پیر، 6 اگست 1945 کی صبح 8 بج کر 15 منٹ پر امریکا نے ہیروشیما پر یورینیم سے تیار کردہ ایٹم بم گرایا، جسے خفیہ نام لٹل بوائے دیا گیا تھا۔ یہ انسانی تاریخ میں جنگ کے دوران جوہری ہتھیار کا پہلا استعمال تھا۔ بم شہر سے تقریباً 600 میٹر کی بلندی پر پھٹا اور اس کی تباہ کن طاقت تقریباً 15 ہزار ٹن ٹی این ٹی کے برابر تھی۔ چند ہی لمحوں میں گرمیوں کی ایک معمول کی صبح آگ، ملبے اور ناقابلِ تصور انسانی اذیت کے منظر میں بدل گئی۔
اس صبح ہیروشیما میں تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد موجود تھے۔ شدید حرارت، دھماکے کی تباہ کن لہر اور تابکاری نے شہر کے بیشتر حصے کو برباد کر دیا۔ ہسپتال، مواصلاتی نظام اور امدادی ادارے یا تو تباہ ہو گئے یا اتنے بڑے سانحے کا مقابلہ کرنے کے قابل نہ رہے۔ بہت سے لوگ موقع ہی پر جان سے گئے، جبکہ ہزاروں افراد شدید جھلسنے، عمارتوں کے ملبے تلے دبنے اور تابکاری سے پیدا ہونے والی مہلک بیماریوں کا شکار ہوئے۔ 1945 کے اختتام تک مرنے والوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ چالیس ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
جو لوگ زندہ بچ گئے، انہیں جاپانی زبان میں ہیباکوشا کہا جاتا ہے۔ ان میں سے بہت سوں نے باقی زندگی سرطان، جسمانی زخموں، ذہنی صدموں اور معاشرتی امتیاز کے ساتھ گزاری۔ وہ صرف ایک تباہ شدہ شہر کے باشندے نہیں تھے بلکہ انسانی تاریخ کے بدترین تجربات میں سے ایک کے زندہ گواہ بن گئے۔
تابکاری نے ہیروشیما کی تباہی کو روایتی بمباری سے یکسر مختلف بنا دیا تھا۔ اسے نہ دیکھا جا سکتا تھا اور نہ اس سے فوری طور پر بچنے کا کوئی یقینی طریقہ موجود تھا۔ اس نے جسم میں داخل ہو کر خون، ہڈیوں کے گودے اور اندرونی اعضا کو نقصان پہنچایا۔ تابکار ذرات، دھوئیں اور راکھ میں مل کر شہر کے بعض حصوں پر ’’سیاہ بارش‘‘ کی صورت میں برسے۔ بہت سے لوگ جو ابتدا میں بظاہر محفوظ دکھائی دیتے تھے، بعد میں بخار، جسم سے خون بہنے، بال جھڑنے اور شدید کمزوری کا شکار ہو گئے۔
ہیروشیما نے دنیا کو دکھایا کہ جوہری حملہ اس وقت ختم نہیں ہوتا جب آگ بجھ جاتی ہے۔ اس کے اثرات بیماری، خوف، ذہنی صدمے اور طویل انسانی مصائب کی صورت میں برسوں بلکہ نسلوں تک خاندانوں اور معاشروں کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔
ان حقائق کو یاد رکھنا ضروری ہے، مگر محض یاد رکھنا کافی نہیں۔ ہیروشیما کی تنبیہ ماضی کے کسی بند باب سے متعلق نہیں؛ وہ براہِ راست آج کے انسان سے مخاطب ہے۔ اس سانحے کے اکیاسی سال بعد دنیا کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے واقعی اس شہر کی راکھ میں لکھی ہوئی نصیحت کو سمجھا ہے؟
ہم اپنے عہد کو ترقی یافتہ، تعلیم یافتہ اور مہذب قرار دیتے ہیں۔ سائنس نے طب، مواصلات اور روزمرہ زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ عالمی ادارے ہر انسان کی برابری، آزادی اور وقار کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا کے مختلف حصوں میں آج بھی شہری آبادیوں پر بم برسائے جاتے ہیں، لوگوں کو گھروں سے بے دخل کیا جاتا ہے، بھوک کو جنگی ہتھیار بنایا جاتا ہے اور طاقت، زمین، نظریے یا مفاد کی خاطر بے گناہ انسانوں کو قتل کیا جاتا ہے۔
