نئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب سے توقعات

پنجاب کی بیوروکریسی میں اعلیٰ سطح پر ہونے والی تبدیلیاں ہمیشہ غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ اس صوبے کی انتظامی مشینری پورے ملک کیلئےایک مثال اور چیلنج سمجھی جاتی ہے ، گزشتہ روز ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب احمد رضا سرور کو تبدیل کر کے وفاق میں سیکرٹری داخلہ تعینات کر دیا گیا ، یقیناً یہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار ہے، تاہم پنجاب میں ان کی جگہ نئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی تقرری اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ تھا جس میں اصل سوال یہ تھا کہ ان کا جانشین کیسا ہو ؟ کیا حکومت صرف سینیارٹی کو بنیاد بناتی یا پھر ایسے افسر کا انتخاب کرتی جو مشکل فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو،جو ٹیم کو ساتھ لے کر چل سکے اور وزیراعلیٰ کے ترقیاتی وژن کو عملی نتائج میں تبدیل کر سکے؟ اس وقت پنجاب کی انتظامیہ کو ایسے افسر کی ضرورت تھی جو صرف اجلاسوں کی تعداد بڑھانے پر یقین نہ رکھتا ہو بلکہ ہر اجلاس کے بعد قابلِ پیمائش نتائج سامنے لائے، فائلوں کی رفتار تیز ہو، منصوبوں کی تکمیل وقت پر ہو، اضلاع کی مسلسل مانیٹرنگ ہو اور ہر افسر کو اپنی کارکردگی کا واضح احساس ہو ،بتایا گیا کہ ان حالات میں دو افسروں پر حکومت کی نظر ٹکی جو ہر لحاظ سے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی پوسٹ کیلئےفٹ نظر آتے تھے ،ان میں سیکرٹری زراعت افتخار علی سہو اور سیکرٹری آبپاشی ڈاکٹر واصف خورشید شامل تھے ،دونوں افسر بہترین ہیں مگر انتخاب ایک ہی کا ہونا تھا وہ افتخار علی سہو کا ہوا۔

بظاہر یہ ایک معمول کی تقرری محسوس ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جس رفتار سے انتظامی اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں، صفائی، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، زراعت، ڈیجیٹل گورننس اور عوامی خدمت کے مختلف منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، ان سب کی کامیابی کا انحصار صرف سیاسی قیادت پر نہیں بلکہ ایک مضبوط، فعال اور باصلاحیت بیوروکریسی پر بھی ہے۔

بیوروکریسی کسی بھی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے، لیکن اس ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھنے کیلئے ایسے افسران درکار ہوتے ہیں جو صرف قواعد و ضوابط کے محافظ نہ ہوں بلکہ نتائج دینے والے منتظم بھی ہوں، ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا عہدہ اسی فلسفے کی عملی تصویر ہے۔

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ چیف سیکرٹری کے بعد انتظامی معاملات خود بخود مختلف سیکرٹریز اور کمشنرز سنبھال لیتے ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے،ایڈیشنل چیف سیکرٹری وہ انتظامی پل ہے جو وزیراعلیٰ، چیف سیکرٹری، محکموں، ڈویژنوں اور اضلاع کے درمیان مؤثر رابطہ قائم رکھتا ہے، اگر یہ پل مضبوط ہو تو پورا نظام آسانی سے چلتا ہے، لیکن اگر اس میں کمزوری آ جائے تو بہترین پالیسیاں بھی فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔پنجاب جیسے بڑے صوبے میں روزانہ سینکڑوں فیصلے ہوتے ہیں، کہیں ڈپٹی کمشنر کو فوری ہدایات درکار ہوتی ہیں،کہیں کسی ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے، کہیں مالیاتی منظوری کا مسئلہ سامنے آ تا ہے تو کہیں دو محکموں کے درمیان اختیارات کا تنازع پیدا ہو جاتا ہے، ایسے میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا کردار محض نگران کا نہیں بلکہ مسئلہ حل کرنیوالے منتظم کا ہوتا ہے۔یہ عہدہ صرف سینیارٹی کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ قیادت، تحمل، بصیرت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت بھی مانگتا ہے، ایک اچھا ایڈیشنل چیف سیکرٹری وہ ہے جو دباؤ میں بھی متوازن فیصلہ کرے، ہر افسر کو عزت دے، میرٹ کو مقدم رکھے اور کسی بھی سفارش یا سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر قواعد کے مطابق فیصلے کرے۔

