ٹورنٹو ریپر کو دو خواتین کے قتل پر عمر قید، کم از کم 22 سال بعد پیرول کا اہل ہوگا

اونٹاریو (سی بی سی) فورٹ ایری، اونٹاریو میں ایک گھر کی پارٹی کے دوران دو نوجوان خواتین کو قتل کرنے کے جرم میں ٹورنٹو کے ریپر کرسٹوفر لوکاس کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی، وہ کم از کم 22 سال جیل میں گزارنے کے بعد ہی پیرول کیلئے اہل ہوگا۔

اونٹاریو سپیریئر کورٹ کے جسٹس جیمز ریمزی نے پیر کو سزا سناتے ہوئے کہا کہ کرسٹوفر لوکاس، جو ریپ کی دنیا میں ایل پلاگا (El Plaga) کے نام سے جانا جاتا ہے، نے دونوں خواتین کو قتل کرنے کیلئے انتہائی سنگ دلانہ اور حساب شدہ طریقہ اختیار کیا۔ عدالت نے اس کے تشدد اور اسلحے سے متعلق سابقہ جرائم کے ریکارڈ اور متاثرہ خاندانوں پر ہونے والے اثرات کو بھی مدنظر رکھا۔

18 سالہ کرسٹین کروکس، جو ٹورنٹو کی رہائشی تھی، اور 20 سالہ جولیانا پینونزیو، جو وِنڈسر سے تعلق رکھتی تھی، کو 19 جنوری 2021 کو فورٹ ایری میں نیاگرا پارک وے پر واقع ایک کرائے کے مکان میں منعقدہ سالگرہ کی پارٹی کے دوران گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔

لوکاس کو رواں سال جنوری میں جیوری نے دونوں خواتین کے دوسرے درجے کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ لوکاس کا کرسٹین کروکس کے ساتھ تعلق تھا اور پارٹی کے دوران دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا۔ لوکاس نے اپنے پاس موجود گلاک پستول سے کرسٹین کے ہاتھ پر گولی ماری۔ جج کے مطابق کرسٹین نے کسی کو 911 پر کال کرنے کیلئے پکارا، جس کے بعد لوکاس نے مڑ کر اسے مزید دو گولیاں ماریں۔

عدالت کے مطابق لوکاس کو غالباً معلوم تھا کہ پارٹی میں موجود جولیانا پینونزیو، جو زیادہ تر افراد کیلئےاجنبی تھی، پولیس کو اطلاع دے سکتی ہے۔

استغاثہ کی وکیل جوڈی اوسٹاپی کے مطابق لوکاس اس کے بعد کمرے میں بیٹھی جولیانا کے پاس گیا اور اس پر سات گولیاں چلائیں۔ ان میں سے چار گولیاں اس کے سر اور گردن میں لگیں جبکہ تین دیوار میں اس کے سر کے بالکل اوپر جا لگیں۔ وکیل نے اس واقعے کو ’’اعدام کے انداز‘‘ میں کیا گیا قتل قرار دیا۔

جسٹس ریمزی نے کہا کہ جولیانا کا قتل ’’سرد مہری اور منصوبہ بندی‘‘ کا مظہر تھا۔ ان کے مطابق لوکاس نے جولیانا کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ اسے نہیں جانتا تھا اور اسے خدشہ تھا کہ وہ کرسٹین پر فائرنگ کے بارے میں پولیس کو اطلاع دے سکتی ہے۔

جج نے کہا کہ اس واقعے سے زندگی کے حوالے سے لوکاس کی ’’خوفناک بے حسی‘‘ ظاہر ہوتی ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ لوکاس 10 برس کی عمر میں جمہوری جمہوریہ کانگو سے کینیڈا منتقل ہوا تھا اور ایک ایسے علاقے میں پلا بڑھا جہاں گینگ سرگرمیاں عام تھیں۔ استغاثہ کے مطابق اس کے تین دوست پرتشدد واقعات میں مارے گئے جبکہ لوکاس خود بھی ایک مرتبہ ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوا تھا۔

لوکاس کا تشدد اور اسلحے سے متعلق جرائم کا مجرمانہ ریکارڈ نوعمری سے شروع ہوا اور جوانی تک جاری رہا۔ استغاثہ کے مطابق اس نے اپنی بالغ زندگی کا نصف سے زیادہ عرصہ حراست میں گزارا ہے۔

کینیڈا میں دوسرے درجے کے قتل کی سزا خودکار طور پر عمر قید ہے، تاہم جج یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ملزم کتنے عرصے بعد پیرول کیلئے اہل ہوگا، جو عام طور پر 10 سے 25 سال کے درمیان ہو سکتا ہے۔

لوکاس کے وکلا نے 18 سال بعد پیرول کی اہلیت کی درخواست کی تھی جبکہ استغاثہ نے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ اسے 25 سال تک پیرول کا اہل نہ قرار دیا جائے۔ جیوری کے 12 میں سے 9 ارکان نے بھی 25 سال تک پیرول نہ دینے کی سفارش کی تھی۔

جسٹس ریمزی نے بالآخر لوکاس کو کم از کم 22 سال جیل میں رکھنے کا حکم دیا۔ سزا سنائے جانے کے بعد لوکاس کو عدالت سے باہر لے جایا گیا، اس نے سزا کے موقع پر عدالت سے خطاب کرنے سے انکار کیا اور اس کے چہرے پر کوئی تاثر نظر نہیں آیا۔