کابل (تسنیم نیوزایجنیسی) تہران میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایک افغان مہاجر خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہو گئے۔رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ تہران کے علاقے شہرِ رے کے 13 آبان ضلع میں پیش آیا، جہاں ایک رہائشی مقام کو نشانہ بنایا گیا۔
خبر ایجنسی کے مطابق اسی نوعیت کے ایک اور واقعے میں صوبہ خوزستان کے علاقے اندیمشک میں مارے جانے والے ایک افغان شہری کی تدفین بھی کر دی گئی ہے۔اس سے قبل کوثر عادلی نامی افغان شہری بھی ورامین کے خیرآباد علاقے میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہوا تھا، جو رواں کشیدگی کے دوران کسی افغان شہری کی پہلی رپورٹ شدہ ہلاکت تھی۔
رپورٹس کے مطابق ایران میں 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین مقیم ہیں، جبکہ جنگ میں شدت اور مواصلاتی نظام میں خلل کے باعث افغانستان میں ان کے اہل خانہ میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ برسوں کی سنگین ترین کشیدگیوں میں شمار کی جا رہی ہے، جس میں شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کے شامل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔جنگ کے باعث نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع بڑھ رہا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈی اور معیشت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ جنگ بندی کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔

