پاکستان کو قائم ہوئے آج 79برس ہو چکے ،ہر طرف گہماگہمی ہے، اربوں روپے لگا کر تقریبات کا اہتمام کیا جارہاہے، کہیں باجوں کو شور ہے تو کہیں سائلنسر نکلے موٹر وہیکلز کا ، کہیں سرکار کی اشتہاری مہم کا کہ ہم نے یہ کردیا ،وہ کر دیا،،، لیکن عملی کام کہیں دکھائی نہیں دیتا،،، ملک کی عالمی سطح پر رینکنگ ٹس سے مس نہیں ہورہی ،،، حالانکہ یہ ملک جن عظیم قربانیوں کے عوض ملا، شاید ہم نے اُس کا عشر عشیر بھی نہیں حاصل کیا۔ لیکن جشن منانے میں ہم سے کوئی آگے نہیں ہے،،، ویسے ہم جشن کس چیز کا منائیں؟ کیا حاصل کیا ہے؟ ہمارا حال تو یہی ہے کہ ہم جس گھر میں رہتے ہیں، اُس کی باہر سے صفائی کر رہے ہیں، کبھی ہم گھر کے سامنے کی صفائی کرتے ہیں، کبھی پیچھے کا کوریڈور صاف کردیتے ہیں، کبھی دائیں بائیں کی صفائی کرنے کی کوشش کرتے ہیں،،، لیکن گھر کے اندر کی صفائی کرنے کو ترجیح ہی نہیں دیتے،،، 14اگست پر ہم فخر کر رہے ہوتے ہیں کہ ہم نے شاندار کامیابیاں حاصل کیں،،، لیکن میں پوچھتا ہوں کہ کون سی کامیابی ابھی تک ہم نے حاصل کی ہے؟
کبھی ہم فخر کرتے ہیں کہ ہم ایٹمی طاقت ہیں، کبھی ہم کہتے ہیں کہ دنیا میں ہمارا بہت نام بن گیا ہے،، کبھی ہم کہتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے ثالث ہم ہی ہیں،،، لیکن جب ہم اپنے پاسپورٹ کو دیکھتے ہیں تو وہ105ممالک میں سے 101ویں نمبر پر ہے، یعنی پاکستان دنیا کے چوتھے کمزور ترین پاسپورٹ کی حیثیت رکھتا ہے؛ اس سے نیچے صرف افغانستان، شام اور عراق ہیں۔جبکہ اس سال کے آغاز میں یہ 98ویں نمبر پر تھا، یعنی بہتری کیا ہونی تھی،،، بعد میں تین درجے نیچے آیا۔حالانکہ جن کو ہم اسلحہ سپلائی کرتے ہیں، جن کی حفاظت کے ہم ٹھیکے لیتے ہیں، جن کو ہم ٹیکنالوجی فراہم کرتے ہیں،،، اُن کے پاسپورٹ ہم سے بہتر ہیں،، ویسے تو ہم ماشاءاللہ سچ بولنے والے ممالک آخری نمبروں پر ہیں، کرپٹ ترین ممالک کی فہرست میں ہم پہلے 10نمبروں میں ہیں،،، منظم ممالک(Well Managed) کی فہرست میں ہمارا نام ہی نہیں آتا،،، عدلیہ کی رینکنگ میں ہمارا نمبر 144واں ہے،،، چلیں میں ان چیزوں کی توبات ہی نہیں کررہا ،،، کیوں کہ سب سے پہلے آپ کی شناخت اور ورتھ آپ کے پاسپورٹ سے ہوتی ہے،،، لوگ آپ کے پاسپورٹ کو دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں کہ اس ملک کا سفر کرنا چاہیے یا نہیں،،، وہ یہ جان لیتے ہیں کہ یہ ملک محفوظ بھی ہے یا نہیں ،،، اور یہ عالمی رینکنگ اتنی معتبر ہوتی ہے کہ وہ آپ کے ملک کے حالات دیکھ کر کہ آپ کتنے پرامن لوگ ہیں،،،ہر چیز کو پرکھ کر پھر رینکنگ کرتے ہیں،،، وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ آپ اپنے شہریوں کے کتنے حقوق ادا کر رہے ہیں،،، پھر وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آیا عوام کا طرز زندگی کیسا ہے؟ پھر دیکھتے ہیں کہ امن و امان کی کیا صورتحال ہے؟ ٰرینکنگ ہمارے جیسے کسی سفارشی ملک کی بنیاد پر تیار نہیں ہوتیں بلکہ میرٹ پر تیار کی جاتی ہیں،،، تبھی تو اس وقت امریکا دنیا پر حکومت کر رہا ہے،،، وہ بھی اپنا پاسپورٹ نمبر ون پوزیشن پر نہیں لا سکا،،،
