دامن کو ذرا دیکھ…………!!

میرے پیارے ملک میں جو کچھ ہو رہا وہ انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ برسات کا موسم ہے اس میں باغوں میں جھینگر بڑبڑانے لگتے اور انسانوں کو ان کی آوازیں بری بھلی لگتی ہیں۔ مجھے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک بھی ایک جنگل بن گیا ہے جس میں طاقت کا قانون چلتا ہے، کمزور کی کوئی داد فریاد نہیں، ایسے میں جو کچھ ہمارے سیاسی اکابرین کررہے ہیں اس سے تو اب اللہ کی پناہ مانگنے کو جی چاہتا ہے اب تو اللہ ہی سے دعا ہے جو ہماری تمام تر کمزوریوں کے باوجود اس ملک کو سنبھالے ہوئے ہے، میں ملکی شخصیات سے بالاتر ہوکر سوچنے کو مجبور ہوں کہ یہ جو حضرات عجیب و غریب قسم کی درفنطنیاں چھوڑتے ہیں ان کو ذرا بھر بھی خیال نہیں آتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور ان کے الفاظ نہ صرف تاریخ سے متصادم ہیں بلکہ ان لاکھوں شہداء کے وارثان کے لئے تکلیف کا بھی باعث ہیں جن کی جانیں پاکستان کے قیام اور پھر ہجرت کے وقت گئیں۔

میں ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں جس کے واحد تعلیم یافتہ فرد نے اپنی اور اپنے بچوں کی پرورش اور مستقبل کی پرواہ کئے بغیر ملک کے قیام کے لئے دن رات ایک کئے تحریک پاکستان، صوبہ سرحد کا ریفرنڈم، مشرقی پنجاب سے مہاجرین کی منتقلی اور خونریزی کے دوران جان کو خطرے میں ڈالا، میرا گھرانہ پاکستان کے لئے جوکر سکتا تھاسو کیا، خود میں نے پرائمری کا طالب علم ہوتے ہوئے موچی دروازہ سے سول نافرمانی والے جلوسوں میں مسلسل شرکت کی اور ”لے کر رہیں گے، پاکستان“ ”بن کر رہے گا پاکستان“ کے نعرے لگائے اور ریگل چوک میں آنسو گیس کا ذائقہ چکھا، میرے گھرانے میں تین افراد کمانے والے تھے، میری دادی جان نے بیوہ ہونے کے بعد اپنے بچوں کی پرورش کے لئے مڈوائف کورس کیا اور اس حد تک تجربہ کار ہوئیں کہ ڈاکٹر کہلاتی تھیں، میرے تایا جان ”ٹِن سمتھ“ اور بہت عظیم کاریگر تھے۔ہمارے گھر میں پیسے کی ریل پیل تھی اور میرے سمیت میری بہنوں کے ناز اٹھائے جاتے تھے۔ میرے والد صاحب نے تحریک شہید گنج سے خدمت شروع کی اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھا اور تحریک پاکستان کے لئے مسلم لیگ نیشنل گارڈ میں خدمات انجام دیں، وہ بہترین، موٹر مکنیک اور مولڈر تھے اور تحریکی ہونے سے قبل خود بھی کام کرتے تھے جو تحریک کے لئے وقف ہونے پر چھوڑ دیا۔ اس پورے عرصے اور اس کے بعد آج تک میرے والد صاحب اور خاندان کے کھاتے میں کوئی قبضہ اور کوئی جعلی کلیم نہیں ہے۔ ہم نے قیام پاکستان کے بعد برے حالات بھی دیکھے اور آج مجھے ان ایام اور اپنے والد پر فخر ہے کہ اللہ روزی دیتا ہے اور ہم محتاج نہیں ہیں۔ 1971ء میں میرے والد صاحب کا انتقال ہوا۔ ان کی وفات کی خبر کے نتیجے میں نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کے اس وقت کے چیئرمین جسٹس نسیم حسن شاہ کے دستخطوں سے گولڈمیڈل کے لئے مجھے خط موصول ہوا، میں نے یہ پیشکش اس لئے قبول نہ کی کہ میرے والد اور کنبے نے ملک کے قیام اور بھلائی کے لئے بے لوث خدمات انجام دیں، کسی انعام کے لئے نہیں۔

