سسکیچیوان (سی بی سی) سسکیچیوان کے سسکیٹون کے مغرب میں رہنے والے 58 سالہ شخص نے اپنی نوعمر بیٹی سے بار بار جنسی زیادتی اور اپنی بہن سے جنسی زیادتی سمیت دیگر جرائم کا اعتراف کرلیا، جس پر عدالت نے اسے ساڑھے 10 سال قید کی سزا سنادی۔
ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاکہ متاثرہ خواتین کی شناخت محفوظ رکھی جاسکے۔ عدالت میں پیش کیے گئے متفقہ حقائق کے مطابق ملزم نے اپنی ایک بیٹی کو 14 سے 17 سال کی عمر کے دوران بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
کراؤن پراسیکیوٹر لانا موریلی نے سسکیٹون کنگز بینچ کی عدالت میں سزا کی سماعت کے دوران بتایا کہ یہ جرائم اس وقت سامنے آئے جب متاثرہ لڑکی کی والدہ نے 2025 کے موسم بہار میں شاہی کینیڈین گھڑ سوار پولیس سے رابطہ کرکے بتایا کہ ان کے شوہر اپنی بیٹی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کر رہے ہیں۔
پراسیکیوٹر کے مطابق والدہ نے اپنے شوہر سے اس معاملے پر متعدد مرتبہ بات کی، تاہم وہ بظاہر اپنے فعل پر شرمندہ ہونے کے بجائے اس پر فخر کرتا تھا۔والدہ نے پولیس کو بتایا کہ بعض اوقات انہیں اپنی کرسی پر بیٹھ کر انتظار کرنا پڑتا تھا کہ ملزم اپنی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی ختم کرے تاکہ وہ رات کو سونے کیلئے جاسکیں۔
پولیس سے گفتگو کے دوران بیٹی نے بتایا کہ پہلی مرتبہ اس کے والد نے اسے جنسی تعلق قائم کرنے کیلئے کہا تو اس نے انکار کردیا تھا، تاہم اس کے باوجود ملزم نے اس کے ساتھ زیادتی کی اور یہ سلسلہ جاری رہا۔
متاثرہ لڑکی کے مطابق اس کے والد نے اسے کسی کو بتانے سے منع کرتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے کسی کو بتایا تو وہ جیل چلا جائے گا، جس کے باعث وہ والد کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی۔
تحقیقات کے دوران پولیس کی جانب سے خاندان کے دیگر افراد سے بات چیت کے بعد مزید واقعات بھی سامنے آئے۔
ملزم نے اپنی بہن سے بھی جنسی زیادتی کا اعتراف کیا۔ یہ واقعہ تقریباً 40 سال قبل اس وقت پیش آیا تھا جب اس کی بہن 14 سال اور ملزم 18 سال کا تھا۔ ملزم نے صوفے پر سوئی ہوئی بہن کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس کے علاوہ ملزم نے اپنی ایک اور نوعمر بیٹی کو بھی اس کی رضامندی کے بغیر نامناسب انداز میں چھونے کا اعتراف کیا۔استغاثہ اور دفاع کی جانب سے مجموعی طور پر ساڑھے 10 سال قید کی سزا کی مشترکہ سفارش کی گئی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔
دفاعی وکیل شی نیوڈورف نے کہا کہ ملزم کے جرم قبول کرنے سے ایک طویل عدالتی کارروائی کی ضرورت ختم ہوگئی اور، زیادہ اہم بات یہ کہ متاثرہ خواتین کو عدالت میں پیش ہوکر اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کی گواہی دینے کی اذیت سے بچایا گیا۔
سزا سنائے جانے سے قبل ملزم نے جذباتی انداز میں معافی مانگی اور کہا کہ وہ اپنے خاندان، اپنی بہنوں، اپنی بیٹیوں اور اپنی اہلیہ کے ساتھ شوہر کی حیثیت سے ناکام رہا، جبکہ اس نے پورے معاشرے کو بھی مایوس کیا۔
عدالت کی جج کرسٹا زیر نے کہا کہ ملزم کی جانب سے اپنے جرائم کا اعتراف کرنا سزا کے فیصلے میں ایک اہم عنصر تھا۔متاثرین کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے بیانات میں ایک بیٹی کی لکھی ہوئی نظم اور دوسری بیٹی کی بنائی ہوئی تصویر بھی شامل تھی۔
جج کرسٹا زیر نے کہا کہ دونوں چیزوں نے انہیں گہرا متاثر کیا اور وہ انہیں فراموش نہیں کریں گی۔
جج کے مطابق متاثرہ خواتین کے بیانات میں شرمندگی، الجھن اور ذہنی طور پر حقیقت کو مسخ کرنے جیسے احساسات نمایاں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اعتماد کی پوزیشن پر موجود شخص کی جانب سے جسمانی زیادتی کے ساتھ ساتھ واقعات کی کہانی کو بھی اس انداز میں تبدیل کرنا انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے۔
جج نے امید ظاہر کی کہ ملزم کا جرم قبول کرنا اور سزا کا فیصلہ خاندان کو یہ سمجھنے میں مدد دے گا کہ ان جرائم کی ذمہ داری کس شخص پر عائد ہوتی ہے۔

