سرحد یونیورسٹی: طلبہ، تصادم اور ذمہ داری

گزشتہ چند روز سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے طلبہ اور ایک فوجی افسر سے متعلق واقعہ زیرِ بحث ہے۔ مختلف ویڈیوز گردش کر رہی ہیں اور ہر حلقہ اپنی معلومات، وابستگی یا تاثر کے مطابق نتائج اخذ کر رہا ہے۔ایسے ماحول میں اپنی مرضی کا فوری فیصلہ سنانا آسان ہوتا ہے مگر حقیقت تک پہنچنا مشکل ۔ اس لیے اس معاملے کو محض ایک جھگڑے یا وائرل ویڈیو کے بجائے ان ادارہ جاتی کمزوریوں کے تناظر میں بھی دیکھنا چاہیے جو ایک انتظامی اختلاف کو خطرناک تصادم میں بدل دیتی ہیں۔

میں طلبہ سرگرمیوں کا حصہ رہ چکا ہوں اور ایک بڑی یونیورسٹی میں پہلے زمانۂ طالب علمی کے دوران منتخب طلبہ نمائندے اور بعد ازاں انتظامی افسر کی حیثیت سے مختلف اہم عہدوں پر کام کرنے کا تجربہ رکھتا ہوں۔ اس تجربے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ بعض اساتذہ، ملازمین، انتظامی اہلکار یا سیاسی عناصر اپنے ذاتی، انتظامی اور گروہی مقاصد کے لیے طلبہ کو استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب بعض طلبہ جذباتیت، محدود معلومات، شخصی وابستگی یا وقتی مفاد کے باعث دوسروں کے آلۂ کار بن جاتے ہیں۔ انہیں اکثر بہت دیر سے احساس ہوتا ہے کہ جس تنازعے کو وہ اپنی اصولی جدوجہد سمجھ رہے تھے، اس کے حقیقی محرکات کہیں اور تھے۔ اس وقت تک بعض طلبہ مقدمات، تعلیمی تعطل اور مستقل دشمنیوں کی صورت میں بھاری نقصان اٹھا چکے ہوتے ہیں، جبکہ کچھ کا پورا تعلیمی مستقبل اور کیریئر تباہ ہو جاتا ہے۔

1980ء کی دہائی کے پشاور یونیورسٹی کے طلبہ کو وہ واقعہ یاد ہوگا جس میں ایک لیکچرر کی غلطی، سیاسی وابستگی اور اشتعال انگیزی کے باعث اسلامیہ کالج میں فائرنگ ہوئی، متعدد طلبہ زخمی ہوئے اور تنازع طویل عرصے تک جاری رہا۔ خیبر میڈیکل کالج میں ہونے والے تصادم اور ایک طالب علم کے قتل کے پس منظر میں بھی، اس وقت دستیاب شواہد کے مطابق، ایسے ہی عناصر موجود تھے۔ ان واقعات کا المیہ یہ ہے کہ پسِ پردہ کردار عموماً محفوظ رہتے ہیں، جبکہ زخم، مقدمات، تعلیمی نقصان، دشمنیاں اور بعض اوقات موت تک طلبہ کے حصے میں آتی ہے۔

اسی نوعیت کے پرتشدد واقعات کو جواز بنا کر فوجی حکومت نے 1984ء میں طلبہ یونینوں پر پابندی عائد کردی۔ ور آج تک ملک کے بیشتر تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینوں کے باقاعدہ انتخابات بحال نہیں ہوسکے۔ چند افراد کی اشتعال انگیزی اور بعض تنظیموں کے تشدد کی قیمت پوری طلبہ برادری اور آنے والی نسلوں نے ادا کی۔ اس تاریخ سے سبق ملتا ہے کہ طلبہ کے اقدامات کے نتائج صرف ایک دن، ایک احتجاج یا ایک کیمپس تک محدود نہیں رہتے۔

حالیہ واقعے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر اصل تنازع یونیورسٹی کے ملازمین کے درمیان، یا کسی ملازم اور انتظامیہ کے مابین تھا، تو طلبہ کو اس میں فریق کیوں بنایا گیا؟ انہیں کس نے متحرک کیا اور کس مقصد کے لیے؟ کیا انہیں معاملے کے مکمل حقائق بتائے گئے تھے یا صرف ایک فریق کا مؤقف ان کے سامنے رکھا گیا؟ کیا طلبہ نے خود حقائق جاننے کی سنجیدہ کوشش کی؟ اور کیا کسی ممکنہ تعلیمی رعایت، امتحانات میں مراعات یا دوسرے فائدے کی یقین دہانی نے ان کے فیصلے پر اثر ڈالا؟ ان سوالات کے جوابات قیاس آرائیوں کے بجائے شواہد کی بنیاد پر سامنے آنے چاہییں۔