قارئین! میں نے ہمیشہ اصولی اور اقدار پر مبنی صحافت کی، کبھی ذات کو پیش نظر نہیں رکھا ورنہ میں بھی اپنے 63سالہ صحافتی سفر میں اپنے والد گرامی کے لئے اخباری صفحات سیاہ کر سکتا تھا،آج بھی یہ ذکر بڑے دکھ اور درد بھرے دل کے ساتھ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم پی)کے کنونیر خالد مقبول صدیقی نے انتہائی متعصبانہ انداز میں اپنے ذاتی مفاد اور لسانی سیاست کو پھر سے شروع کرنے کے لئے قیام پاکستان کے بعد بھارت سے آنے والوں کو اس ملک کا خالق اور مالک قرار دے کر مطالبہ کر دیا ہے کہ یہ ملک ان کے حوالے کر دیا جائے کہ وہی اس کے مالک ہیں۔یہ ملک انہی کے اجداد نے بنایا اور اب وہ اسے سنبھالنے کے لئے آ گئے ہیں، میں ان ایم کیو ایم والوں کی تاریخ نہیں دہرانا چاہتا لیکن یہ ضرور کہوں گا یہ حضرات شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا چہرہ ضرور ملاحظہ کریں اور اگر شرم و حیا کسی شے کا نام ہے تو اپنا اصل رخ دیکھ کر پچھتا ہی لیں، خالد مقبول صدیقی اور ان کے ہم نواؤں کی طرف سے لسانیت اور مہاجر کارڈ کو پھر سے استعمال کرنے کے اس عمل کی بھرپور مذمت لازم ہوگئی ہے اور یہ ثابت ہو گیا ہے کہ انہوں نے اپنے بانی سے لاتعلقی کسی نظریے کے لئے اختیار نہیں کی تھی بلکہ سر کو اولوں سے بچانے کے لئے ایسا کیا اور کچھ عرصہ کے لئے حالات کے تحت ذرا بیان تبدیل کیا تھا ورنہ ان کے اندر جو متعصب اور مفاد پرستانہ عنصر موجود ہے وہ کہیں نہیں گیا تھا، یہ لوگ جو آج لینڈ کروزر سے کم کسی گاڑی سے نہیں اترتے جب تشریف لائے تو بے سروسامان تھے۔ مقامی حضرات نے اخوت اسلامی کا مظاہرہ کیا ان کواپنے دل میں جگہ دی اور انہوں نے ”پودینے کے باغات“ کے عوض کلیم حاصل کرکے جائیدادیں بھی بنائیں، ہر اقتدار میں شامل رہے اور ہر ایک سے بے وفائی کی۔ بلیک میلنگ کی سیاست ان کا طرۂ امتیاز ہے اور اب تک ان کے ذہن تبدیل نہیں ہوئے۔ یہ کیسے عجیب لوگ ہیں کہ مشرقی پنجاب کے مسلمان یا تو کٹ گئے، لٹ گئے، خواتین اغوا ہوئیں اور سب مہاجر ہو کر رہ گئے ان میں سے ایسے خاندان بھی ہیں جن کی اراضی اور مکانات تھے لیکن یہاں کچھ نہ ملا اور ان کو محنت کرنا پڑی کہ کلیم کا سلسلہ بھی مفاد پرستانہ فیصلہ تھا جس کے لئے الگ کالم کی ضرورت ہوگی، اسی پنجاب میں ہمارے دہلی سے یوپی والے بھائی بند بھی آئے اور ان کو ہم نے سر آنکھوں پر بٹھایا آج وہ اور ہمارے خاندان آپس میں رچ بس گئے ہیں، مقبول صدیقی ان کو تو مہاجر ہی نہیں مانتے۔

جہاں تک نئے صوبوں کا تعلق ہے تو میں خود حامی ہوں اور میاں محمود علی قصوری (مرحوم) کی اس تجویز سے متفق ہوں کہ ڈویژن کی بنیاد پر صوبے بنائے جائیں جن کا سربراہ لیفٹیننٹ گورنر ہو، اس کے علاوہ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی مخالفت کا تعلق ہے تو ہم آپ سے زیادہ اس کے مخالف ہیں اور سوشلزم ہماری معیشت کے لئے قربانیاں بھی دے چکے، آپ کی طرح اس نظام کا حصہ نہیں ہیں کہ ہر دور اقتدار میں اس کا حصہ بن جائیں، یوں بھی لینڈکروزر اورکوٹھی والوں کا پسماندہ طبقات سے کیا تعلق سوٹ ٹائی سمیت تو آپ بھی انہی کی طرح پہنتے ہیں۔

کہنے کو بہت کچھ ہے، لیکن اتنا ہی کافی ہے۔ استدعا ہے کہ متحدہ والے لسانیت کو چھوڑ کر عوامی سیاست کریں مفاداتی سیاست چھوڑدیں، ہمیں آپ سے کچھ لینا دینا نہیں۔