امریکا، ایران نئی جنگ بندی پر متفق ہوگئے:روسی میڈیا کا دعویٰ

ماسکو/تہران (روسی میڈیا)روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران نئی جنگ بندی کے ایک معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں، جس میں آبنائے ہرمز سے آزادانہ بحری آمدورفت کی بحالی بھی شامل ہے۔

روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی جنگ بندی کا باضابطہ اعلان آئندہ چند روز میں متوقع ہے، جس کے بعد مذاکرات اور تکنیکی سطح کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

تاہم امریکا اور ایران کی جانب سے اس نئی جنگ بندی پر اتفاق کی آزادانہ اور باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ تازہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات بدستور پیچیدہ ہیں۔

دوسری جانب ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک عارضی مشترکہ نیوی گیشنل کوریڈور کے مجوزہ فریم ورک پر اتفاق کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک پانیوں سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کے منصوبے پر بھی کام کریں گے۔ مستقل بحری راہداری اور آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔

رواں ماہ 60 روزہ امریکا ایران جنگ بندی کی مدت بھی ختم ہوگئی تھی اور فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا۔ امریکی مؤقف کے برعکس ایران نے مستقل طور پر جنگ کے خاتمے پر زور دیا ہے۔

اس سے قبل جون میں امریکا اور ایران کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت کے تحت عارضی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس معاہدے میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے اور امریکا کی جانب سے ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کے اقدامات بھی شامل تھے۔

تاہم بعد میں جنگ بندی برقرار نہ رہ سکی اور دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ کشیدگی پیدا ہوگئی۔ 17 اگست کو رائٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ واشنگٹن نے عارضی جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کردیا جبکہ ایرانی حکام نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں مزید فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