اگر کسی ملازم نے اپنے خلاف کارروائی رکوانے، اپنا عہدہ بچانے یا انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے طلبہ کو احتجاج پر ابھارا یا انہیں کسی رعایت کی امید دلائی تو یہ محض انتظامی بددیانتی نہیں بلکہ استاد اور طالب علم کے تعلق کا سنگین استحصال ہے۔ طلبہ کسی استاد، افسر یا ملازم کی ذاتی اور انتظامی لڑائیوں کے سپاہی نہیں۔ اس پہلو کی تحقیق اس لیے بھی ضروری ہے کہ اصل ذمہ داری صرف ان نوجوانوں پر نہ ڈال دی جائے جنہیں ممکنہ طور پر کسی دوسرے شخص نے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔

کسی ملازم کی تقرری، تبادلے، معطلی، برطرفی یا اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا فیصلہ طلبہ کی پسند، ناپسند یا منظوری کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔ ایسے فیصلے قوانین، سروس رولز، شواہد اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کے تحت کرنا یونیورسٹی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر انتظامیہ اپنے فیصلوں کی وجوہات بیان نہ کرے، شکایات سننے کا معتبر نظام قائم نہ کرے یا دباؤ کے سامنے قواعد بدلتی رہے تو وہ خود ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں ہجوم ضابطے اور قانون کی جگہ لینے لگتا ہے۔ اسی طرح کسی الزام یا تادیبی کارروائی کا سامنا کرنے والے ملازم کو بھی طلبہ کا سہارا لے کر خود کو احتساب سے بچانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ طلبہ کو احتجاج کا حق حاصل نہیں۔ انہیں فیسوں، امتحانات، ہراسگی، امتیازی سلوک، کیمپس کی سلامتی، تدریسی معیار اور اپنے دیگر تعلیمی حقوق کے لیے پُرامن اور قانونی انداز میں آواز اٹھانے کا پورا حق ہے۔ ایک باشعور اور منظم طلبہ برادری یونیورسٹی کے احتساب اور بہتری میں مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم احتجاج کا حق کسی ملازم کی تقرری یا برطرفی کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لینے، انتظامی دفاتر کا گھیراؤ کرنے، کسی فرد کو دھمکانے یا اس پر چڑھ دوڑنے کا اختیار نہیں دیتا۔ طلبہ کے جائز حقوق اور یونیورسٹی کے قانونی انتظامی اختیارات کے درمیان واضح حد قائم رہنی چاہیے۔

دستیاب ویڈیوز اور ابتدائی، مگر ابھی غیر حتمی اطلاعات سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ صورتِ حال یک طرفہ نہیں تھی۔ بعض اطلاعات کے مطابق طلبہ کو ایک استاد کی جانب سے مبینہ طور پر احتجاج پر اکسایا گیا، متعلقہ فوجی افسر کی اہلیہ کے ساتھ بدتمیزی اور ہراسانی کی گئی، جبکہ بعد میں افسر کو گھیر کر اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی اور اس کی وردی بھی پھاڑ دی گئی۔ اگر یہ الزامات تحقیقات میں درست ثابت ہوتے ہیں تو تصادم کو اس نہج تک پہنچانے کی بڑی ذمہ داری ان طلبہ اور پسِ پردہ کرداروں پر عائد ہوگی جنہوں نے انہیں مشتعل یا استعمال کیا۔

کسی شخص کے سامنے اس کی اہلیہ کو ہراساں کیا جائے اور پھر اسے بھی ہجوم گھیر کر تشدد کا نشانہ بنانے لگے تو اس کا مشتعل ہونا انسانی اور فطری ردِعمل ہے۔ چنانچہ متعلقہ فوجی افسر کے پستول نکالنے اور ہوائی فائرنگ کرنے کے عمل کو واقعے کے پورے پس منظر سے الگ کرکے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم کسی ردِعمل کا انسانی طور پر قابلِ فہم ہونا اور قانونی طور پر درست ہونا دو مختلف باتیں ہیں۔ فوجی افسر کے طرزِعمل کی جانچ ضرور ہونی چاہیے، لیکن اس کی اہلیہ سے مبینہ بدسلوکی، افسر پر حملے، وردی پھاڑنے اور طلبہ کو اشتعال دلانے والے کرداروں کو نظرانداز کرکے ساری ذمہ داری صرف اسی پر ڈال دینا انصاف نہیں ہوگا۔ انصاف منتخب مذمت کا نام نہیں؛ ایک فریق کی غلطی دوسرے فریق کی زیادتی کو جائز نہیں بناتی۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جب تک سچ سامنے آتا ہے، جھوٹ گاؤں کے گاؤں اجاڑ چکا ہوتا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی یہی صورتِ حال دکھائی دے رہی ہے۔ اس تحریر کے وقت تک یونیورسٹی انتظامیہ، پولیس یا کسی دوسرے متعلقہ ادارے کی جانب سے ایسا جامع اور مصدقہ بیان سامنے نہیں آیا جس میں واقعے کا مکمل پس منظر، زمانی ترتیب اور تمام فریقوں کا مؤقف بیان کیا گیا ہو۔ اس ادارہ جاتی خاموشی نے افواہوں، قیاس آرائیوں اور من گھڑت کہانیوں کے لیے وسیع میدان پیدا کردیا ہے۔

یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ اور باہم متضاد خبروں کا بازار گرم ہے۔ کوئی اپنے سیاسی رجحان کے مطابق آدھی ویڈیو دکھا رہا ہے،کوئی نامعلوم ذرائع کا حوالہ دے کر من گھڑت کہانیاں پھیلا رہا ہے اور کوئی ثبوت کے بغیر اپنی رائے کو ’’مصدقہ خبر‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو واقعے کا صرف ایک حصہ دکھا سکتی ہے، لیکن خود ساختہ تجزیہ کار اسی محدود منظر کی بنیاد پر مدعی، گواہ، تفتیشی افسر اور منصف، چاروں کردار سنبھال لیتے ہیں۔ اس طرزِعمل سے حقائق دھندلا جاتے ہیں اور بے گناہ افراد کی عزت، ساکھ اور سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔

پاکستان میں مسئلہ قوانین کی کمی سے زیادہ ان کے غیر جانب دار اور یکساں نفاذ کا ہے۔ جھوٹی خبریں، اشتعال انگیز افواہیں اور دانستہ طور پر گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کی روک تھام کے لیے قانونی دفعات موجود ہیں، لیکن ان کا مؤثر اور منصفانہ استعمال کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اس کے برعکس یہی قوانین اکثر سیاسی مخالفین، ناقدین اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال ہوتے نظر آتے ہیں۔ یوں یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ قانون کا مقصد عوام کو نقصان دہ جھوٹ سے محفوظ رکھنا نہیں بلکہ طاقت ور حلقوں کو سیاسی تنقید سے بچانا ہے۔

حساس واقعات کے دوران پھیلائی جانے والی افواہیں خاص طور پر خطرناک ہوتی ہیں، کیونکہ وہ فوری طور پر اشتعال، ہجومی تشدد اور انتقام کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس لیے ان کی بروقت تردید اور روک تھام ضروری ہے، لیکن جھوٹی خبر کے خلاف کارروائی کے نام پر آزادیٔ اظہار کا گلا بھی نہیں گھونٹا جانا چاہیے۔ تنقید، اختلافِ رائے، تحقیقاتی صحافت اور دانستہ جھوٹ پھیلانے کے درمیان واضح قانونی فرق ہونا چاہیے۔ کسی غلط اطلاع پر نیک نیتی سے دی گئی رائے اور منصوبہ بندی کے ساتھ گھڑی گئی جعلی خبر کو ایک درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ قانون کا اطلاق مواد، نیت، ممکنہ نقصان اور شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ متعلقہ شخص کی سیاسی وابستگی کو دیکھ کر۔

افواہوں کے اس خلا کو پُر کرنے کی بنیادی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ کسی حساس واقعے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ، پولیس اور دیگر ذمہ دار اداروں کو بروقت ابتدائی حقائق جاری کرنے اور تحقیقات کی پیش رفت سے عوام کو آگاہ رکھنے کا نظام بنانا چاہیے۔ ادارے خاموش رہیں گے تو افواہ خبر بنے گی، قیاس حقیقت کا روپ اختیار کرے گا اور سوشل میڈیا کا شور عوامی رائے پر غالب آجائے گا۔ معلومات کو روکنا عموماً اداروں کو تحفظ نہیں دیتا بلکہ ان پر عدم اعتماد میں اضافہ کرتا ہے۔

معاملے میں شریک کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں، خواہ وہ فوجی افسر ہو، یونیورسٹی کا عہدیدار، استاد، ملازم یا طالب علم۔ دھمکی، تشدد، بدتمیزی، اسلحے کے استعمال، اختیارات سے تجاوز اور اشتعال انگیزی کے تمام الزامات کی تحقیقات کے لیے غیر جانب دار، قابلِ اعتماد اور متعلقہ مہارت رکھنے والے افراد پر مشتمل آزاد کمیٹی قائم ہونی چاہیے۔ کمیٹی تمام فریقوں اور عینی شاہدین کے بیانات، مکمل ویڈیوز، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کا جائزہ لے۔

