لندن (رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس) برطانیہ نے سعودی عرب کو حوثی حملوں سے محفوظ رکھنے کیلئے رائل ایئر فورس کے ٹائفون لڑاکا طیاروں کے ذریعے دفاعی فضائی کارروائیاں شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ برطانوی وزارتِ دفاع کے مطابق طیارے سعودی شہروں، شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے حملوں سے بچانے میں مدد دیں گے، تاہم ان کا کردار دفاعی ہوگا اور وہ حوثیوں کے خلاف حملہ آور کارروائیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔
برطانوی وزارتِ دفاع نے 20 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ سعودی عرب کو اضافی فوجی مدد فراہم کرنے کا فیصلہ خطے میں حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ کے مطابق ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے واقعات نے صورتِ حال کو مزید سنگین کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ سعودی فضائی حدود کے تحفظ اور شہریوں کی سلامتی کیلئے دفاعی معاونت بڑھا رہا ہے۔
برطانوی مدد میں ٹائفون لڑاکا طیاروں کے علاوہ اٹلس اے 400 ایم فوجی نقل و حمل کا طیارہ اور سعودی فوجی حکام کی معاونت کیلئے فوجی مشیر بھی شامل ہوں گے۔ برطانیہ پہلے ہی سعودی عرب کو دفاعی سازوسامان اور فضائی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ستمبر میں اعلان کردہ پیکیج میں رائل ایئر فورس کا ووئیجر طیارہ شامل تھا، جو فضا میں دوسرے طیاروں کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔ اب لڑاکا طیاروں کی تعیناتی سے سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔
برطانوی حکومت کے مطابق حوثیوں کے حملے نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی بلکہ علاقائی استحکام، توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارتی راستوں کیلئے بھی خطرہ ہیں۔ بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب عالمی بحری تجارت کیلئے اہم گزرگاہیں ہیں، جہاں کشیدگی بڑھنے سے تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ لندن نے دفاعی معاونت کے ساتھ سفارتی کوششیں اور تنازع کے پُرامن حل کیلئے مذاکرات کی حمایت جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
دریں اثنا یمن کے جنوبی صوبے شبوا میں حوثیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں سرکاری سکیورٹی فورسز کے تربیتی کیمپ میں ہلاکتوں کی تعداد 58 ہوگئی، جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شبوا کے گورنر عوض الوزیر کے مطابق حملہ 19 اکتوبر کو العَلَم تربیتی کیمپ پر کیا گیا، جہاں نئے سکیورٹی اہلکار تربیت حاصل کر رہے تھے۔ حکام نے 14 افراد کے لاپتا ہونے کی بھی اطلاع دی۔ حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان حالیہ ہفتوں میں لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے۔
برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کیلئے دفاعی معاونت میں توسیع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن میں لڑائی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے سے خطے میں سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ لندن کا کہنا ہے کہ نئی فضائی کارروائیاں سعودی شہروں اور اہم تنصیبات کو حملوں سے بچانے تک محدود رہیں گی۔

