علامہ اقبال پر نئی یلغار

پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال پر ایک نئی یلغار شروع ہو چکی ہے۔ بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس کے اسٹوڈنٹ ونگ اے بی وی پی کی طرف سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ علامہ اقبال کو بھارتی یونیورسٹیوں کے نصاب سے نکالا جائے۔ حال ہی میں جموں یونیورسٹی کے بورڈ آف اسٹڈیز نے سفارش کی ہے کہ علامہ اقبال، قائداعظم اور سر سید احمد خان کو ایم اے پولیٹکل سائنس کے نصاب سے خارج کیا جائے۔ قبل ازیں دہلی یونیورسٹی بھی علامہ اقبال کو اپنے نصاب سے خارج کر چکی ہے۔ آر ایس ایس کشمیر یونیورسٹی سرینگر میں قائم اقبال انسٹیٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی کو بھی بند کرانا چاہتی ہے کیونکہ آر ایس ایس کا اسٹوڈنٹ ونگ علامہ اقبال کو تصورِ پاکستان کا خالق سمجھتا ہے۔ دوسری طرف کنگز کالج لندن کی ایک سینئر فیلو ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے 25 اکتوبر 2026 کو سوشل میڈیا پر آکسفورڈ یونیورسٹی میں بنگالی زبان کے ایک استاد ایڈورڈ جان تھامسن کے نام علامہ اقبال کا 1934 میں لکھا جانیوالا ایک پرانا خط پوسٹ کر کے دعویٰ کیا ہے کہ علامہ اقبال نے تو انڈین فیڈریشن کے اندر ایک مسلم صوبے کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان کے تصور سے اقبال کا کوئی تعلق نہ تھا۔ اس پوسٹ پر کئی اہم بھارتی شخصیات نے اُنکا شکریہ ادا کیا۔اگر مقصد اس خط پر تحقیق کی دعوت ہوتا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ اس سے قبل پنڈت جواہر لعل نہرو بھی ایڈورڈ جان تھامسن کا حوالہ دیکر یہ دعویٰ کر چکے تھے کہ علامہ اقبال اپنی زندگی کے آخری ایام میں پاکستان کے مطالبے سے لاتعلق ہو چکے تھے۔لیکن 27 اکتوبر کو ایک اور پوسٹ میں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے علامہ اقبال کیخلاف انکے بیٹے جسٹس جاوید اقبال کو بھی گھسیٹ لیا اور ایک پوسٹ میں انکی کتاب کا ذکر کر دیا۔

مجھے اس پوسٹ کی اطلاع کنگز کالج لندن کے ایک استاد نے دی انہوں نے مجھے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کی سوشل میڈیا پر یہ دوسری پوسٹ بھیجی جس میں انہوں نے پہلی پوسٹ پر تنقید کرنیوالوں کو جواب دیتے ہوئےلکھا تھا کہ علامہ اقبال کے بیٹے جسٹس (ڈاکٹر) جاوید اقبال کی کتاب پڑھ لیں کہ وہ کیا لکھتے ہیں اپنے والد کے تصورِ پاکستان کے بارے میں۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ یہ کون سی کتاب ہے اور اس میں جاوید اقبال نے کیا لکھا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ اس کتاب کا نام ’’زندہ رود‘‘ ہے اور اس میں ’’مسلم ریاست کا تصور‘‘ کے نام سے ایک باب میں صفحہ 450 سے صفحہ 494 تک جسٹس جاوید اقبال نے ٹھوس تاریخی شواہد کے ساتھ ایڈورڈ جان تھامسن کو جھوٹا اور بددیانت قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ علامہ اقبال اپنی زندگی کے آخری ایام تک ایک اسلامی ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین قرار دیتے تھے۔ میرا جواب پڑھ کر کنگز کالج کے اس استاد نے تقاضا کیا کہ میں انہیں مذکورہ کتاب کے ان صفحات کے اسکرین شاٹس بھیجوں کیونکہ یہ کتاب انکے پاس لندن میں نہیں تھی۔ میں نے یہ تمام صفحات انہیں واٹس ایپ پر بھیج دیے۔ دو دن بعد انہوں نے بتایا کہ ان صفحات کا اردو ترجمہ کرنے کے بعد انہوں نے جسٹس جاوید اقبال کی طرف سے دئیےگئے تمام حوالہ جات کی تصدیق کر لی تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے تو علامہ اقبال کیخلاف نفرت کی سمجھ آتی ہے لیکن کچھ پاکستانیوں کی طرف سے علامہ اقبال اور جسٹس جاوید اقبال کے بارے میں فیک نیوز پھیلانے کی کیا وجہ ہے؟ کیا حکومتِ پاکستان نے علامہ اقبال کیخلاف اس فیک نیوز کا کوئی جواب دیا ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ حکومتِ پاکستان آجکل بہت مصروف ہے یہ حکومت اپنے کچھ اداروں اور چند صاحبان اختیار کی عزت و ناموس کے بارے میں تو بہت حساس ہے لیکن علامہ اقبال اور قائداعظم کیخلاف جھوٹ پھیلانے والوں کے بارے میں زیادہ حساس دکھائی نہیں دیتی ۔انہوں نے مجھے یاد دلایا کہ چند سال قبل آپ کنگز کالج میں ایک لیکچر کیلئے آئے تھے، ہم آپ کو دوبارہ ایک لیکچر کیلئے مدعو کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے ہامی بھرتے ہوئے فرمائش کی کہ اگر آپ وہاں ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کو بھی بلا لیں تو میں انہیں بڑے احترام کے ساتھ زندہ رود کی ایک کاپی کا تحفہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس کتاب میں ایڈورڈ جان تھامسن کے نام علامہ اقبال کے خطوط کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ علامہ اقبال نے 1930ء میں خطبہ الہ آباد مسلم لیگ کے صدر کی حیثیت سے دیا تھا۔ انہوں نے اس خطبے میں جو کہا وہ پارٹی پالیسی تھی۔ انہوں نے تھامسن کے نام خط میں دراصل چوہدری رحمت علی کی پاکستان اسکیم سے اعلان ِ لاتعلقی کیا تھا کیونکہ اسوقت تک مسلم لیگ نے اس اسکیم کو اپنی پالیسی نہیں بنایا تھا لیکن ذاتی طور پر علامہ اقبال ایک علیحدہ مسلم ریاست کے حامی تھے۔ انہوں نے خطبہ الہ آباد کے چند دن بعد گیارہ جنوری 1931ء کو سید نذیر نیازی کے نام ذاتی خط میں اسلامی ریاست کے قیام کو اپنا نصب العین قرار دیا جس میں ہندو اقلیت کے حقوق کا تحفظ کیا جائیگا۔ علامہ اقبال کو یقین تھا کہ کانگریس انڈین فیڈریشن کے اندر مسلم صوبے کے قیام پر راضی نہ ہوگی۔ جب کانگریس نے یہ تجویز مسترد کر دی تو علامہ اقبال اور قائداعظم دونوں نے مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن کا باقاعدہ مطالبہ شروع کر دیا۔ 28مئی 1937ء کو علامہ اقبال نےقائداعظم کے نام خط میں کہا کہ برصغیر میں ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کے مطالبے کا وقت آن پہنچا ہے۔ 21 جون 1937ء کو علامہ اقبال نے قائداعظم کے نام خط میں مسلم صوبوں کی ایک علیحدہ فیڈریشن کا ذکر کیا۔ ’’زندہ رود‘‘ علامہ اقبال کی سوانح عمری ہے جبکہ جسٹس جاوید اقبال کی اپنی خود نوشت کا نام ’’اپنا گریباں چاک‘‘ہے۔ اس کتاب میں انہوںنے لکھا ہے کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے بلکہ اسکی موجودہ قیادت ایک ناکام نسل کے ہاتھوں میں ہے۔ یہاں قائدین کی بہتات ہے اور قیادت کا فقدان ہے۔