تحقیقات صرف واقعے کے آخری چند منٹ تک محدود نہ ہوں۔ یہ بھی معلوم کیا جائے کہ اصل تنازع کب اور کیوں شروع ہوا، طلبہ کو کس نے متحرک کیا، انہیں کیا معلومات یا یقین دہانیاں دی گئیں، سکیورٹی عملے نے کیا کردار ادا کیا اور انتظامیہ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے بروقت اقدام کیوں نہیں کیا۔ تمام فریقوں کو منصفانہ سماعت دی جائے، نتائج کا قابلِ فہم خلاصہ عوام کے سامنے لایا جائے اور کسی شخص کو انتقام، کردار کشی یا میڈیا ٹرائل کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

اس واقعے کا ایک اہم پہلو نجی تعلیمی اداروں کی ناقص نگرانی اور ضابطہ کاری بھی ہے۔ حکومت نے بہت سے ایسے افراد اور گروہوں کو تعلیمی ادارے قائم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے جن کے نزدیک تعلیم قومی اور سماجی ذمہ داری کے بجائے محض منافع بخش کاروبار بن چکی ہے۔ عمارتیں، اشتہارات اور داخلوں کی تعداد تو نمایاں ہوتی ہے، مگر علمی ماحول، قابل اساتذہ، شفاف نظم و نسق، طلبہ کی بہبود اور تحقیق پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ مؤثر نگرانی نہ ہونے سے انتظامی بے قاعدگیاں بڑھتی اور تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے۔ تعلیم کوئی عام کاروبار نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل سے متعلق قومی امانت ہے۔

تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی اجازت صرف سرمایہ، عمارت اور کاغذی شرائط کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ مالکان اور منتظمین کی تعلیمی اہلیت، انتظامی صلاحیت، مالی شفافیت، تدریسی معیار، طلبہ کا تحفظ، شکایات کے ازالے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کا نظام بھی بنیادی شرائط ہونی چاہییں۔ متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو رسمی دوروں اور فائلوں کی جانچ کے بجائے باقاعدہ کارکردگی آڈٹ کرنا چاہیے۔ مسلسل ناکامی، ضابطوں کی خلاف ورزی یا طلبہ کے تحفظ سے غفلت کی صورت میں جرمانے، داخلوں پر پابندی اور منظوری کی معطلی جیسے اقدامات کیے جانے چاہییں۔

کمزور اداروں میں قواعد کے بجائے شخصیات، تعلقات، سفارش اور دباؤ فیصلوں پر غالب آجاتے ہیں۔ نتیجتاً شکایات کے حل کا معتبر راستہ باقی نہیں رہتا اور معمولی اختلاف گروہی کشمکش میں بدل جاتا ہے۔ اس صورتِ حال کی روک تھام کے لیے آزاد اور رازداری پر مبنی شکایتی نظام، تربیت یافتہ سکیورٹی عملہ، واضح ضابطۂ اخلاق اور تنازعات کے حل کے لیے مؤثر مکالماتی طریقۂ کار ناگزیر ہیں۔ طلبہ نمائندوں کو قانون، مذاکرات، اختلاف کے آداب اور ہجوم کی نفسیات سے متعلق تربیت دی جائے، جبکہ اساتذہ اور ملازمین پر واضح کیا جائے کہ طلبہ کو ان کے ذاتی یا انتظامی تنازعات کے لیے استعمال کرنا سنگین بددیانتی ہے۔

یونیورسٹیاں تعلیم، تحقیق، اختلافِ رائے، مکالمے اور کردار سازی کے مراکز ہیں؛ انہیں ذاتی مفادات، گروہی سیاست اور طاقت کی آزمائش کا میدان نہیں بننا چاہیے۔ سرحد یونیورسٹی کے واقعے کو دبانے، کسی ایک فریق کو پیشگی مجرم قرار دینے یا معاملے کو چند تادیبی کارروائیوں تک محدود رکھنے سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اسے آزاد تحقیقات، واضح جواب دہی، ذمہ دارانہ ابلاغ اور دیرپا ادارہ جاتی اصلاح کا نقطۂ آغاز بنایا جانا چاہیے۔ اگر ہم نے اس موقع سے سبق نہ سیکھا تو کردار اور جگہیں بدل جائیں گی، مگر ایسے واقعات مختلف شکلوں میں دوبارہ جنم لیتے رہیں گے اور ان کی سب سے بھاری قیمت ایک مرتبہ پھر طلبہ ہی ادا کریں گے۔