جدید ہتھیاروں کو خواہ کتنا ہی درست نشانہ لگانے والا قرار دیا جائے، کوئی ٹیکنالوجی کسی معصوم بچے کی موت کو قابلِ قبول نہیں بنا سکتی۔
ہیروشیما کا سبق کسی ایک بم، ایک جنگ یا ایک ملک کی تاریخ تک محدود نہیں۔ اس کا اصل پیغام یہ ہے کہ اخلاقی حدود سے آزاد فوجی طاقت بالآخر اسی انسانیت کو تباہ کر دیتی ہے، جس کے تحفظ کا وہ دعویٰ کرتی ہے۔ کوئی ملک شہروں کو ملبے میں تبدیل کرکے عظمت حاصل نہیں کرتا۔ کوئی حکومت شہری ہلاکتوں کو محض اعداد و شمار قرار دے کر اخلاقی برتری ثابت نہیں کر سکتی۔ ایک قوم کی مستقل سلامتی دوسری قوم کے خوف، ذلت یا تباہی پر قائم نہیں کی جا سکتی۔
دنیا میں موجود جوہری ہتھیار اس تنبیہ کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2026 کے آغاز میں نو جوہری طاقتوں کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 12,187 جوہری ہتھیار موجود تھے۔ ان میں سے تقریباً 9,745 فوجی ذخائر میں ممکنہ استعمال کے لیے رکھے گئے تھے، جبکہ 4,012 میزائلوں اور جنگی طیاروں کے ذریعے استعمال کے لیے تعینات تھے۔ ان تعینات ہتھیاروں میں سے تقریباً 2,100 سے 2,200 ایسے بیلسٹک میزائلوں پر نصب تھے جو انتہائی درجے کی عملی تیاری کی حالت میں رکھے جاتے ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں محض ایک غلط فیصلہ، فنی خرابی، غلط اندازہ یا بے قابو فوجی کشیدگی پورے شہروں اور آنے والی نسلوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ہیروشیما کا سبق صرف جوہری ہتھیاروں تک محدود نہیں بلکہ جنگ کی وسیع صنعت اور اس سے وابستہ تجارت پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اسلحے کی تیاری اور فروخت کبھی ایسے مفاد میں تبدیل نہیں ہونی چاہیے جو جنگوں کو طول دے یا امن کی کوششوں کو ناکام بنائے۔ طاقتور ممالک پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کمزور ریاستوں کو اپنی باہمی رقابت، سیاسی اثرورسوخ یا مالی مفاد کے لیے میدانِ جنگ نہ بنائیں۔
سلامتی کے نام پر فراہم کیے جانے والے ہتھیار اندھا دھند تباہی کے ذرائع نہیں بننے چاہییں۔ انسانی جان کو عسکری برتری، سیاسی غلبے اور تجارتی منافع پر مقدم ہونا چاہیے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ جارحیت سے صرفِ نظر کیا جائے یا اقوام کے حقِ دفاع سے انکار کر دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ میں بھی ایسی حدود موجود ہیں جنہیں کبھی عبور نہیں کیا جا سکتا۔ شہری آبادی جائز ہدف نہیں۔ بین الاقوامی انسانی قوانین اختیاری اصول نہیں۔ سفارت کاری کو کمزوری سمجھ کر رد نہیں کیا جانا چاہیے، اور منصفانہ و پائیدار امن کا ہر سنجیدہ موقع پوری دیانت داری سے استعمال کیا جانا چاہیے۔
