ہم پاکستانی بھی کمال کی مخلوق ہیں۔ جمہوریت سے ہماری محبت بھی مشروط ہے۔ اگر عوام، اسمبلی اور انتخاب کا فیصلہ ہماری مرضی کے مطابق ہو تو ہم اسے “عوام کا مینڈیٹ” کہتے ہیں۔ اور اگر فیصلہ ہماری مرضی کے خلاف نکل آئے تو اچانک ہمیں یاد آتا ہے کہ اسمبلیاں جعلی ہیں، مینڈیٹ مشکوک ہے، عوام بے خبر ہیں اور اصل فیصلہ کہیں اور ہوا ہے۔
یعنی جمہوریت بھی ہماری، تشریح بھی ہماری۔
اب سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم اور جغرافیائی حدود میں تبدیلی کے خلاف قرارداد منظور کر دی تو ایک نئی مصیبت کھڑی ہوگئی۔ کچھ صاحبان کو سندھ اسمبلی کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا۔ سو سوال اٹھا کہ یہ فیصلہ جمہوری کیسے ہوگیا؟
عرض ہے، بہت سادہ سا جواب ہے۔ اگر منتخب اسمبلی کو اپنے صوبے کے سیاسی، انتظامی اور جغرافیائی معاملات پر قرارداد منظور کرنے کا حق ہے تو یہ حق سندھ اسمبلی کو بھی حاصل ہے۔ آپ قرارداد سے اختلاف کریں، اس پر تنقید کریں، اسے غلط سمجھیں، اس کے سیاسی مضمرات بیان کریں، سب کچھ کیجیے۔ مگر یہ کہنا کہ اسمبلی کو اپنی رائے ظاہر کرنے کا جمہوری حق ہی نہیں، جمہوریت کو ذرا زیادہ ہی اپنی ذاتی ملکیت سمجھنے کے مترادف ہے۔
البتہ ایک احتیاط ضروری ہے۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد کو “ہر سندھی کے دل کی آواز” قرار دینا بھی اتنا ہی غیر محتاط دعویٰ ہے۔ اسمبلی منتخب نمائندوں کا ایوان ہے، کوئی ایسا آسمانی ادارہ نہیں جس کے منہ سے نکلنے والا ہر جملہ صوبے کے ہر شہری کی زبان بن جائے۔
سندھ میں بھی اختلاف ہے، تنوع ہے، مختلف سیاسی جماعتیں ہیں، مختلف لسانی اور علاقائی شناختیں ہیں۔ چنانچہ “سندھ اسمبلی کا مؤقف” ایک حقیقت ہے، مگر “ہر سندھی کا متفقہ مؤقف” ایک الگ دعویٰ ہے۔ دوسرے دعوے کے لیے دوسرے درجے کے شواہد چاہییں۔
لیکن ہمارے ہاں مسئلہ دلیل کا نہیں، سہولت کا ہے۔
جب اپنے مطلب کی بات ہو تو ایک جلسہ عوام کی آواز بن جاتا ہے، ایک جماعت پوری قوم کی نمائندہ بن جاتی ہے، ایک قرارداد عوامی خواہش کا آئینہ بن جاتی ہے۔ لیکن جب کسی دوسرے صوبے کے منتخب نمائندے ایسی بات کہہ دیں جو ہمیں پسند نہ ہو تو وہی جمہوری مینڈیٹ اچانک “قابلِ سوال” ہوجاتا ہے۔
واہ جمہوریت!
