صومالی قزاقوں کے ہاتھوں جاں بحق 3 پاکستانیوں کی میتیں اور 4 زخمی کراچی پہنچ گئے

کراچی (نمائندہ خصوصی) صومالی قزاقوں سے چھڑائے گئے آئل ٹینکر ایم ٹی آنر 25 میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کی میتیں اور 4 زخمی کراچی پہنچ گئے۔گورنر سندھ نہال ہاشمی، صوبائی وزیر سعید غنی، ناصر شاہ سمیت دیگر رہنما ایئرپورٹ پر موجود تھے، جہاں حکومتی نمائندوں نے بحری قزاقوں کے حملے میں زخمی پاکستانیوں کا استقبال کیا۔

ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق صومالیہ سے آنے والے کسی زخمی کو قرنطینہ کے لیے نہیں بھیجا جا رہا، زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔زخمی امین بن شمس اور عقیل خان نے کہا کہ وطن واپس آکر بہت اچھا محسوس کر رہے ہیں۔

اس سے قبل صومالیہ میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے وزارت خارجہ کو موصول ہونے والے مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ حملے میں جاں بحق ہونے والے بحری جہاز کے سیکنڈ افسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری اور بوائلر آپریٹر کی میتیں آج شام 4 بجے پاکستان پہنچائی جائیں گی۔

مراسلے میں کہا گیا تھا کہ کراچی ایئرپورٹ پر جاں بحق اور زخمیوں کی حوالگی اور ایمبولینس کے انتظامات مکمل کیے جائیں۔جہاز کے عملے کے زخمی 4 ارکان یاسر خان، عقیل خان، عثمان غنی اور شمس امین کو بھی ایتھوپین ایئرلائنز کی پرواز 694 سے پاکستان لایا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے دو روز قبل صومالیہ میں جاں بحق پاکستانی کاشف عمر کے بیٹے اذہان کاشف سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور سید کاشف عمر کے انتقال پر ان سے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔

وزیراعظم نے جاں بحق تینوں پاکستانیوں کے بچوں کیلئےمفت تعلیم، صحت کی سہولتیں اور رہائش گاہ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔وزیراعظم شہباز شریف نے جاں بحق پاکستانیوں کے اہل خانہ کیلئے فی خاندان ایک کروڑ 25 لاکھ روپے مالی معاونت کا بھی اعلان کیا۔