دیار غیر میں یوم آذادی

دنیا بھر میں یوم آزادی قومی جوش وجذبہ سے منایا گیا وطن عزیز میں گہماگہمی کی تو سمجھ آتی ہے روائیتی جوش وجذبہ منچلوں کا ہلہ گلا روائیتی تقریبات پرچموں کی بہار جھنڈیوں کی بھرمار پاکستانی پرچم کی مناسبت سے ملبوسات یقینی طور پر 14 اگست قومی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے ہم ہمیشہ یوم آزادی کے موقع پر اسی مناسبت سے پروگرام بھی کرتے ہیں اخبارات میں تحریریں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں تقریبات میں تقاریر بھی ہوتی ہیں لیکن ہم نے پہلی بار دیار غیر میں یوم آذادی کا تہوار منایا خوشی ہوئی کہ دیار غیر میں بسنے والے پاکستانی ہم سے زیادہ پرجوش ہیں اور وہ قومی فریضہ سمجھ کر یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں میں خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے پرچم کشائی اور یوم آذادی کا کیک کاٹا جاتا ہے پاکستان سے ہم آہنگ غیرملکی مہمانوں کو مدعو کیا جاتا ہے اور یوم پاکستان کی تقریبات دیدنی ہوتی ہیں اکثر پاکستانی اپنی گاڑیوں پر قومی پرچم لہراتے ہیں اس بار یوم آزادی کے موقع پر کینیڈا کے شہر مسی ساگا ٹورنٹو اور برامپٹن میں یوم آزادی کی تقریبات میں جانے کا اتفاق ہوا کینیڈا میں قائم پاکستانی قونصلیٹ آفسز میں خصوصی طور پر اہتمام کیا گیا تھا میں بتاتا چلوں کہ کینیڈا کی پارلیمنٹ میں 6پاکستانی ممبران خدمات سر انجام دے رہے ہیں اس کے علاوہ مقامی شہری سیاست میں بھی ان کا بھرپور کردار ہے پاکستانی ایک فعال کمیونٹی کے طور پر دیکھے جاتے ہیں ویسے تو کینیڈا کے طول وعرض میں پاکستانی خدمات سر انجام دے رہے ہیں لیکن ٹورنٹو اور مسی ساگا میں بہت بڑی تعداد میں پاکستانی آباد ہیں جو مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں انھوں نے اپنی کارکردگی سے ثابت کیا ہے کہ اگر انھیں مواقع دیے جائیں تو وہ بہترین صلاحیتوں کے حامل لوگ ہیں بہرحال یہ ایک الگ بحث ہے اس پر پھر کسی وقت بات کریں گے کہ پاکستان میں ناکام لوگ باہر آ کر کیوں کامیاب ہو جاتے ہیں اور اکثر بےسرو سامانی کے عالم میں دیار غیر میں آتے ہیں اور اپنی محنت کے بل بوتے پر نہ صرف ان معاشروں میں اپنا سماجی مقام بنا لیتے ہیں بلکہ کاروبار اور سروسز کے معاملہ میں بہترین کارکردگی کے بل بوتے پر معاشی ترقی میں بھی حیران کن کارکردگی کامظاہرہ کرتے ہیں ابھی ہم بات کر رہے تھے جشن آذادی کے حوالے سے ٹورنٹو میں ہونے والے قونصلیٹ آفس میں پرچم کشائی کی تقریب میں قونصلیٹ جنرل خلیل باجوہ صاحب نے مدعو کر رکھا تھا ہم معروف سماجی رہنما حاجی محمد جمیل،ورلڈ ٹریڈ ڈویلپر کے چیف ایگزیکٹو رانا محمد تنویرمعروف صحافی اشرف لودھی اور معروف بزنس مین حبیب فاروقی کے ہمراہ گئے تقریب میں پاکستانی نژاد کینڈین وزیر چوہدری شفقت،رکن پارلیمنٹ اقرا خالد سینٹر سلمی عطا رکن پارلیمنٹ سلمی زاہد مختلف ممالک کے سفارت کاروں اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی قونصلیٹ آفس پاکستانی گھر کا نقشہ پیش کر رہا تھا صدرمملکت اور وزیراعظم کے پیغامات سنائے گئے غیر ملکی مہمانوں نے پاکستان کی اہمیت اور دنیا میں پاکستان کے کردار کو سراہا دوسری اہم تقریب قریبی شہر برامپٹن میں پاکستانی کمیونٹی نے اپنے تئیں منعقد کی تھی جس میں عوامی پن دیکھنے کو ملا جہاں لوگوں نے اکھٹے ہو کر قومی نغمے گائے تحریک پاکستان کی جدوجہد پر روشنی ڈالی گئی حال ہی میں پاک بھارت جنگ معرکہ حق بنیان المرصوص کا خصوصی ذکر ہوا تقریب کی خاص بات پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ دوسرے ملکوں کے کئی شہری بھی شریک تھے کینیڈا میں یوم آزادی کی سب سے بڑی تقریب ہمارے دوست بدر منیر چوہدری نے یوم آزادی کے میلے کے طور پر منعقد کر رکھی تھی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی میلے میں پاکستانی مصنوعات کے سٹال لگائے گئے تھے پاکستانی فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جس سے لوگ رات گئے تک محظوظ ہوتے رہے پاکستانی کمیونٹی کے ہزاروں افراد کو اکھٹا کرنا اس کے انتظامات،سیکورٹی،پارکنگ سب بڑے چیلنجز تھے لیکن تمام انتظامات زبردست تھے کامیاب پاکستانی شو کرنے اور ہزاروں افراد کو اکھٹا کرنے پر بدر منیر چوہدری مبارکباد کے مستحق ہیں میلے کی انجوائے منٹ اپنی جگہ لیکن یہ پاکستانی کمیونٹی کا ایک پاور شو بھی تھا جس نے بڑے بڑوں کو متاثر کیا یہاں جلد بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس کیلئے امیدوار ابھی سے انتخابی مہم شروع کیے ہوئے ہیں مختلف امیدواروں کی خواہش تھی کہ وہ پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کریں لیکن انتظامیہ نے چند ایک کو موقع دیا البتہ پاکستانی نژاد کینڈین سیاستدانوں نے اس میلے کا خوب فائدہ اٹھایا یہ پاکستان کی ثقافت کا بھی آئینہ دار تھا پاکستان کے مختلف صوبوں کی ثقافت کا بھی اظہار کیا گیا بہت سارے لوگوں سے ملاقاتیں بھی ہوئیں اکثر پاکستانیوں کو وطن عزیز کے بارے میں فکر مند پایا ہر کوئی جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ کیا پاکستان میں کوئی نیا سسٹم آنے والا ہے اس نئے سسٹم کے خدوخال کیسے ہوں گے کیا نئے صوبے بن رہے ہیں نئے صوبوں کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں سیاسی حالات کس طرف کو کروٹ لے رہے ہیں معاشی معاملات کس طرف کو جا رہے ہیں یہ سوالات تقاضہ کرتے ہیں کہ قومی قیادت اس بارے پالیسی بیان جاری کرے تاکہ لوگوں کا اضطراب ختم ہو انھیں اندازہ ہو کہ ملک میں کیا ہونے جا رہا ہے.