امریکی وسط مدتی انتخابات، نتائج پر کینیڈا کی گہری نظر، ٹرمپ کے تجارتی اقدامات کے مستقبل پر سوالات

واشنگٹن (سی ٹی وی نیوز، خبر ایجنسیاں) امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری رہی، جبکہ ان انتخابات کے نتائج پر کینیڈا میں بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ کینیڈین تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط ہونے یا ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں اکثریت تبدیل ہونے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی ووٹرز ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر اپنے نمائندے منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈال رہے ہیں۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔ ان نتائج سے کانگریس میں ری پبلکن اور ڈیموکریٹس کی طاقت کا توازن طے ہوگا اور صدر ٹرمپ کی آئندہ دو سالہ مدت کے دوران حکومتی پالیسیوں پر بھی اثر پڑے گا۔

کینیڈا میں انتخابی نتائج کی اہمیت کی ایک بڑی وجہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین مصنوعات پر عائد محصولات اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تنازع ہے۔ امریکی ڈیموکریٹ امیدواروں نے بھی انتخابی مہم کے دوران کینیڈا کے خلاف تجارتی اقدامات کو امریکی عوام کیلئے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سے جوڑا ہے۔

کینیڈین تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو انہیں صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر سوال اٹھانے، انتظامیہ کے عہدیداروں کو طلب کرنے، سماعتیں منعقد کرنے اور حکومتی اقدامات پر سیاسی دباؤ بڑھانے کا موقع ملے گا۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے باوجود کینیڈا کے خلاف موجودہ محصولات فوری طور پر ختم ہونے کا امکان کم ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ نے یہ محصولات صدارتی اختیارات کے تحت عائد کیے ہیں۔ کانگریس میں اکثریت کی تبدیلی سے ان اقدامات پر نگرانی اور سیاسی دباؤ ضرور بڑھ سکتا ہے، لیکن تجارتی پالیسی میں تبدیلی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

یونیورسٹی آف گویلف کی سیاسیات کی پروفیسر جولی سیمنز کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی کے باوجود یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ ان کے تمام ارکان کینیڈا پر عائد محصولات ختم کرنے کے حامی ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو امریکی عوام اور کاروباری حلقوں کے سامنے یہ مؤقف پیش کرنا ہوگا کہ محصولات میں کمی امریکی معیشت اور صارفین کے مفاد میں بھی ہے۔

دوسری جانب یونیورسٹی آف اوٹاوا کی پروفیسر ایملی ریگن ولز کے مطابق کینیڈا کے خلاف تجارتی کشیدگی اب امریکی انتخابی سیاست کا بھی حصہ بن چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے کینیڈا کو ایک مخالف ملک کے طور پر پیش کیا، جس کے باعث امریکی ووٹرز میں بھی اس پالیسی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ری پبلکن جماعت کو انتخابات میں نقصان اٹھانا پڑا تو صدر ٹرمپ اپنی پالیسیوں کے نتائج کا الزام کینیڈا پر بھی عائد کر سکتے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات اور تجارتی مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی پہلے ہی امریکی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی جانب سے امریکی انتخابی عمل میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں۔

امریکی انتخابات کے نتائج نہ صرف کانگریس میں طاقت کا توازن واضح کریں گے بلکہ کینیڈا کے ساتھ تجارتی تعلقات، محصولات اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کے مذاکرات کی سمت کے تعین میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