بہرحال ہمیں جشن آزادی ضرور منانی چاہیے لیکن اس دن کے مقصد کو بھی نہیں بھولنا چاہیے، ،، مقصد یہ ہے کہ اگر آپ سرکار میں ہیں تو آپ نے عام آدمی کے حقوق کا خیال رکھنا ہے، اگر آپ عام شہری ہیں تو آپ نے اپنے وطن کی حفاظت کا ذمہ اُٹھانا ہے،، لیکن فی الحال تو ہمارا کوئی شہری حلال کی کمائی سے بجلی کا بل بھی دینے سے قاصر ہے،،، حلال کی کمائی سے بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے نہیں کر سکتا،،، حلال کی کمائی سے وہ گھر نہیں چلاسکتا،،، تو مجھے بتائیں کہ ہم کس چیز پر فخر محسوس کر رہے ہیں؟ ہماری پولیس ماورائے عدالت قتل کررہی ہے،،، تھانوں میں ریپ ہورہے ہیں،،، لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا،،، طاقتور کی عزت ہے، کمزور بیچارے کو دبا لیا جاتا ہے،،، امن و امان کی حالت انتہائی مخدوش ہے،،، ہمارے ملک کے کم از کم دو خطے( بلوچستان اور کشمیر )ایسے ہیں کہ جہاں ہم جا ہی نہیں سکتے،،،ہماری سیاسی پارٹیاں اپنی مرضی کے بیوروکریٹس لگواتی ہیں، مرضی کے جج لگواتی ہیں، مرضی کے ایس ایچ اوز یا پولیس آفیسرز لگواتی ہیں تو پھر ایسی صورت میں یہ ملک کیا خاک ترقی کرے گا؟
لیکن اس کے برعکس ہمیں صرف جشن منانا ہے،،، چاہے وہ کسی بھی قیمت پر ہو،،، پھر صحیح کہا گیا ہے کہ ہم محض میلے ٹھیلوں والی قوم ہیں،،، ہمیں بس شغل چاہیے،،، ہم نے اپنی قوم کو دماغی اور معاشی طور پر اتنا مفلوج کر دیا ہے، کہ ہمیں حلال اور حرام کی تمیز ہی ختم ہو چکی ہے،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے پیشہ ور قاتل کو شروع شروع میں قتل کرنا برا لگتا ہے،،، لیکن بعد میں وہ اس کا عادی ہو جاتا ہے،،، ہماری قوم کو بھی شروع شروع میں ضرور تکلیف ہو ئی ہوگی،،، یعنی جب 1980ءکی دہائی میں کرپٹ حکمرانوں نے اقتدار سنبھالا تو اُسی وقت قوم بھی کرپٹ ہونا شروع ہوگئی تھی،،، مجھے یاد ہے کہ من حیث القوم لوگ رنجیدہ تھے کہ یہ کیا ہوگیا ہے؟ اوپر سے نیچے تک ہر جگہ پیسہ چل رہا ہے،،، لیکن بعد میں وہ عادی ہوگئے،،، نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ اُس وقت کے سیاستدانوں کی جائیدادیں کیا تھیں؟ کوئی وہ محل چھوڑ کر فوت ہوئے،،، لیکن اب کیا ہو رہا ہے؟ اب پولیس، واپڈ، کسٹم اور دیگر محکموں میں لوگ اپنے بچوں کو بھرتی ہی اس لیے کرواتے ہیں تاکہ وہ حرام یا حلال طریقے سے پیسہ کما سکیں،،، جب قوم کا مائنڈ سیٹ ہی یہ بن گیا ہے تو پھر آپ اپنی قوم سے ایسی اُمید لگاتے ہی کیوں ہیں کہ وہ ترقی کرے گی؟
