آزادکشمیر میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان الفاظ کی جو گولہ باری ہوئی اور تاحال جاری ہے تاہم میری رائے کے مطابق یہ اب رک جائے گی کہ ایک بار پھر ”بھیڈو“ لڑنے سے کترا کر نکل جائے گا اور پنوں دیکھتا رہ جائے گا۔ ”بھیڈو اور پنوں“ کی یہ کہاوت پنجابی کی ہے کہ ”بھیڈو ای ناں لڑے، تے پنوں کی کرے“ آج کے حالات بھی ایسے ہی ہیں۔زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں کہ پنوں کواب رکنا ہی ہوگا اور یہ شاید حالات حاضرہ میں درست ہی ہو،مگر بلاول کی انتخابی مہم اور دونوں جماعتوں کے درمیان نوک جھونک نے ایک بات ثابت کر دی کہ ہر دو جماعتوں کے اکابرین کے دل صاف نہیں ہوئے حالانکہ میثاق جمہوریت میاں محمد نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے درمیان ہوا اور کئی اور جماعتوں نے بھی دستخط کئے۔ مجھے تو اس میثاق جمہوریت کی یہ بات یاد ہے کہ محترم نوابزادہ نصراللہ خان کی سخت کاوش سفر اور بے آرامی سے معاہدہ تو ہو گیالیکن ان کی جان لے گیا بہرحال یہ معاہدہ ”میثاق جمہوریت“ موجود تو ہے لیکن اس کی خاک اڑ رہی ہے، اس کے باوجود 2024ء کے انتخابی نتائج کے بعد جو حکومت بنی وہ اقتدار میں حصہ داری تھی اور اسے اتحادی کہا گیا جبکہ بعض حضرات اسے قومی حکومت بھی کہنے پر مصر ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے بوجوہ کابینہ میں شرکت نہ کی اور آئینی عہدوں پر اکتفا کیا تاہم اس کے باوجود دونوں جماعتوں کے درمیان کئی بار تناؤ ہوا جو کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر طے ہوتا رہا، یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (حکومت) اور تحریک انصاف کے درمیان مخالفت کا انداز یہی رہتا ہے تو پیپلزپارٹی کی حیثیت بھی برقرار رہے گی کہ عددی لحاظ سے پھر پیپلزپارٹی کے ووٹ ہی اہمیت رکھتے ہیں، اگرچہ متحدہ بھی دھمکیاں دے رہی اور اس کے ایک وزیر صاحب ہر دوسرے روز وزارت کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، لیکن عددی لحاظ سے پیپلزپارٹی متحدہ سے کہیں برتر ہے اور اسی لئے یہ اتحاد چلتا چلا آ رہا ہے۔دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ بلاول جس سے مداخلت نہ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اسی کی وجہ سے یہ اتحاد چل بھی رہا ہے تاہم دونوں جماعتوں کے درمیان جو اندرونی کشمکش ہے وہ ظاہر ہوگئی ہے۔ میری رائے ہے کہ اب پھر سے زرداری صاحب اپنے صاحبزادے کو سنبھل جانے کی ہدائت کریں گے اور جو جیالے جھوم جھوم کر برساتی راگ الاپنا شروع کر چکے تھے وہ بھی گنگنانے پر آکر منہ میں گنگنیاں ڈالنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
یہ سب اپنی جگہ لیکن ہر دو جماعتوں کے درمیان وقفہ وقفہ سے ابھرنے والے تنازعات اور اختلافات سے عوام کو یہ اندازہ تو ہو گیا کہ تیسری قوت کی ضرورت تھی اور تحریک انصاف یہی تھی لیکن تحریک انصاف کے بانی عمران خان اپنے مزاج کی وجہ سے حالات کو سنبھال نہ پائے اور اپنے مربیوں سے الجھ کر اقتدار سے محروم ہو گئے اگرچہ خان صاحب نے بھی کوئی بہتر کارکردگی نہیں دکھائی تھی، ان کے کئی کارنامے ملکی حالات میں مہنگے پڑے، معلوم نہیں شاید اس ملک کی مٹی یا آب و ہوا کی تاثیر ہے کہ عوامی خواہشات کچل دی جاتی ہیں اور خان صاحب سے بھی یہی کچھ ہوا، وہ اپنے مزاج سے مجبور ہیں اور اسی وجہ سے آج کے حالات میں پھنسے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی میں غلط فہمیاں پیدا کی گئیں اور جماعتی کیڈر میں یہ سوچ پیدا ہوئی کہ مسلم لیگ (ن) ہائی برڈ نظام کا فائدہ اٹھا کر خودمختار طرز عمل اختیار کر چکی اور اپنی بڑی اتحادی جماعت کو بھی نظر انداز کررہی ہے۔ اس سلسلے میں جماعت کے اندر ان خود ساختہ خبروں اور افواہوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے جو صدر زرداری کو عہدہ سے ہٹانے کے حوالے سے چلتی رہی ہیں، جیالے یہ الزام بھی حکومتی حلقوں پر ہی لگاتے تھے، جہاں تک بلاول بھٹو کا تعلق ہے تو وہ بھی اپنے نانا کی طرح دہری شخصیت اور کردار کا شکار ہوکر رہ گیا ہے، ان کی حالیہ تقریر بھی عکاسی کرتی ہے جس میں انہوں نے کہا میں زرداری کابیٹا اور میرمرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کابھانجا ہوں اور محترمہ شہید کی سیاست کرنا چاہتا ہوں جو حضرات اس خاندان اور 1970ء سے 1977ء تک حالات و واقعات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور میر مرتضیٰ بھٹو کے درمیان کوئی نکتہ بھی مشترکہ نہیں تھا، یوں اگر بلاول انہی شخصیت کے کرداروں پر غور و عمل کرتے ہیں تو پھر یہ بڑا تضاد ہے اسی لئے کہ اب تک تو ”پاکستان کھپے“ ہی چل رہا ہے۔
بلاول بھٹو کی یہ بات میں درست مانتاہوں کہ ان کی خواہش والدہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی سوچ کے مطابق ہے کہ محاذ آرائی نہیں لیکن اپنی انا کو برقرار رکھنا ہے، چاپلوسی نہیں کرنا لیکن آصف علی زرداری کی سیاست اس سے مختلف ہے۔ اس لئے بلاول بھی تضاد کا شکار ہے جب بھی اونچی اڑان بھرتا ہے اس کے پر کتر لئے جاتے ہیں اس لئے فکر کرنے کی ضرورت نہیں، جلد ہی سب ٹھیک ہوجائے گا یوں بھی رانا ثناء اللہ کہہ چکے کہ آزادکشمیر کے انتخابات گذر جائیں پھر ہم بیٹھ کر بلاول بھٹو کو سمجھا لیں گے۔

