ، سوشل میڈیا پلیٹ فارم، بلاگ، یوٹیوب چینل، پوڈکاسٹ، ٹی وی ،ریڈیو پروگرام یا اخبار و رسالے کے انتظام یا مواد کی تیاری میں حصہ نہیں لے سکے گا،اس پابندی کا اطلاق ان افسروں  پر بھی ہوگا جو گمنام یا فرضی نام سے ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونگے،حکومت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ملازمین اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس استعمال کر سکتے ہیں، تاہم انہیں سرکاری معاملات، وسائل یا معلومات کو ذاتی مفاد، تشہیر یا ذاتی تشخص بنانے کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مزید برآں، ایسے اکاؤنٹس پر ایسا کوئی مواد شیئر نہیں کیا جا سکے گا جو حکومت یا اس کے اداروں کی ساکھ کو متاثر کرے، نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس صرف متعلقہ اتھارٹی  کی تحریری اجازت سے قائم کیے جا سکیں گے اور ان کا استعمال صرف مستند سرکاری معلومات اور ادارہ جاتی سرگرمیوں تک محدود ہوگا، کسی بھی افسر کے تبادلے کی صورت میں متعلقہ اکاؤنٹس کی تمام تفصیلات اور رسائی نئے افسر کو منتقل کرنا لازم ہوگا۔ حکومت نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم اپنی ملازمت کے دوران حاصل کیے گئے تجربات پر مبنی ایسی یادداشتیں یا تحریریں شائع نہیں کرے گا جن میں خفیہ معلومات شامل ہوں، اسی طرح، کسی بھی میڈیا پلیٹ فارم پر حکومت یا اس کی پالیسیوں کیخلاف ایسا بیان دینا ممنوع قرار دیا گیا ہے جو اداروں کے وقار کو نقصان پہنچا سکتا ہو، مزید برآں، ادبی، سائنسی یا فنی نوعیت کے علاوہ کسی بھی کتاب یا مضمون کی اشاعت کیلئےپیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ متعلقہ حکام کو تین ماہ کے اندر درخواست گزار کو جواب دینے کا پابند بنایا گیا ہے۔ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی سختی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم کسی سیاسی عمل میں حصہ نہیں لے گا، نہ مالی معاونت کریگا اور نہ کسی بھی طریقے سے ایسی سرگرمیوں میں تعاون کرے گا۔ ایک اعلیٰ ریٹائرڈ افسر  کے مطابق یہ اقدامات سرکاری ملازمین کے کردار کو غیر جانبدار رکھنے اور ریاستی اداروں کی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے اہم پیش رفت ہیں۔یہ قواعد   ہر قسم کے سرکاری  ملازم پر لاگو ہونگے، چاہے وہ ڈیوٹی پر ہو یا چھٹی پر، پاکستان میں ہو یا بیرونِ ملک  یا کسی دوسرے ادارے میں تعینات ہو،متعلقہ  حکومت چاہے تو ان قواعد کو دیگر اداروں، سرکاری کمپنیوں، یونیورسٹیوں اور خودمختار اداروں پر بھی لاگو کر سکتی ہے، نوٹیفیکیشن  کے مطابق  سرکاری ملازم کسی بھی شخص، کمپنی یا غیر ملکی حکومت سے تحفہ قبول نہیں کرے گا،جبکہ سرکاری دوروں میں ملنے والے تحائف مخصوص قانون (توشہ خانہ) کے تحت جمع  ہوں گے،سرکاری ملازم ایسی مہمان نوازی قبول نہیں  کریگا  جو سرکاری کام پر اثر انداز ہو سکتی ہو،اسی طرح کسی افسر کو خوش کرنے یا فائدہ لینے کیلئے تحفہ دینا بھی ممنوع قرار دیا گیا  ہے۔

‎حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی سرکاری ملازم کسی غیر ملکی اعزاز یا خطاب کو قبول نہیں کریگا،کوئی افسر اپنی تعریف یا تشہیر کیلئےمنعقدہ تقریبات میں حصہ نہیں لےگا،سوائے سرکاری حیثیت میں کچھ مخصوص مواقع کے،سرکاری ملازم  تدریس یا مشاورت جیسے کام کر سکتے  ہیں (بشرطیکہ سرکاری کام متاثر نہ ہو)، اسی طرح سرکاری  ملازم  کیلئے اپنے ماتحت یا متعلقہ افراد سے قرض لینا یا دینا  ممنوع قرار دیا گیا  ہے،ملازمت شروع کرتے وقت تمام اثاثے ظاہر کرنا ہونگے،ہر سال آمدنی، اخراجات اور جائیداد کی تفصیل دینا لازمی ہے،گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسروں   کو آن لائن تفصیلات جمع کروانا ہوں گی ،غلط یا چھپی ہوئی معلومات پر کارروائی ہو سکتی ہے ،کوئی افسر ایسا کام نہیں کرے گا جس سے ذاتی مفاد اور سرکاری ذمہ داری میں ٹکراؤ ہو،ایسے کیس میں خود کو فیصلے سے الگ کرنا ہوگا۔نوٹیفیکیشن  کے مطابق سرکاری ملازمین  کیلئے اپنی آمدن سے زیادہ پرتعیش زندگی گزارنا یا فضول خرچی کرنا قابلِ قبول نہیں،بڑی تقریبات کے اخراجات کی وضاحت دینا ہوگی ،اگر کسی افسر پر کیس بنے یا گرفتاری ہو تو فوراً اطلاع دینا ضروری ہے۔اسی طرح  سرکاری معلومات کی حفاظت ،بغیر اجازت سرکاری معلومات یا دستاویزات شیئر نہیں کی جا سکتی  ،کسی بھی پالیسی کو نقصان پہنچانے کیلئےمعلومات لیک کرنا جرم ہوگا،سرکاری معلومات کو ذاتی فائدے کیلئےاستعمال نہیں کیا جا سکتا،کوئی سرکاری ملازم سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا،الیکشن میں حصہ لینا، مہم چلانا یا اثر انداز ہونا منع ہے،ووٹ ڈال سکتے ہیں مگر اپنی رائے ظاہر نہیں کرینگے ،سرکاری ملازم  کیلئےفرقہ واریت یا تعصب پھیلانا بھی  ممنوع  قرار دیا گیا ہے،اسی طرح  نظریہ  پاکستان کیخلاف بات نہیں کی جا سکتی، حکومتی فیصلوں کیخلاف مظاہروں میں حصہ نہیں لیا جا سکتا،سفارش، اقربا پروری اور جانبداری ممنوع ہے،ذاتی فائدے کیلئےغیر ملکی سفارت خانوں یا اداروں سے رابطہ کرنا منع ہے، سرکاری ملازم کو ہر وقت باوقار، ذمہ دار اور پیشہ ورانہ رویہ اختیار کرنا ہوگا اور وہ جھوٹی شکایات سے گریز کریگا۔