پاکستان ایک سیاسی اور جمہوری جدوجہد کی پیداوار ہے لیکن آج پاکستان میں سیاست اور جمہوریت کو ایک مذاق بنا دیا گیا ہے۔ کسی کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نئی نسل کو پاکستان کے تصور کے بارے میں کنفیوژ کیا جا رہا ہے۔ اگر اقبال کا تصورِ پاکستان سے رشتہ کمزور کر دیا جائے تو پیچھے کیا رہ جائیگا؟ شاید اسی لیے قائداعظم نے علامہ اقبال کی وفات کے فوری بعد اپنے نام شاعرِ مشرق کے خطوط کو کتابی شکل میں خود شائع کروایا تاکہ تصورِ پاکستان اور علامہ اقبال کا رشتہ کبھی کمزور نہ ہو۔ آج بھارت کی انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس اپنے محبوب وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعے علامہ اقبال کو بھارت کی یونیورسٹیوں کے نصاب سے نکال سکتی ہے لیکن کابل یونیورسٹی کی علامہ اقبال فیکلٹی آف آرٹس اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز اور شعبہ فارسی کے نصاب سے علامہ اقبال کو کیسے نکالیگی؟ مشہد میں قائم اقبال لاہوری انسٹیٹیوٹ آف ہائر اسٹڈیز کو کیسے ختم کریگی؟ ترکیہ کے قومی ترانے کے خالق محمد عاکف ارسوئے نے علامہ اقبال کے ’پیامِ مشرق‘ کو فارسی سے ترکی زبان میں ترجمہ کیا تھا۔ ترکی کے شہر قونیہ میں مولانا روم کے مقبرے کے صحن میں علامہ اقبال کی ایک ’’شرفی قبر‘‘ بھی موجود ہے۔ اس قبر کو آر ایس ایس کیسے مٹائیگی؟ علامہ اقبال کیخلاف نئی یلغار کی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا کے موجودہ حالات میں فکرِ اقبال جبرواستبداد کیخلاف مزاحمت کا پیغام بن چکی ہے۔ ایک طرف صہیونی لابی فلسطین پر اقبال کے موقف سے پریشان ہے، اکھنڈ بھارت کے حامی اقبال کی پان اسلام ازم سے خائف ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کے حامیوں کو یہ تکلیف ہے کہ اقبال نے تہران کو مشرق کا جنیوا کیوں کہا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی کتاب میں اقبال کو مشرق کا بلند ستارہ کیوں کہا؟ علامہ اقبال مسلم ممالک میں اتحاد اور فرقہ واریت کے خاتمے کے علمبردار تھے لیکن آج بھی کئی مسلم ممالک کی حکمران اشرافیہ فکر اقبال سے خوفزدہ ہے کیونکہ اقبال ایک طرف مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام اور جاگیرداری کے مخالف تھے تو دوسری طرف ملوکیت اور بادشاہت کو بھی غیر اسلامی سمجھتے تھے۔ اقبال کے سب دشمن کل بھی آسمان پر تھوک رہے تھے آج بھی آسمان پر تھوک رہے ہیں۔ دشمنانِ اقبال فنا ہو جائیں گے لیکن فکرِ اقبال ہمیشہ زندہ رہے گی۔