آج پنجاب میں گورننس کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ مختلف محکموں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کا فقدان ہے، کئی مرتبہ ایک محکمہ اپنا کام مکمل کر دیتا ہے مگر دوسرا محکمہ تاخیر کر دیتا ہے، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام حکومت کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں، ایسے حالات میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی اصل صلاحیت سامنے آتی ہے کہ وہ تمام محکموں کو ایک مشترکہ ہدف پر کیسے جمع کرتا ہے،وزیراعلیٰ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جس انداز میں مختلف منصوبوں کی خود نگرانی کی، اچانک دورے کیے، کارکردگی اجلاس منعقد کیے اور افسروں سے نتائج طلب کیے، اس سے واضح ہے کہ ان کی ترجیح صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی نتائج ہیں، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری بھی اسی سوچ کے ساتھ آگے بڑھے اور ہر محکمے میں کارکردگی، جوابدہی اور بروقت عملدرآمد کو یقینی بنائے۔

بدقسمتی سے ہماری بیوروکریسی میں کبھی کبھار ایک ایسا رویہ بھی دیکھنے میں آتا ہے جہاں افسران اپنے دفاتر کو عوام اور ماتحت عملے سے دور کر لیتے ہیں، ملاقات مشکل، فیصلہ سست اور فائلوں کا سفر طویل ہو جاتا ہے، جدید گورننس اس طرزِ فکر کی اجازت نہیں دیتی، آج کامیاب افسر وہ ہے جو اپنے دفتر کو مسئلہ حل کرنے کا مرکز بنائے، نہ کہ صرف دستخط کرنے کی جگہ،آنیوالے نئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو سب سے پہلے اپنے رویے سے یہ پیغام دینا ہوگا کہ وہ پوری ٹیم کا ڈپٹی قائد ہے، کسی مخصوص گروپ یا لابی کا نمائندہ نہیں،اس عہدے پر بیٹھنے والے افسر کو صرف لاہور تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پورے پنجاب کے زمینی حقائق سے بھی مسلسل آگاہ رہنا چاہیے، مختلف علاقوں کے مسائل مختلف ہیں، اس لیے گورننس کا ایک ہی ماڈل ہر جگہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا،پنجاب اس وقت کئی بڑے امتحانات سے گزر رہا ہے،بڑھتی ہوئی شہری آبادی، زرعی شعبے کو درپیش مسائل، پانی کی قلت،اربن فلڈنگ، ماحولیاتی آلودگی، سموگ، موسمیاتی تبدیلی، شہری انفراسٹرکچر پر بڑھتا دباؤ، صحت اور تعلیم کے معیار میں بہتری، ڈیجیٹل خدمات کی توسیع اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ایسے چیلنجز ہیں جن سے نمٹنے کیلئےصرف سیاسی وژن کافی نہیں بلکہ ایک مضبوط انتظامی نظام بھی ناگزیر ہے۔

اس پوسٹ کیلئےایک اور اہم پہلو، رویہ ہے، انتظامی دنیا میں بعض افسر اپنی ذہانت سے زیادہ اپنے اخلاق، شائستگی اور انصاف کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں، وہ ماتحتوں کی بات سنتے ہیں، اختلافِ رائے کو برداشت کرتے ہیں اور میرٹ پر فیصلے کرتے ہیں، ایسے افسران اداروں کو مضبوط کرتے ہیں، اس کے برعکس تکبر، غیرضروری سختی، گروہ بندی اور پسند و ناپسند پر مبنی فیصلے اداروں کو کمزور کر دیتے ہیں،پنجاب کے نئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کیلئےسب سے بڑا امتحان یہی ہوگا کہ وہ اپنے رویے سے پوری بیوروکریسی کو یہ احساس دلائیں کہ حکومت کی اصل ترجیح عوامی خدمت ہے، نہ کہ محض سرکاری کارروائیوں کی تکمیل۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کا عہدہ ایک اعزاز ضرور ہے، مگر اس سے کہیں بڑھ کر ایک بڑی ذمہ داری ہے، اس منصب پر بیٹھنے والا افسر صرف چیف سیکرٹری کا معاون نہیں بلکہ پنجاب کی پوری انتظامی مشینری کا معمار ہوتا ہے، اس کے فیصلے، اس کا رویہ، اس کی قیادت اور دیانت ہزاروں سرکاری افسران کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہے اور بالآخر انہی فیصلوں کا نتیجہ عام شہری کی زندگی میں بہتری یا مشکلات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

افتخار علی سہو کے پاس پنجاب پی اینڈ ڈی کے چئیرمین سمیت مختلف محکموں اور اضلاع میں کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے ،امید کی جا رہی ہے کہ وہ حکومتی،عوامی اور بیوروکریٹک توقعات پر پورے اتریں گے۔