سلامتی کا اصل مقصد انسانی جان کا تحفظ ہونا چاہیے، نہ کہ مسلسل تشدد کو معمول بنا دینا۔
ہیروشیما ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ متاثرین کبھی محض اعداد نہیں ہوتے۔ مرنے والے ہر شخص کا ایک نام تھا، ایک خاندان تھا، یادیں تھیں، خواب تھے اور ایک ایسا مستقبل تھا جو ادھورا چھوڑ دیا گیا۔ ایٹمی بم کا گنبد، مرنے والوں کی محفوظ کی گئی اشیا اور ہیباکوشا کی گواہیاں اس انسانی حقیقت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
جیسے جیسے اس سانحے کے عینی شاہدین کی تعداد کم ہو رہی ہے، ان کی گواہی کو محفوظ رکھنے اور آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی ذمہ داری ہم سب پر منتقل ہو رہی ہے۔
ہیروشیما میں ایٹمی بم کے متاثرین کی یادگار پر یہ الفاظ کندہ ہیں:
’’یہاں آسودۂ خاک تمام روحیں سکون پائیں،
کیونکہ ہم اس برائی کو پھر نہیں دہرائیں گے۔‘‘
اس عہد کا سب سے اہم لفظ ’’ہم‘‘ ہے۔ یہ ذمہ داری کسی ایک قوم، ایک حکومت یا ایک نسل پر عائد نہیں کرتا بلکہ پوری انسانیت کو مخاطب کرتا ہے۔ یہ دنیا کے ہر ملک، ہر رہنما اور ہر شہری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس تصور کو مسترد کرے کہ تشدد ہی طاقت کا آخری اور فیصلہ کن پیمانہ ہے۔
یہ عہد ہم سے صرف مرنے والوں کا سوگ منانے کا تقاضا نہیں کرتا، بلکہ ان فیصلوں، صنعتوں، رقابتوں اور خاموشیوں کا جائزہ لینے کو بھی کہتا ہے جو جنگوں کو جنم دیتی اور انسانی مصائب کو جاری رکھتی ہیں۔
ہیروشیما کی اکیاسی ویں برسی پر اس شہر کے متاثرین کو صرف خاموشی، دعاؤں اور رسمی تقریبات کے ذریعے یاد کرنا کافی نہیں۔ انہیں حقیقی خراجِ عقیدت عمل کے ذریعے پیش کیا جانا چاہیے۔ حکومتوں کو جوہری خطرات کم کرنے، شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے، اسلحے کی تجارت کو مؤثر ضابطوں کے تابع کرنے اور تباہی سے پہلے مکالمے کو موقع دینے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
جوہری طاقتوں کو صرف تباہی کے خطرے کا انتظام کرنے کے بجائے حقیقی اور بامعنی تخفیفِ اسلحہ کی جانب بڑھنا ہوگا۔ طاقتور ممالک کو قیادت کا ثبوت تسلط کے ذریعے نہیں بلکہ تحمل، انصاف اور قیامِ امن کے ذریعے دینا چاہیے۔
ہیروشیما میں جانیں گنوانے والوں کی روحیں امن کی حق دار ہیں۔ مگر زندہ لوگوں پر اس سے بھی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے: یہ یقینی بنانا کہ کسی دوسرے شہر، کسی دوسرے خاندان اور کسی آنے والی نسل کو ایسی اذیت سے دوبارہ نہ گزرنا پڑے۔
ہیروشیما کی یادگار پر کندہ وعدہ محض پتھر پر لکھی ہوئی ایک عبارت نہیں رہنا چاہیے۔ اسے عالمی طرزِ عمل کا اصول اور ہر نسل کی جانب سے دہرایا جانے والا زندہ عہد بننا چاہیے۔
امن صرف خواہشوں اور دعاؤں سے قائم نہیں ہوگا۔ امن اس وقت قائم ہوگا جب انسانیت فتح پر ضمیر، طاقت پر انسانی جان اور جنگ پر انصاف کو ترجیح دینے کا حوصلہ پیدا کرے گی۔
ہم اس برائی کو پھر نہیں دہرائیں گے۔