آپ کی تعریف بھی موسم کے ساتھ بدلتی ہے۔ صحافیوں اور دانشوروں کا معاملہ بھی دلچسپ ہے۔ انہیں سندھ اسمبلی کی قرارداد پر تنقید کا پورا حق ہے۔ آخر صحافی کا کام اسمبلی کی قراردادوں پر مہر لگانا نہیں۔ اگر صحافی اور دانشور منتخب حکومتوں اور اسمبلیوں سے سوال نہیں کریں گے تو پھر جمہوریت اور سرکاری پریس ریلیز میں فرق کیا رہ جائے گا؟
اس لیے کسی صحافی کو یہ طعنہ دینا کہ اسے اسمبلی کی قرارداد پر تنقید کا “اخلاقی یا جمہوری حق” نہیں، خود جمہوری اصول کی غلط تفہیم ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ صحافی تنقید کیوں کر رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ جمہوریت کا پیمانہ سب کیلئے ایک رکھتا ہے یا نہیں؟
یہ سوال خاصا تکلیف دہ ہے، اسلئےشاید ہم اس کا جواب دینے کے بجائے فوراً کسی قوم، صوبے یا اسٹیبلشمنٹ کا نام تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کسی پنجابی صحافی نے سندھ اسمبلی کی قرارداد پر تنقید کردی تو فوراً “پنجابی اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان” تلاش کر لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی سندھی اسٹیبلشمنٹ یا سندھ کی طاقتور سیاسی اشرافیہ سے سوال کرے تو اس کیلئے بھی کوئی نیا لیبل ایجاد کیا جا سکتا ہے۔ یوں دلیل ختم، شناخت شروع۔
پھر ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نسلی سیاست کے خلاف ہیں۔
یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے آدمی دوسروں کو سگریٹ نوشی سے منع کرتے ہوئے اپنی سگریٹ دوسرے ہاتھ میں چھپا لے۔
اگر کسی مخصوص صحافی یا دانشور کے بارے میں یہ دعویٰ ہے کہ وہ کسی اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے تو ثبوت پیش کیجیے۔ تعلق، وابستگی، مفاد، بیان، کردار، کوئی قابلِ تصدیق چیز سامنے لائیے۔ محض یہ کہنا کہ وہ پنجاب سے ہے اور اس لیے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی آواز ہے، دلیل نہیں، وہی نسلی تعصب ہے جس کے خلاف صاحبِ الزام خود تقریر کر رہے ہوتے ہیں۔ اصل بیماری اس سے کہیں بڑی ہے۔
ہم نے جمہوریت کو اصول نہیں رہنے دیا، اسے ایک سیاسی ہتھیار بنا دیا ہے۔ اپنی جماعت جیت جائے تو عوام باشعور۔ مخالف جیت جائے تو عوام گمراہ۔
اپنے صوبے کی اسمبلی قرارداد منظور کرے تو جمہوری حق۔
دوسرے صوبے کی اسمبلی مختلف مؤقف اختیار کرے تو قومی وحدت خطرے میں۔
اپنے مطالبے کیلئے”حقِ خود ارادیت”۔
دوسرے کے مطالبے کیلئے “ملکی سالمیت”۔
اپنے لیے عوام۔ دوسرے کیلئےاسٹیبلشمنٹ۔
اور اگر دونوں دلائل کم پڑ جائیں تو آخر میں “پنجابی” اور “سندھی” نکال لیں۔ بحث ختم۔ تالیاں شروع۔
یہی وجہ ہے کہ آج اصل سوال سندھ کی تقسیم یا عدم تقسیم سے زیادہ اہم ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم جمہوریت کو ایک عالمگیر اصول مانتے ہیں یا اپنی پسند کا سیاسی لباس؟
اگر سندھ اسمبلی کو اپنے صوبے کے مستقبل کے بارے میں مؤقف رکھنے کا حق ہے تو یہ حق دوسرے صوبوں کی اسمبلیوں کو بھی ہونا چاہیے۔ اگر صحافی کو اسمبلی پر تنقید کا حق ہے تو اسے بھی حاصل ہونا چاہیے۔ اگر کسی کمیونٹی کے سیاسی مطالبے کو جمہوری حق کہا جاسکتا ہے تو دوسری کمیونٹی کے سیاسی مطالبے کو بھی اسی کسوٹی پر پرکھنا ہوگا۔
جمہوریت میں پسندیدہ اور ناپسندیدہ عوام نہیں ہوتے۔
منتخب نمائندوں کی پسندیدہ اور ناپسندیدہ آوازیں نہیں ہوتیں۔
اصول ہوتا ہے۔
اور اصول کا سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ اس وقت بھی اصول رہے جب فیصلہ ہمارے خلاف ہو۔
ورنہ جمہوریت کا نعرہ لگانا بہت آسان ہے۔ مشکل صرف یہ ہے کہ ایک دن آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود سے پوچھ لیا جائے:
“میں جمہوریت پسند ہوں یا صرف اپنی پسند کے فیصلے کو جمہوری سمجھتا ہوں؟”
یہ سوال اگر واقعی پوچھ لیا جائے تو شاید بہت سے دانشوروں، صحافیوں، سیاست دانوں اور ہم جیسے عام شہریوں کو اپنے اپنے نظریاتی آئینے صاف کرنے کیلئےکچھ وقت درکار پڑے۔
کیونکہ مسئلہ یہ نہیں کہ سندھ اسمبلی کیا کہہ رہی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم جمہوریت کو اصول سمجھتے ہیں یا اپنی مرضی منوانے کا نام؟
اور اگر جواب دوسرا ہے تو پھر براہِ کرم جمہوریت کا نام لینا چھوڑ دیں۔
اسے “میری مرضی کی جمہوریت” کہہ دیں۔
کم از کم اصطلاح کے ساتھ انصاف تو ہوگا۔

