لندن (انڈیپینڈنٹ اینٹی سلیوری کمشنر، یورپی کونسل رپورٹ، برطانوی میڈیا)برطانیہ میں جدید غلامی کے کیسز ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں اور آئندہ دہائی میں اس میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
انڈیپینڈنٹ اینٹی سلیوری کمشنر ایلیون لیونز کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں ممکنہ متاثرین کی تعداد تقریباً دگنی ہو گئی ہے، جو 2021ء میں 12 ہزار 691 سے بڑھ کر 2025ء میں 23 ہزار 411 تک پہنچ گئی، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غربت، عالمی عدم استحکام، تنازعات، نقل مکانی اور محفوظ ہجرت کے راستوں کی کمی لوگوں کو زیادہ کمزور بنا رہی ہے، جس سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کرپٹو کرنسی کے بڑھتے استعمال سے استحصال کے طریقے مزید منظم اور پیچیدہ ہو رہے ہیں، جبکہ آن لائن فراڈ، جبری مشقت اور جنسی استحصال کے نئے رجحانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
رپورٹ میں زرعی شعبے، تعمیرات اور کان کنی میں جبری مشقت، گیگ اکانومی کے پھیلاؤ اور تولیدی استحصال جیسے خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔یورپی کونسل کے ماہرین کے گروپ نے بھی انسانی اسمگلنگ کے متاثرین میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہوئے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ قوانین، پالیسیوں اور عملدرآمد کو مزید مؤثر بنائے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مجرمانہ نیٹ ورکس مزید منظم، پوشیدہ اور طاقتور ہو جائیں گے، جس سے ان کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے گا۔دوسری جانب برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ حکومت جدید غلامی کے نظام کا جائزہ لے رہی ہے، کیسز کے بیک لاگ کو کم کرنے اور متاثرین کی مدد کیلئےاقدامات کیے جا رہے ہیں۔

