بھارت میں ڈیڑھ ماہ کے دوران 23 مساجد، مدارس اور درگاہیں مسمار

نئی دہلی (بھارتی میڈیا)بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کیخلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران ایک ہزار سال پرانی مسجد سمیت 23 مساجد، مدارس، درگاہوں اور عید گاہوں کو مسمار کر دیا گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ 45 روز کے دوران یہ کارروائیاں دہلی، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات، راجستھان اور ہریانہ سمیت مختلف ریاستوں میں تجاوزات کے خاتمے اور سڑکوں کی توسیع کے نام پر کی گئیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور متاثرہ فریقوں کو عمارتیں گرانے سے قبل مناسب نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون اور انتظامی ضابطوں کے مطابق کی جا رہی ہیں۔امریکی تنظیم جسٹس فار آل نے بھی حالیہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت میں مذہبی آزادی اور قانون کے مساوی اطلاق کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