ایران کیخلاف جنگ کی بحالی کا فیصلہ ٹرمپ کےہاتھ ہے:امریکی وزیر جنگ

واشنگٹن ( پینٹاگون، امریکی محکمہ دفاع، بین الاقوامی میڈیا)امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ ایران کیخلاف جنگ کی بحالی کا حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے، جبکہ فی الحال جنگ بندی برقرار ہے۔

پینٹاگون میں بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ایران نے جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے اور اسے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق امریکا نے آپریشن “پروجیکٹ فریڈم” کے تحت آبنائے ہرمز میں دفاعی حصار قائم کر دیا ہے۔

ہیگستھ نے کہا کہ یہ اقدام عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے اور امریکا اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ سمندری راستے کھلے رہیں۔ ان کے مطابق امریکا نے ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت کو روکا اور کچھ کشتیوں کو واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی گزرگاہ ہے اور ایران کا اسے کنٹرول کرنے یا رکاوٹ ڈالنے کا دعویٰ ناقابل قبول ہے۔امریکی وزیر جنگ کے مطابق اگر ایران نے کمرشل شپنگ پر حملے جاری رکھے تو سخت ردعمل دیا جائے گا، تاہم امریکا جنگ نہیں چاہتا اور موجودہ اقدامات دفاعی نوعیت کے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کی سرگرمیوں کے باعث ہزاروں ملاح متاثر ہوئے ہیں اور امریکا کارگو کمپنیوں کے ساتھ مل کر پھنسے ہوئے بحری جہازوں کی بحفاظت واپسی کے لیے کام کر رہا ہے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق “پروجیکٹ فریڈم” صدر ٹرمپ کے حکم پر شروع کیا گیا ہے تاکہ آبنائے ہرمز میں تجارتی آمد و رفت بحال رکھی جا سکے۔امریکی حکام کے مطابق خطے میں موجود افواج صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی بڑے تصادم کی صورت میں فوری ردعمل کے لیے تیار ہیں۔