کراچی(نامہ نگار)بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں مبینہ ساڑھے 8 ارب روپے کی کرپشن کے مقدمے میں گرفتار سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 روز کی توسیع کر دی۔
دوران سماعت تفتیشی افسر نے عدالت سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ مقدمے میں ایک ملزم مفرور ہے، جس کی گرفتاری کیلئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے، تاہم وہ تاحال گرفتار نہیں ہو سکا۔
ملزم ضمیر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنا بیان قلم بند کرا چکے ہیں اور مطلوبہ ریکارڈ بھی فراہم کر چکے ہیں۔اس پر تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ مزید ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، جو پیر کو موصول ہونے کا امکان ہے، جبکہ ملزم نے اپنی والدہ، اہلیہ اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
سماعت کے دوران ضمیر عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے منصوبے میں ڈسبرسمنٹ بڑھانے کی ہدایت کی گئی تھی، بصورت دیگر فنڈز جاری نہ کرنے کا کہا گیا تھا۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 4 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں یکم جولائی کو دوبارہ متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

