ٹورنٹو (نمائندہ خصوصی) لبرل پارٹی آف کینیڈا (اونٹاریو) کے چیئر قیصر ڈار نے کہا ہے کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان تجارتی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی قیمت سرحد کے دونوں جانب کارکنوں، خاندانوں، کسانوں اور کاروباری اداروں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔
کینیڈا امریکا تعلقات کے حوالے سے اپنے تازہ بیان میں قیصر ڈار نے کہا کہ موجودہ صورتحال مضبوط قیادت، واضح ترجیحات اور اعتماد کا تقاضا کرتی ہے۔ کینیڈا کو اپنے قومی مفادات، کارکنوں اور کاروباری اداروں کا مضبوطی سے دفاع کرنا چاہیے اور مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کرنے چاہئیں، تاہم مضبوط مؤقف کے لیے توہین، اشتعال انگیزی یا سیاسی تھیٹر کی ضرورت نہیں۔
قیصر ڈار نے کہا کہ امریکا کینیڈا کا قریبی اتحادی ہے اور اسے احترام کا مستحق سمجھا جانا چاہیے، اسی طرح کینیڈا بھی باہمی احترام کا مستحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ جھیل اونٹاریو کا نام ’’لیک امریکا‘‘ رکھنے کی بات سرخیاں تو بنا سکتی ہے لیکن اس سے دونوں ممالک کو درپیش مسائل حل نہیں ہوں گے۔ سیاسی تھیٹر سفارت کاری کا متبادل نہیں اور توہین قیادت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔
قیصر ڈار نے کہا کہ کینیڈا کو اپنے مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرنا چاہیے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ذاتی حملوں یا اشتعال انگیز بیان بازی سے گریز کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کو اپنے مفادات کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے، تاہم اسے امریکی شہریوں کو یہ نہیں بتانا چاہیے کہ انہیں کس کو ووٹ دینا چاہیے۔ کینیڈا کو امریکی سیاست میں مداخلت کی ضرورت نہیں اور اسی طرح اسے اپنی جمہوریت کے احترام کی توقع امریکا سے بھی رکھنی چاہیے۔
قیصر ڈار نے وزیرِ اعظم مارک کارنی کی قیادت اور وژن کو سراہتے ہوئے وزیرِ صنعت میلانیا جولی اور وزیرِ خزانہ فرانسوا فلپ شامپین کی جانب سے کینیڈین کارکنوں، کاروباروں اور کمیونٹیز کی مدد کے لیے اعلان کردہ 7.5 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج اور 27.6 ارب ڈالر کے جوابی ٹیرف اقدامات کو بھی سراہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ کینیڈا مشکل صورتحال میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہے، تاہم صرف حکومتی امداد کافی نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان زیادہ مضبوط اور مستحکم تجارتی تعلقات کے لیے کوششیں جاری رہنی چاہئیں تاکہ کینیڈین ملازمتوں کا تحفظ، ملکی معیشت کی مضبوطی اور دونوں ممالک کے طویل مدتی مفادات یقینی بنائے جا سکیں۔
قیصر ڈار نے کہا کہ کینیڈا اور امریکا دشمن نہیں بلکہ پڑوسی، اتحادی اور ایک دوسرے سے گہری معاشی وابستگی رکھنے والی معیشتیں ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات کو توہین، سیاسی تھیٹر یا مختصر مدتی محاذ آرائی سے متعین نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا مضبوط مؤقف اختیار کرتے ہوئے بھی غیر ذمہ دارانہ رویے سے گریز کر سکتا ہے، اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہوئے امریکی عوام کو مخالف نہیں سمجھنا چاہیے اور کسی حکومت سے اختلاف کو لاکھوں امریکی شہریوں کے خلاف دشمنی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
قیصر ڈار نے کہا کہ ذمہ دار قیادت کا مطلب اعتماد، وقار اور مقصد کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ کینیڈا کو اپنے مفادات اور کارکنوں کا تحفظ کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ تعاون کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا کو اپنی طاقت اور شراکت داری میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کی ضرورت نہیں، دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ممکن ہے۔ کینیڈا اور امریکا اس وقت زیادہ مضبوط ہوں گے جب محاذ آرائی کے بجائے تعاون اور تقسیم کے بجائے شراکت داری کو ترجیح دی جائے۔

