امریکی رکنِ کانگریس کی کینیڈا پر ٹیرف کے معاملے میں ٹرمپ پر تنقید

واشنگٹن (سی بی سی) امریکی ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس ڈان بائر نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’بے وقوفانہ‘‘ اقدام قرار دیا ہے۔

سی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈان بائر نے کہا کہ کینیڈا ورجینیا کی دوسری بڑی تجارتی شراکت دار ریاست ہے اور امریکی ریاست کے لیے سب سے بڑی برآمدی منڈی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے اپنے کانگریشنل ڈسٹرکٹ میں تقریباً 7 ہزار ملازمتیں اور ایک ارب ڈالر کی اشیا و خدمات کینیڈا کے ساتھ تجارت پر منحصر ہیں۔

ڈان بائر نے کہا کہ امریکا کو اپنے قریب ترین تجارتی شراکت دار کے ساتھ تجارتی جنگ شروع نہیں کرنی چاہیے۔ ان کے بقول امریکا اور کینیڈا گزشتہ 200 سے زائد برس سے شراکت دار رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکا‘‘ رکھنے کی تجویز سمیت حالیہ بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈان بائر نے کہا کہ صدر ’’انتہائی غیر دانشمندانہ بیان بازی‘‘ کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔

ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس نے کہا کہ اگر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیاب ہوگئے تو ان کی جماعت ایسا قانون منظور کرے گی جس کے ذریعے ٹیرف عائد کرنے کا اختیار دوبارہ کانگریس کو منتقل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع آئندہ انتخابات میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ کینیڈا سے مضبوط تجارتی روابط رکھنے والی امریکی سرحدی ریاستوں میں سینیٹ کی متعدد نشستیں داؤ پر لگی ہیں۔ڈان بائر نے مزید کہا کہ امریکا کو دنیا بھر میں دوست بنانے چاہئیں، نہ کہ صدیوں سے دوست رہنے والے ممالک کو اپنے سے دور کرنا چاہیے۔