لاہور (نامہ نگار)وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کے بیانات بعض اوقات ان کیلئے مسئلہ اور حکومت کیلئےشرمندگی کا باعث بن جاتے ہیں۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتیں کہ حنا پرویز بٹ کتنی سنجیدہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر تحریریں کرتی ہیں۔ ان کے بقول، مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی شاید ناسمجھی میں ایسی باتیں کر جاتی ہیں جو بعد میں ان کے لیے مسئلہ اور حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہیں۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات نے بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کے حوالے سے کہا کہ ایسے واقعات میں پولیس کے پاس صرف 2 گھنٹے ہوتے ہیں اور اس دوران ملزمان کو گرفتار کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کے لیے جرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے، جس کے بعد پنجاب میں جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
عظمیٰ بخاری نے ملتان میں 15 سالہ بچے کے قتل کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے نہ آتی تو اسے ٹریفک حادثہ قرار دے دیا جاتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ بچے کے والد کے انتقال کے بعد رشتے داروں نے اسے اپنے ساتھ نہیں رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اب بہت سے رشتے دار سامنے آ رہے ہیں، لیکن اس وقت کوئی بھی ان 2 بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مقتول بچے کو کوئی تنخواہ نہیں ملتی تھی اور وہ صرف دو وقت کی روٹی کے عوض ایک شخص کے پاس کام کرتا تھا۔ بچے نے 3 مرتبہ اس شخص سے بھاگنے کی کوشش بھی کی تھی۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ ملزم کے بارے میں ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ بھی تشدد پر مبنی رویہ اختیار کرتا تھا۔ ان کے مطابق ملزم حراست سے فرار ہوا تھا اور 2 افراد اسے چھڑانے کے لیے آئے تھے۔
عظمیٰ بخاری کے مطابق ملزم کے فرار کے بعد ناکہ بندی کی گئی اور اس کا تعاقب بھی کیا گیا۔ بہاولپور کے قریب ملزمان کو روکنے کی کوشش کی گئی، لیکن وہ نہیں رکے۔
انہوں نے بتایا کہ جرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں کو گزشتہ ایک سال کے دوران ملزمان کے ساتھ مقابلوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، اس عرصے میں 7 اہلکار شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ توقیر نذیر کے ساتھ گاڑی میں موجود دوسرا شخص تاحال مفرور ہے۔
عظمیٰ بخاری نے مزید بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بچوں اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات پر اجلاس کیا اور اس بات پر استفسار کیا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے۔

