17 اگست کادن ہر سال آتا ہے اور خاموشی سے گزر جاتا ہے، لیکن 17اگست 1988پاکستان کی تاریخ میں کوئی عام دن نہیں ہے۔ یہ محض دیوار پر لٹکے ہوئے کیلنڈر کی تاریخ بدلنے کا دن نہیں، بلکہ وطنِ عزیز میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے داعی، پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانیوالے اور ملک کو اقوامِ عالم میں ممتاز مقام دلانے والے معمارِ قوم، صدر جنرل محمد ضیا الحق شہید کی یاد کا دن ہے۔ جنرل ضیا الحق کے دورِ حکومت میں جہاں ایک طرف افغانستان کو غاصب سوویت یونین کی غلامی سے نجات دلانے کا معرکہ لڑا گیا، وہیں دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزادی دلانے کا پختہ عزم بھی کیا گیا۔ پاکستان کے دشمنوں کو یہ بات کسی طور پسند نہیںتھی، چنانچہ ایک منظم اور گہری عالمی سازش اور انکے مقامی سہولت کاروں کے ذریعے ہم سے ہمارا بیدار مغز قائد چھین لیا گیا ۔ آج اگر اس گہری سازش کا پردہ اٹھایا جائے تو بہت سے مکروہ چہرے بے نقاب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ صدر جنرل محمد ضیا الحق آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن ملکی سرحدوں کی حفاظت، اندرونی سلامتی اور اسلامی نظامِ زندگی کے عملی نفاذ کیلئے ان کے تاریخی اقدامات آج بھی ایک روشن مثال ہیں۔پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو 7 مارچ 1977ءکے قومی اسمبلی کے انتخابات اس بحران کا نقطہ آغاز تھے، جن میں مخالف امیدواروں کو اغوا کیا گیا اور پولنگ کے دن بدترین اور منظم دھاندلی کی گئی۔ سعودی سفیر ریاض الخطیب نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سمجھوتے کی بھرپور کوششیں کیں، لیکن مسٹر بھٹو حکومت کے تشدد اور طاقت کے استعمال نے حالات کو مزید بگاڑ دیا۔اس نازک صورتحال میں، جب عوام ہر قیمت پر حکومت سے نجات چاہتے تھے اور ملک تباہی کے دہانے پر تھا، پاک فوج نے ملکی سلامتی کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ 5جولائی 1977 ءکو جنرل محمد ضیا الحق نے اقتدار سنبھالا تو عوام نے سکھ کا سانس لیا اور انہیں ایک نجات دہندہ کے طور پر قبول کیا۔ اقتدار میں آتے ہی عوام کی جانب سے ’’پہلے احتساب، پھر انتخاب‘‘کا شدید مطالبہ سامنے آیا۔ صدر ضیا الحق نے ملکی اصلاحات کا آغاز کیا اور سب سے پہلے انگریز دور کے قوانین کی جگہ اسلامی حدود و سزاؤں کے نفاذ کا اعلان کیا اور آئین میں آرٹیکل 62 اور 63 شامل کروا کے سیاسی نظام کو کرپشن اور بددیانتی سے پاک کرنے کی بنیاد رکھی۔ نظریاتی تحفظ کیلئے انہوں نے سارک تنظیم کی بنیاد رکھی، عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کیلئے تاریخی ’’ردِ قادیانیت آرڈیننس‘‘ جاری کیا اور’قراردادِ مقاصد‘کو آئین کا باقاعدہ اور فعال حصہ بنایا۔ بلوچستان میں ماضی کی شورش کو ختم کر کے اسیر بلوچ رہنماؤں کو رہا کیا اور انہیں عزت و احترام دیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار کوئٹہ کو گیس فراہم کی اور مواصلاتی نظام کو استوار کر کے صوبے میں امن و امان اور کاروبارِ زندگی بحال کیا۔1979میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر غاصبانہ قبضہ کیا تو نہ صرف افغان مجاہدین کی بھرپور مدد کی بلکہ 40لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو خوشدلی سے پناہ دی۔ انکی واضح اور دو ٹوک پالیسی کی وجہ سے تمام افغان مجاہدین گروپ انہیں اپنا ہیرو مانتے تھے۔ جنرل ضیا الحق نے 1977ءمیں اقتدار سنبھالتے ہی کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو پاک فوج کی تحویل میں دے دیا اور جنرل اختر عبدالرحمان کی معاونت سے ایٹمی پروگرام کی ایسی حفاظت کی کہ دشمن اس کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ انکے دور میں پاکستان نے کامیابی کے ساتھ’’کولڈ ٹیسٹ‘‘مکمل کر لئے تھے۔ 1984ء میں اسرائیل کیساتھ ملکر اور 1987ءمیں’’براس ٹیک‘‘ نامی عسکری مشقوں کے ذریعے بھارت نے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر حملے کا پورا منصوبہ بنا رکھا تھا، مگر جنرل ضیا الحق نے کرکٹ ڈپلومیسی اور بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کو سخت ترین پیغام دے کر بھارت کو اپنے شوم عزائم سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
مجھے صدر جنرل محمد ضیا الحق کو بطور والد اور بطور حکمران بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان اورسچے عاشقِ رسول ﷺ تھے جنکی ذاتی زندگی پر کبھی کرپشن یا بددیانتی کا کوئی داغ نہ لگ سکا۔ گیارہ سال تک ملک کے مطلق العنان حکمران اور آرمی چیف رہنے کے باوجود ان کی عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے کبھی اپنے خاندان یا بچوںکیلئے کوئی سیاسی منصب، مل، فیکٹری یا جاگیر نہیں بنائی۔جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے کل اثاثے محض دو لاکھ روپے تھے۔17 اگست 1988 ءکو بہاولپور کے قریب سی130 طیارے کے دردناک حادثے میں صدر جنرل محمد ضیا الحق اپنے 29 جلیل القدر فوجی جرنیلوں، افسران اور جوانوں کیساتھ شہید ہو گئے۔ وہ اس وقت بھی اپنی فوجی وردی میں ملبوس تھے اور اسی حالت میں اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ اس حادثے کی تحقیقات کیلئے انکوائری بورڈز اور’’جسٹس شفیع کمیشن‘‘بھی قائم کیا گیا، لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ شہدا کے لواحقین آج تک انصاف کے منتظر ہیں کہ یہ سازش کہاں تیار ہوئی اور اس میں کون ملوث تھا؟ آج جنرل محمد ضیا الحق کے طیارے کا مقدمہ اگرچہ اللہ کی عدالت میں ہے جہاں دیر ہے اندھیر نہیں، مگر تاریخ کے اوراق میں انکی دینی، ملی اور قومی خدمات سدا تابندہ رہیں گی۔
صلہ شہید کیا ہے؟ تب و تابِ جاودانہ!

