سسکاٹون، سسکیچیوان (سی بی سی، اقوام متحدہ، یونیسف، یو این ویمن) افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے پانچ سال مکمل ہونے پر ایک افغان پناہ گزین خاتون نے سسکاٹون میں اپنی نئی زندگی اور آزادی کے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا پہنچنے کے بعد اسے اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ خواب پورے کرنے کا موقع ملا۔
فرخندہ ہاشمی ان افغان پناہ گزینوں میں شامل ہیں جنہیں طالبان کے اگست 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان سے نکلنا پڑا۔ وہ 2023 میں اپنے خاندان کے ہمراہ سسکاٹون پہنچی تھیں اور اس وقت یونیورسٹی آف سسکیچیوان میں اربن پلاننگ کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔
فرخندہ ہاشمی کے مطابق جب طالبان نے کابل پر قبضہ کیا تو وہ ہائی اسکول کی طالبہ تھیں۔ اس وقت وہ یونیورسٹی جانے اور مستقبل میں اپنا کیریئر بنانے کی منصوبہ بندی کررہی تھیں، تاہم طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد لڑکیوں کیلئےاعلیٰ تعلیم اور ملازمت کے دروازے بند کردیئے گئے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کے آنے سے قبل انہیں ہائی اسکول جانے، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور کیریئر بنانے کا حق حاصل تھا، لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد لڑکیوں کو یونیورسٹی جانے اور کام کرنے کی اجازت نہیں رہی۔
فرخندہ نے بتایا کہ وہ فٹبال کھیلنے کا بھی شوق رکھتی تھیں اور مستقبل میں ایتھلیٹ بننے سمیت کئی خواب دیکھے تھے، لیکن طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے یہ خواب ادھورے رہ گئے۔
اقوام متحدہ کے مطابق طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والے تقریباً 100 احکامات جاری کیے ہیں۔ افغانستان میں لڑکیوں کو چھٹی جماعت سے آگے تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ خواتین کی تعلیم، ملازمت اور آزادانہ نقل و حرکت پر بھی سخت پابندیاں عائد ہیں۔
اوپن سوسائٹی جسٹس انیشی ایٹو کی سینئر قانونی مشیر نتاشا آرن پریسٹر نے سی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پانچ برس کے دوران خواتین کے حقوق کو منظم انداز میں محدود کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ اسے دنیا میں خواتین کے حقوق کا شدید ترین بحران قرار دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ طالبان کی پالیسیوں کے نتیجے میں افغانستان میں خواتین کیلئےتعلیم، روزگار اور صحت کی سہولتوں تک رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
فرخندہ ہاشمی نے بتایا کہ ان کی بہن نے اسکول میں اسلام کے حوالے سے سوالات کرنا شروع کیے تو اسے ایسا کرنے سے روک دیا گیا اور خاندان کو خدشہ تھا کہ اس کی وجہ سے اسے نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ان کے خاندان نے کابل میں خود کو غیر محفوظ محسوس کیا۔
ان کی والدہ کا بطور دائی کام کرنے کے باعث کینیڈا اور امریکا سے رابطہ تھا اور اسی ذریعے سے خاندان کا تعلق 30 برڈز فاؤنڈیشن سے قائم ہوا، جو 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد قائم کی گئی تھی اور افغان خواتین و لڑکیوں، بالخصوص طالبات، کو محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس نے 400 سے زائد افغان خواتین اور لڑکیوں کو سسکاٹون پہنچانے میں مدد کی ہے، جن میں فرخندہ ہاشمی اور ان کا خاندان بھی شامل ہے۔فرخندہ کا خاندان 2022 میں کابل سے پاکستان منتقل ہوا جہاں انہوں نے ایک سال گزارا، جس کے بعد 2023 میں کینیڈا پہنچے۔انہوں نے 30 برڈز فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ان کیلئےخاندان سے بڑھ کر ہے، اس نے ان کی اور ان کے خاندان کی جان بچائی۔
کینیڈا پہنچنے کے احساس کو بیان کرتے ہوئے فرخندہ نے صرف ایک لفظ ’’محفوظ‘‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ وہ ایسے ملک میں پہنچ چکی ہیں جہاں انہیں تعلیم حاصل کرنے اور کیریئر بنانے کے خواب پورے کرنے کا موقع ملے گا۔
انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی آف سسکیچیوان میں اربن پلاننگ کی تعلیم شروع کردی ہے اور مستقبل میں کینیڈا میں نئے شہروں کی ترقی کے شعبے میں کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔فرخندہ ہاشمی کا کہنا تھا کہ وہ کینیڈا میں اپنی نئی زندگی سے خوش ہیں، تاہم افغانستان میں رہ جانے والی خواتین اور لڑکیوں کو نہیں بھولتیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو جس تکلیف کا سامنا ہے وہ اسے بھی محسوس کرتی ہیں اور یہی احساس انہیں اپنی تعلیم اور شخصیت پر کام کرنے کے لیے تحریک دیتا ہے تاکہ مستقبل میں وہ ان کی مدد کرسکیں۔واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کینیڈا 60 ہزار سے زائد افغان پناہ گزینوں کو ملک میں آباد کرچکا ہے۔

