کراچی(نامہ نگار)معروف مذہبی اسکالر مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ جو نظامِ عدل 40 سال تک انصاف فراہم نہ کر سکے، وہ انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے۔
کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمٰن نے کہا کہ صاحبانِ اقتدار عالمی مسائل پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ملک کے اندرونی مسائل کے حل پر بھی توجہ دیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت آئی پی پیز کا مسئلہ بھی حل کرے تاکہ ملکی معیشت پر بوجھ کم ہو۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کی صورتحال یہ ہے کہ صوبوں کے حصے اور سود کی ادائیگی کے بعد حکومت کے پاس ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے خاطر خواہ وسائل نہیں بچتے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا بشیر فاروقی نے کہا کہ حکومت سودی نظام کے خاتمے کے حوالے سے سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت فیصلہ کرے تو وہ روایتی بینکوں کے ایک لاکھ ملازمین کی اسلامی بینکاری کے حوالے سے تربیت فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

