محمود خان کا کینیڈا

ہر معاشرے میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں کچھ اپنے لیے جیتے ہیں اور کچھ دوسروں کیلئےجیتے ہیں جو دوسروں کیلئے جیتے ہیں وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کامقصد حیات انسانوں کی بھلائی بہتری اور تربیت ہوتا ہے تاکہ معاشرہ بہتر ہو سکے ایسے لوگ اپنے لیے نہیں دوسروں کیلئےجیتے ہیں قارئین آج میں آپ کو ایک ایسی ہی شخصیت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو اپنی جدوجہد کا کریڈٹ بھی نہیں لینا چاہتا لیکن وہ لوگوں کے دلوں میں بستا ہے اس شخصیت کے بارے میں جاننے کا اشتیاق مجھے اس وقت ہوا جب دورہ کینیڈا کے دوران میں اپنے بڑے بھائیوں جیسے دوست اپنے محسن رانا محبوب عالم عرف بوبی کے ہمراہ مسی ساگا سے نیاگرا فال جا رہا تھا یاد رہے کہ رانا محبوب عالم دیال سنگھ کالج اور ایف سی کالج میں سٹوڈنٹس یونین کے عہدیدار رہے ہیں پھر وہ زرعی ترقیاتی بینک آف پاکستان کے آفیسرز یونین کے صدر بھی رہے لیکن،بھریا میلہ چھڈ کے کینیڈا آ گئے،وہ دو دہائیوں سے کینیڈا میں مقیم ہیں اور آج کل کنسٹرکشن کا کاروبار کر رہے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہاں کیسے کامیابی حاصل کی تو انھوں نے بتایا کہ یہ معاشرہ جدوجہد کی ترغیب دیتا ہے جو بھی اس معاشرہ میں داخل ہوتا ہے اس کو ابتدائی سالوں میں سخت محنت سے گزرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے راستے کھلتے جاتے ہیں انھوں نے بتایا کہ میں نے ابتداء میں ٹیکسی چلائی اس وقت ٹیکسی کمپنیوں کی اجارہ داری تھی اور زیادہ تر سکھوں کی کمپنیاں تھیں ہم نے ڈرائیوروں کے حقوق کیلئےٹیکسی ڈرائیور یونین بنانا چاہی تو ہمیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس کیلئے ایک پاکستانی نژاد کینڈین مقصود خان عرف میکس خان اور ان کے والد محمود خان نے ہماری بڑی مدد کی ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ہمیں بہت بڑی رقم کی آفر ہوئی کہ آپ یونین نہ بنائیں اپنا کیس وڈرا کر لیں لیکن ہم نے ورکرز کی بہتری کو مقدم جانتے ہوئے آفر ٹھکرا دی کیونکہ ہماری سوچ کو محمود خان کا ویژن سپورٹ کر رہا تھا جو خود کینیڈا کی قومی سطح کے ٹریڈ یونینسٹ رہے ہیں وہ 36 سال فورڈ کمپنی کے لیبر یونین کے صدر منتخب ہوتے رہے کئی بار بلامقابلہ بھی منتخب ہوئے تین بار قومی سطح پر لیبر یونین کے صدر منتخب ہوئے اور پورے ملک کے مزدوروں کی آواز بنے پھر حاجی محمد جمیل جن کاطباق ریسٹورنٹ میری ملاقاتوں کا ڈیرہ تھا انھوں نے بھی محمود خان صاحب کی اتنی تعریفیں کیں اور انھیں پاکستانی کمیونٹی کا سرخیل قرار دیا میں حاجی جمیل صاحب سے خود بہت متاثر تھا کہ ایک بندہ جس کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن کمیونٹی کیلئے نہ صرف خرچ کرتا ہے بلکہ کمیونٹی کی بہتری کیلئے اپنے وسائل اور تعلقات استعمال کرکے لوگوں کی دن رات خدمت کرتا ہے اگر وہ کسی بندے کی تعریف کر رہے ہیں تو واقعی کوئی بڑا بندہ ہے قارئین آج کل کینیڈا میں بلدیاتی الیکشن ہو رہے ہیں اور وہاں کے بلدیاتی الیکشن ہمارے ایم این اے اور ایم پی اے سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ اصل اختیارات مقامی منتخب نمائندوں کے پاس ہیں میں نے وہاں کی سیاست کو سمجھنے کیلئےاشرف خان لودھی جو وہاں سے اخبار نکالتے ہیں اور بڑے متحرک ہیں ان سے کہا کہ مجھے انتخابی سرگرمیاں دکھائیں چنانچہ وہ مجھے کئی تقریبات میں لے گئے ہملٹن کے ایریا سے پاکستانی نژاد کینڈین زینب میئر کا الیکشن لڑ رہی ہیں اور ان کے حق میں ایک دوسرے امیدوار کی دستبرداری کی تقریب تھی وہاں جا کر معلوم ہوا کہ یہ سارا کچھ محمود خان صاحب نے مینج کیا ہے وہاں تمام مقررین نے محمود خان اور ان کے مرحوم بیٹے میکس خان کے بارے میں ذکر کیا تو میرا ان سے ملاقات کا اشتیاق اور بڑھ گیا میں نے حاجی محمد جمیل صاحب سے کہا کہ میں محمود خان صاحب سے ملنا چاہتا ہوں انھوں نے اگلے دن کا ان سے ملاقات کا وقت طے کر لیا جب ہم ان کی رہائش گاہ پہنچے تو ایک اور مئیر کے امیدوار سمیت متعدد افراد موجود تھے ان سے مل کر ان کے حالات زندگی اور ان کی جدوجہد بارےجان کر بڑی خوشی ہوئی اور دل میں ایک خواہش جاگی کہ کاش پاکستان کی سوسائٹی میں بھی ایسے لوگ ہوں جو اپنی ذات کی نفی کرکے دوسروں کو آگے بڑھنے کیلئےراہنمائی کریں محمود خان صاحب کینیڈا میں اپنی کمیونٹی کو مضبوط کرنے کیلئے سیاسی طور پر تیار کر رہے ہیں آج وہ جی ٹی اے ٹورنٹو بلکہ صوبہ اونٹاریو کی سیاست کے کنگ میکر ہیں وہ درجنوں کونسلروں اور مئیر کے امیدواروں کو میدان میں اتار چکے ہیں ان کا خیال ہے کہ کوئی کمیونٹی اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتی جب تک وہ سیاسی طور پر مضبوط نہ ہو ان کی شخصیت اور ان کا گھر سیاسی اکیڈمی کا درجہ رکھتا ہے ان کے بیٹے میکس خان کی علیحدہ ایک داستان ہے جو محض 43 سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئے کینیڈا کے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے ان کے فیملی ریلشن تھے اور وہ ممبر پارلیمنٹ کے الیکشن کیلئےکوالیفائی کر چکے تھے اور دوران الیکشن ہی کینسر جیسی موذی مرض سے اللہ کو پیارے ہو گئے جسٹن ٹروڈو نے ان کے جنازے میں شرکت کی اگر زندگی وفا کرتی تو میکس خان ٹروڈو حکومت کا اہم حصہ ہوتے محمود خان جوان سالہ بیٹے کی موت کے باوجود آج بھی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھوں نے سیکڑوں میکس خان تیار کر لیے ہیں جو آنے والے دنوں میں کینیڈا کی سیاست میں اہم کردار ادا کریں گے حکومت پاکستان کو ایسے ہیروں کی پذیرائی کرنی چاہیے ان پر فلم بنائی جانی چاہیے اور انھیں ایوارڈ دے کر ایوارڈ کی ساکھ کو چار چاند لگانے چاہیں.