واشنگٹن:ڈونلڈٹرمپ کے کینیڈین مصنوعات پر نئے 50 فیصد محصولات نافذ

واشنگٹن (سی بی سی، وائٹ ہاؤس) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی مزید 110 مصنوعات پر عائد 50 فیصد محصولات منگل کی نصف شب کے بعد نافذ ہوگئے جبکہ نمک، چینی، سیمنٹ اور ٹوائلٹ پیپر سمیت 10 اشیا پر عائد محصولات ختم کردیئے گئے۔

نئے محصولات میں مخصوص اقسام کی پنیر، موٹر کشتیاں، تمام ارضی گاڑیاں، فرنیچر، ایلومینیم مصنوعات، کاغذ اور لکڑی کی اشیا، لوہے اور فولاد کے بیم، برقی لیمپ اور گدے شامل ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق نمک، چینی، سیمنٹ، برقی سوئچ بورڈز اور ٹوائلٹ پیپر سمیت 10 اشیا کو محصولات کی فہرست سے نکالا گیا ہے تاکہ امریکی تجارت پر پڑنے والے بوجھ کو کم کیا جاسکے اور عوامی مفاد کو بہتر طور پر پورا کیا جاسکے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں کینیڈا نے امریکا کو تقریباً 32 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کا ٹوائلٹ پیپر برآمد کیا، جس کے باعث کینیڈا امریکا کو اس شے فراہم کرنے والا سب سے بڑا عالمی ملک ہے۔کینیڈا امریکا کو نمک فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں بھی شامل ہے۔ 2025 میں امریکا نے کینیڈا سے تقریباً 15 کروڑ 92 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کا نمک درآمد کیا۔

ماہرین کے مطابق نئی مصنوعات پر محصولات عائد کرنے اور بعض اشیا کو فہرست سے نکالنے کے فیصلوں کا مجموعی معاشی اثر تقریباً ایک دوسرے کے برابر ہے۔ یونیورسٹی آف اوٹاوا کے تجارت اور کاروباری قانون کے ماہر وولف گانگ آلشنر کے تجزیے کے مطابق محصولات ختم کی جانے والی اشیا کی تجارت تقریباً 2 ارب 41 کروڑ ڈالر جبکہ نئی محصولات والی اشیا کی تجارت تقریباً 2 ارب 56 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔

نئی فہرست میں سب سے زیادہ مالیت برقی سوئچ گیئر اسمبلیوں اور سوئچ بورڈز کی ہے، جن کی امریکا نے 2025 میں کینیڈا سے تقریباً 75 کروڑ ڈالر کی درآمد کی تھی۔ یہ مصنوعات گاڑیوں سے لے کر طیاروں تک مختلف شعبوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

آلشنر کے مطابق بعض محصولات ختم کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی حکومت ان اشیا پر توجہ دے رہی ہے جن کے بڑھتے ہوئے اخراجات براہِ راست امریکی صارفین تک منتقل ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سردیوں میں سڑکوں پر برف پگھلانے کیلئے نمک اور تعمیراتی شعبے کیلئے سیمنٹ ایسی اشیا ہیں جن کا متبادل تلاش کرنا آسان نہیں۔

نئے اقدامات امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ 22 اگست کو امریکا نے کینیڈین مصنوعات کی وسیع اقسام پر 50 فیصد محصولات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں کینیڈا نے 8 ستمبر سے تقریباً 700 اقسام کی امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات نافذ کردیئے۔

امریکی حکومت نے کینیڈا سے شراب، موٹر سائیکلوں اور چند دیگر مصنوعات کی درآمد پر پابندی کا بھی اعلان کیا ہے، تاہم یہ پابندی 29 ستمبر سے نافذ ہوگی۔

کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ حکومت امریکی محصولات اور درآمدی پابندیوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض پابندیوں کا بعد کی تاریخ سے نافذ ہونا اس بات کی علامت ہوسکتا ہے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے کیلئے مذاکرات کی گنجائش اب بھی موجود ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی مصنوعات پر مسلسل محصولات عائد کرنا طویل مدت میں پائیدار حکمت عملی نہیں اور تجارتی جنگ کے باعث بعض علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے، ملازمتیں ختم ہونے اور چھوٹے کاروبار بند ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