پرچہ لیک معاملہ: بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا مزید سخت اقدامات کا اعلان

نئی دہلی (رائٹرز، اے ایف پی، پی ٹی آئی، دی ہندو) پرچہ لیک کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے مزید سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری ویڈیو بیان میں نریندر مودی نے کہا کہ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران حکومت نے متعدد اقدامات کیے، پرچہ لیک میں ملوث افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیجا گیا، جبکہ 22 لاکھ طلبہ کے امتحانات بروقت دوبارہ منعقد کرائے گئے تاکہ ان کا ایک سال ضائع نہ ہو۔

مودی نے کہا کہ پرچہ لیک کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کی منظوری متعلقہ محکموں نے دے دی ہے۔ اس معاملے پر آج وفاقی کابینہ میں بھی غور کیا جائے گا، جس کے بعد حتمی مسودہ تیار کر کے پارلیمنٹ کے دوسرے ہفتے میں متعلقہ بل منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی۔

دوسری جانب بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے مودی کے بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ اب بھی وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق پرچہ لیک کے معاملے کے بعد حکومت نے تعلیمی محکمے میں متعدد انتظامی تبدیلیاں بھی کی ہیں۔رپورٹس کے مطابق احتجاج کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی کے نمائندوں اور حکومت کے درمیان آج ملاقات بھی متوقع ہے۔

تنظیم کے کارکن گزشتہ کئی ہفتوں سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہے ہیں اور وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ 6 جون سے جاری اس احتجاج میں بڑی تعداد میں نوجوان شریک ہیں، جو صرف نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں ہی نہیں بلکہ بے روزگاری اور سرکاری امتحانات میں اصلاحات کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