ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی شادی کی تقریبات روسی ارب پتی نے جزوی طور پر اسپانسر کیں

نیویارک (ایسوسی ایٹڈ پریس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی اہلیہ بیٹینا ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ مئی میں بہاماس میں ہونے والی ان کی شادی کے بعد کی تقریبات کے اخراجات کا ایک حصہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے عمر کریملیف نے ادا کیا تھا۔

بیٹینا ٹرمپ نے پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں عمر کریملیف کو اپنا ’’عزیز دوست‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شادی کے بعد ہونے والی دو شاندار تقریبات کی میزبانی انتہائی فراخ دلی سے کی۔بیان میں کہا گیا کہ یہ ایک دوست کی جانب سے شادی کا غیر معمولی طور پر فراخ تحفہ تھا، جس پر وہ اس وقت بھی بے حد شکر گزار ہیں۔

تحقیقاتی ویب سائٹ پرو پبلکا نے رپورٹ کیا تھا کہ بہاماس میں ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر اور بیٹینا اینڈرسن کی شادی کی تین روزہ تقریبات کے اخراجات میں کریملیف نے بڑی رقم ادا کی۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے سیکڑوں ہزاروں ڈالر کے اخراجات برداشت کیے، جن میں نجی جزائر میں سے ایک کو تقریبات کے لیے کرائے پر لینا اور آتش بازی کا مظاہرہ بھی شامل تھا۔

بیٹینا ٹرمپ نے وضاحت کی کہ ان کی اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی اصل شادی ایک نجی تقریب میں صرف خاندان کے افراد کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ ان کے مطابق بعد میں ہونے والا ہفتہ وار جشن پہلے ہی دوستوں کے ساتھ تفریحی اختتامِ ہفتہ کے طور پر طے تھا اور اسے ابتدا میں شادی کی تقریب نہیں بنایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ شادی کے اصل منصوبے میں تبدیلی کے بعد دونوں نے طے شدہ اختتامِ ہفتہ سے قبل شادی کرلی اور پھر نومسلم جوڑے کی حیثیت سے پہلے سے طے شدہ تقریبات میں شریک ہوئے۔

بیٹینا ٹرمپ نے کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ کسی کی ذاتی اور خوشی کی تقریب کو صرف اس وجہ سے سیاسی یا مشکوک رنگ دے دیا جائے کہ وہ شخص کون ہے یا کہاں سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کے بقول دوستی کے لیے سیاسی مقصد ضروری نہیں اور فراخ دلی کا مطلب لازماً کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں ہوتا۔

عمر کریملیف انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کے سربراہ ہیں اور حال ہی میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے انہیں آرڈر آف فرینڈشپ سے نوازا تھا۔ چینی سرکاری ذرائع ابلاغ کے حوالے سے پرو پبلکا نے بتایا کہ کریملیف روسی وفد کے رکن کی حیثیت سے پیوٹن کے ہمراہ چین بھی گئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے روس سے تعلقات ماضی میں بھی جانچ پڑتال کا موضوع رہے ہیں۔ 2016 کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران روسی وکیل نتالیہ ویسلنٹسکایا سے ٹرمپ ٹاور میں ان کی ملاقات پر وفاقی اور کانگریسی تفتیش کاروں نے تفصیلی تحقیقات کی تھیں۔

یہ ملاقات ایسی معلومات کے حصول کے امکان پر ہوئی تھی جو اس وقت ٹرمپ کے ڈیموکریٹک حریف ہلیری کلنٹن کے خلاف استعمال ہوسکتی تھیں، جبکہ امریکی حکام اس امر کی تحقیقات کر رہے تھے کہ آیا ٹرمپ کی انتخابی مہم نے روس کے ساتھ مل کر امریکی صدارتی انتخابات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی تھی۔