تل ابیب (ایجنسیاں) اسرائیل کے شمالی علاقوں میں حزب اللّٰہ کے حملوں کے بعد تباہی اور حالات کی سنگینی پر دو میئرز نے کھل کر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دے دیا۔
لبنان کی سرحد کے قریب واقع علاقے مارگالیوت کے میئر نے ٹی وی پر براہ راست انٹرویو کے دوران آبدیدہ ہو کر کہا کہ علاقے میں ہر چیز تباہ ہو چکی ہے اور کوئی بھی ملک اسرائیل کا ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں۔ انہوں نے مغربی ممالک سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ موجودہ صورتحال پر قابو پانا ممکن نہیں رہا۔
دوسری جانب کیریت شمونہ کے میئر ایویچائی اسٹرن نے بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی پالیسیوں کو ناکام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللّٰہ عملی طور پر جیت چکی ہے جبکہ اسرائیلی ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
میئر کے مطابق ایک شہر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، 16 ہزار شہری نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ باقی رہ جانے والوں کی جانیں بھی شدید خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بمباری کے باعث شہریوں کو ہر وقت شیلٹرز میں پناہ لینا پڑ رہی ہے اور کسی بھی لمحے میزائل حملے کا خطرہ موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بغیر کسی پیشگی وارننگ کے میزائل گر رہے ہیں، جس سے عام شہری، بزرگ، معذور افراد اور بچے شدید خطرات سے دوچار ہیں، جبکہ روزمرہ زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق اسرائیل کے شمالی علاقوں میں جاری کشیدگی کے باعث حالات بدستور خراب ہو رہے ہیں اور شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔

