وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ملکی نظام کے حوالے سے بات کہی ہے اور منہ سے نکلی آسمان چڑھی کے مطابق اس پر ملک اور ملک سے باہر ہنگامہ کھڑا ہو گیا، حتیٰ کہ حکومت کے آنے اور جانے کی باتیں ہونے لگیں۔ ہمارے آج کے دور میں صحافت بھی اپنے ہی زمانے کی ہے اور یہاں بھی بڑے بڑے ”باخبر“ صحافی موجود ہیں، جن کی لکھی اور کہی باتیں ایک کہانی کی طرح مشہور ہوتی ہیں،بہرحال رات گئی بات گئی والی بات تو نہ ہوئی، البتہ ٹھنڈ ضرور ہوگئی، اس اثناء میں پاک، سعودی، ترکیہ ”مکہ معاہدہ“ ہو گیا اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ ایک صفحہ میں دراڑ آنے کی بات بھی ہوا ہو گئی اور پھر سے ”ستے خیراں ہیں“ والا سلسلہ چل رہا ہے۔
میں اس مسئلہ پر کوئی تحریری تقریر تو نہیں کرنے والا لیکن ایک ایسے امر کی طرف توجہ دلانا ضرور سمجھتا ہوں کہ جس کے بارے میں تجزیہ کرنے والوں نے کچھ نہیں کہا، بات نظام پر ہوتی رہی یہ کوئی نہیں کہہ رہا اگر اس نظام کا بیڑہ غرق ہوا تو یہ کس نے کیا۔ میرے خیال میں کوئی نظام یا معاشرہ فرد سے بنتا ہے یہ فرد اگر ٹھیک ہوتو نظام بھی ٹھیک رہتا ہے ورنہ بات یہی ہوتی ہے کہ قانون موجود ہیں، نئے بھی منظور ہوجاتے ہیں مگر عمل درآمد والے افراد ہی ٹھیک نہ ہوں اور اپنا کام دیانت داری سے نہ کریں تو نظام کیسے بن سکتا ہے اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ قانون نہیں قانون پر عملدرآمد لازم ہے۔
ہمارے ہاں جو ادارے ہیں، ان کا نظام بھی تو فرد مل کر چلاتے ہیں اور یہی افراد برائی بھی پیدا کرتے ہیں۔اس امر سے اندازہ لگا لیں کہ ایک فرد (اے ایس آئی) نے ذہنی طور پر معذور بچی کے ساتھ تھانے کے اندر زیادتی کی، اس تھانے کے کسی اور فرد نے اسے روکنے کی کوشش تک نہ کی، ایک اور تھانے میں دو نوجوان غریب لڑکیاں مر گئیں۔ کسی کے ماتھے پر پسینہ نہ آیا،مکمل صحت مند نوجوان لڑکیاں اچانک کیسے مر گئیں۔مکمل تحقیق نہ ہوئی۔ وہ غریب ہی سہی لیکن کسی ماں اور باپ کی لخت جگر تو تھیں اور پھر جس طرح اس معاملے کو ٹھپ دیا گیا وہ بھی حیرت انگیز ہے۔
یہ تو پسماندہ اور نچلے طبقے کی بات تھی لیکن کراچی کے نوجوان تاجر کی موت کوشش کے باوجود نہ چھپائی جا سکی کہ والدین نے خودکشی والی پہلی کوشش کو ناکام بنا دیا اور اب نئی ٹیم نئے انداز سے ”اغوا اور قتل“ کے الزام میں تفتیش کررہی ہے۔ ان امور میں اگرچہ مجموعی طور پر پولیس کے کردار پر تنقید ہو رہی ہے لیکن یہ بھی تو افراد ہی ہیں جنہوں نے الگ الگ یا مل جل کر نظام کا ستیاناس کیا اور قانون و اختیار کو مذاق بنا دیا، اب حالات دیگر ہیں، کیا یہ سب لاہور کے تھانے میں جاں بحق ہونے والی بچیوں کے سلسلے میں بھی نہیں ہو سکتا لیکن فرد اور افراد ایسا نہیں چاہتے تو پھر نظام اور ”دولت کدہ انصاف“ کیا کرے گا۔
صبح کو گھر سے دفتر کے لئے نکلیں یا واپس جائیں تو ٹریفک پولیس کے مستعد جوان ٹریفک کا بہاؤ بحال رکھنے کی بجائے لوگوں کو روک کر چالان کرنے میں مصروف نظر آئیں تو اس میں نظام کا کیا قصور، یہ بھی تو اس ایک فرد کا کارنامہ ہے جس نے ان سب کو اس کام پر لگا رکھا ہے، اس سلسلے میں دلچسپ امر یہ ہے کہ جس جس سگنل والے چوراہے پر بھی سیف سٹی کے کیمرے بحال ہیں،جہاں کے سگنل کی بتی سرخ اور سبز ہونے کے اوقات ٹریفک لوڈ کے مطابق نہیں ہیں بلکہ جن اطراف سے زیادہ گاڑیاں گزرتی ہیں ان اطراف کے سگنل کے سبز اور پھر سرخ ہونے کے اوقات کم تر کر دیئے گئے ہیں کہ تین سے چار گاڑیاں ہی سلامتی سے گزرتی ہیں اور ان کے پیچھے ایک آدھ گاڑی ہر بار سرخ بتی کا شکار ہوجاتی اور ای چالان ہو جاتا ہے یوں تعداد اور آمدنی بڑھتی رہتی ہے۔ وقت کا اس طرح تعین کرنے والابھی تو فرد ہے اور اس عمل کونظر انداز کرنے والے بھی افراد ہی ہیں۔