لہٰذاہم 14اگست کیا منائیں؟ آپ لاکھ بھی کہیں، ہم سے خود فریبی ہوتی ہی نہیں،،، کہ ہم جھوٹے جشن منائیں،، ہاں! ہمیں پاکستان بننے کی اُتنی ہی خوشی ہے جتنی ایک عام محب وطن پاکستانی کو ہونی چاہیے،،، لیکن یہ وقت جشن کا نہیں، اپنے آپ کو سدھارنے کا ہے،،، غلط کو غلط کہنے اور صحیح کو صحیح کہنے کا ہے،،، ورنہ ہم دنیا تو کیا اپنے ہمسایہ ممالک سے بھی بہت پیچھے رہ جائیں گے،،، بلکہ رہ چکے ہیں،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ ہمارے ہمسائے میں افغانستان ہم سے بہتر حالت میں ہے۔ ایران ساری عالمی پابندیوں کے باوجود اپنے شہریوں کی زندگی آسان کررہا ہے۔ بھارت اپنے تعصبات کے ہوتے ہوئے اپنی عوام کو معیاری زندگی دے رہا ہے۔ اس کے زر مبادلہ کے ذخائر کہیں زیادہ ہیں۔بنگلہ دیش جسے گداگر کا کشکول کہا جاتا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو سنبھال لیا ہے۔ ملائشیا ہم سے بعد میں آزاد ہوا ہے۔ اسے مہاتیر نے استحکام دے دیا ہے۔ چین ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا ہے۔ وہ اب دنیا کی دوسری معیشت بن گیا ہے۔
لیکن اس کے برعکس یہاں ترقی تو دور کی بات ، نفرتوں کے بیج بو دیے گئے ہیں، آج 76 سال بعد بہت سی مایوسیاں ہیں۔ بے کسی ہے۔ بے بسی ہے۔اور رہی سہی کسر پاکستان کی سب سے مقبول جماعت کو بزور قوت کھڈے لائن لگا کر نکال دی گئی ہے۔ پہلے بلوچستان کے دانشور اور نوجوان ملکی بد حالی کے ذمہ داروں کی نشاندہی کرتے تھے۔ ہم نہیں مانتے تھے۔ سندھ کے قوم پرست۔ سندھ کے شاعر۔ کہانی کار واضح کرتے تھے کہ محرومیوں میں مبتلا کس نے کیا ہے۔ ہم اتفاق نہیں کرتے تھے۔ سرحد کے جانباز۔ نثر اور نظم میں نشاندہی کرتے تھے کہ معیشت کو پٹڑی سے کس نے اتارا۔ ہم تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اسی میں چھ دہائیاں گزر گئیں۔ اب ساتویں دہائی میں پنجاب سے بھی چھوٹے صوبوں کی طرح یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ ہماری ناکامیوں کے اسباب کیا ہیں۔ یقیناً یہ فیصلہ کن گھڑی ہے۔ ہم کسی کو سرحدی گاندھی کہتے رہے۔ کسی کو بلوچی گاندھی اور کسی کو سندھی گاندھی کا خطاب دیتے رہے۔ اپنی غلطیوں کی اصلاح نہیں کی۔ اپنے آپ کو عقل کل سمجھا ہے۔
