بھارتی حکومت نے طلبہ کے مطالبات پر جواب دینے کیلئے مہلت مانگ لی

نئی دہلی (رائٹرز، اے ایف پی، پی ٹی آئی، دی ہندو) بھارتی حکومت نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے مطالبات پر جواب دینے کے لیے کل دوپہر تک مہلت مانگ لی ہے، جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے وزیر اعظم نریندر مودی کا بیان مسترد کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے مستعفی ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان نے حکومتی نمائندوں سے ملاقات کے بعد کہا کہ حکومت نے مطالبات پر جواب دینے کے لیے کل دوپہر تک کا وقت مانگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج میں مزید شدت لائی جائے گی۔

ترجمان نے کہا کہ اگر وزیرِ تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جائے گی اور دھرمیندر پردھان کو اپنے عہدے سے الگ ہونا ہوگا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت جلد از جلد وزیرِ تعلیم کو عہدے سے ہٹا دے گی۔

ترجمان کے مطابق حکومتی نمائندوں نے خودکشی کرنے والے طلبہ کے لواحقین کو مالی امداد دینے اور 20 جولائی کو ہونے والے مارچ میں شریک نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب بھارتی اپوزیشن نے احتجاج کرنے والے نوجوانوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ پارلیمنٹ میں نوجوانوں پر مبینہ پولیس تشدد کے معاملے پر اپوزیشن کے احتجاج کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شور شرابا ہوا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی معطل کر دی گئی۔

بھارتی چیف جسٹس نے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کی ویڈیوز نہ دیکھنے کے معاملے پر کہا کہ ان کے سامنے اس حوالے سے کوئی آئینی درخواست دائر نہیں ہوئی، صرف ایک وکیل کا خط موصول ہوا تھا۔

رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کے بیان کے اگلے روز بھارتی حکومت کی جانب سے طلبہ کی مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات سے متعلق درخواست پر فوری سماعت منظور کر لی گئی۔