چلیں بات فرد سے افراد اور اداروں کی بھی کرلیتے ہیں، ہمارے ملک میں آج کل معمر پنشنر سراپا احتجاج ہیں، یہ بھی دو طرح کے ہیں، ایک وہ ہیں جو اپنی عمر بھر کی کمائی سے ہونے والی کٹوتی میں سے پنشن کی رقم بڑھانے کے لئے واویلا کررہے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جن کی پنشن میں صرف سات فیصد اور ساڑھے تین فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ افراد اپنی زندگی کی گاڑی گھسیٹنے کے لئے اضافہ چاہتے اور جو ان کی محنت اور ان کے اثاثوں پر عیش کرتے اور سانپ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں، وہ تو فرد اور افراد ہی ہیں، اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر زیادہ واویلا بڑھاپے کی پنشن (ای اوبی آئی) والے بابے کررہے ہیں جن کو ماہانہ صرف ساڑھے گیارہ ہزار روپے ملتے ہیں اور یہ خود ان کی اس رقم کے عوض دیئے جاتے ہیں جو ان کی ملازمت کے دوران ان کی ماہانہ آمدنی میں سے کٹتے اورآجر بھی اپنا حصہ دیتا، کیا یہ بھی نظام کا قصور ہے؟ اس فرد یا افراد کی ”نیاز مندی“ ہے جو خود عیش کررہے ہیں، ای او بی آئی ایک باقاعدہ قانونی نظام ہے جو 1976ء میں قانون کے ذریعے رفاہی مقاصد کے لئے بنایا گیا، اس کے تحت ہر وہ ادارہ یا فیکٹری جس کے پاس 25یا 25سے زیادہ ملازم ہیں اسے ادارہ ای او بی آئی کے پاس رجسٹر ہونا اور ملازمین کا باقاعدہ اندراج کرانا لازم ہوتا ہے یہ اجیر اور آجر ایک مقررہ شرح سے ہر ماہ رقوم انسٹی ٹیوشن کے پاس جمع کراتے ہیں اور ایک اور مقررہ تناسب سے حکومت کو (اب وفاقی) اپنی طرف سے ریلیف کے طو رپر رقم دینا ہوتی ہے۔ ای او بی آئی کا ادارہ ایک امانت دار ادارہ ہے جس کے ذمہ یہ رقوم جمع کرکے ملازم کی ریٹائرمنٹ کے بعد اسے بڑھاپے کی پنشن کے طور پر ماہانہ پنشن دینا ہوتی ہے۔
اب ذرا اس ادارے کے سربراہ فرد کے بارے میں بات کریں تو اسے چیئرمین کہاجاتا ہے، اس کے ساتھ ایک بورڈ آف ٹرسٹی ہے، پھر متعدد ڈائریکٹر، سینکڑوں افسر اور ملازم ہیں، یہ سب بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات اسی ادارے اور آجرو اجیر کی جمع رقوم سے لیتے ہیں، آج تک ان کا آڈٹ سامنے نہیں آیا کہ پتہ چلے کون کیا ہے، کس فرد کو کیا ملتا ہے؟ حال ہی میں دو تین سو نئے افسر بھرتی کئے گئے کہ اب بہتر کام ہوگا، یہ بھی توافراد ہیں اور وہ جو اربوں روپے خورد برد کرگئے وہ بھی تو فرد ہی ہیں اور اب حکومت کئی سال سے اپنا جو حصہ نہیں دے رہی وہ بھی تو کسی فرد کے ماتحت محکمے کی کارروائی ہے۔
اس وقت اس ادارے کے پاس سات سو ارب روپے سے زیادہ نقدی اور قریباً اتنے ہی اثاثے ہیں، اب اس ادارے پر بیٹھے فرد صاحب یہ موجود رقم سیاحت کے شعبہ میں کھپانے کی فکر میں ہیں اور اس کے نگران وزیر بھی تو فرد ہیں جو اس تجویز پر غور کا وعدہ کرچکے ہیں، اگر کسی کی نہیں سنی جا رہی تو وہ معمر افراد ہیں جو گیارہ ہزار پانچ سو روپے ماہانہ انتہائی کم ہوتے ہوئے مزدور کی کم از کم سرکاری تنخواہ کے مطابق ماہانہ پنشن مانگتے ہیں اور نہ دینے والے بھی تو فرد ہی ہیں، اسی طرح ایک ادارہ نیشنل پریس ٹرسٹ ہے جو ٹرسٹ کی آمدنی پر سانپ بن کر بیٹھا ہے۔ اس کے ایک اکاؤنٹ والے افسر اتنے مہربان ہیں کہ چند لوگوں کی پنشن بھی بروقت ادا نہیں کرتے انہوں نے جدید ڈیجیٹل نظام کو شکست دے دی اور ہر ماہ 10تاریخ کے بعد ادائیگی پر بضد ہیں۔
قارئین! بات یہاں ختم کرتے ہیں، نظام بُرا نہیں، اسے چلانے والے افراد کواپنے اعمال پر غور کرنا ہوگا!