ہم بددیانتیوں کی وجہ سے آج دنیا میں رسوا ہو رہے ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو جھوٹ بولنے والوں میں سب سے آگے ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ انصاف دینے والوں میں سے بھی نہیں ہیں، دنیا کہتی ہے کہ یہ سانحہ ماڈل ٹاﺅں کے شہدا کو آج تک سزا نہ دے سکے،یہ سانحہ ساہیوال کیس میں کسی کو سزا نہ دے سکے۔ بلکہ دنیا کے سامنے ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے بھٹو جیسے لیڈر کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا ، ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے قائداعظم کو صحیح علاج معالجہ نہ دے سکے ، ہم شرمندہ ہیں کہ بعض مقدمات میں تو عدالتیں رات 12بجے بھی کھل جاتی ہیں، مگر لاکھوں مقدمات کے فیصلے کئی کئی سال تک نہیں ہوتے، ہم شرمندہ ہیں کہ یہاں عدالتیں بھی چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ ورنہ کسی کی کیا جرات کہ وہ ایک روپے کی بھی کرپشن کر سکے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ کئی بے گناہ جیل میں ہی مر گئے، اور مرنے کے بعد اُن کی رہائی کے احکامات جاری ہوئے، ہم شرمندہ ہیں کہ یہاں 10روپے کی کرپشن کرنے والے آفیسر کی پروموشن نہیں ہو سکتی مگر کیا انصاف ہے کہ درجنوں مقدمات کا سامنا کرنے والے کو بڑے سے بڑا وزیر بنا دیا جاتا ہے، مطلب جس پر جتنے زیادہ کیسز اُسے اُتنا بڑا عہدہ مل جاتا ہے۔ ہم شرمندہ ہیں کہ مسلم لیگ بھی وہ مسلم لیگ نہیں رہی، اب اس میں لٹیرے زیادہ ہو چکے ہیں، مطلب قائداعظم کی مسلم لیگ اب لٹیروں، چوروں اور سرمایہ داروں نے سنبھال لی ہے، جو جتنا پیسہ لگائے گا، اتنا ہی کمائے گا۔ پیپلزپارٹی بھی بھٹو کی پیپلزپارٹی نہیں رہی بلکہ وہاں ڈیلنگ کرنے والے بہترین دماغ بیٹھے ہیں، جنہیں نہ تو عوام سے کوئی سروکار ہے اور نہ ہی اُن کا عوامی مسائل سے کوئی لینا دینا۔
اے کا ش کہ ہمارے حکمران بھی دنیا کیلئے بالکل اُسی طرح مثال بن جاتے جس طرح ایک جھوٹ بولنے پر صدر نکسن کو گھر بھجوادیا جائے، جس طرح جھوٹ بولنے پر صدر کلنٹن کا مواخذہ ہو جائے،جس طرح تحفے میں ملی دو عینکیں ڈکلیئر نہ کرنے پر کینیڈین وزیراعظم کی تفتیش ہو، وہ جرمانہ بھرے، جس طرح سلووینیا کا سیاستدان ایک سینڈ وچ چوری کرنے پر پارلیمنٹ کی رکنیت کھو بیٹھے ،جس طرح سرکاری خرچ پر ناشتہ کرنے پر فن لینڈ کی وزیراعظم انکوائریاں بھگتے، جس طرح صوابدید سے زیادہ فنڈز اپنے حلقے میں خرچ کرنے پر برطانوی پارلیمنٹرین کی رکنیت چلی جائے، جس طرح انتخابات میں زیادہ پیسے خرچ کرنے پر فرانسیسی صدر سرکوزی کو سزا ہو جائے، جس طرح کورونا رولز کی خلاف ورزی کرکے پارٹی کرنا برطانوی وزیراعظم کو لے ڈوبے لیکن 14اگست ہم تم سے شرمندہ ہیں کہ یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں اربوں روپے ڈکارنے کے بعد بھی اقتدار ملتا ہے اور درجنوں قتل کرنے کے بعد بھی وزارتیں مل جاتی ہے اور خان جیسے سیاستدان رگڑے میں آجاتے ہیں کہ وہ ”بے ایمان“ ہیں! واہ رے قسمت!

