وینکوور (سی ٹی وی نیوز) کینیڈا کی گرین پارٹی کی سربراہ الزبتھ مے نے چار سال کے دوران دوسری مرتبہ ایسی پارلیمانی درخواست کی سرپرستی کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوامی مقامات پر غیر جنسی عریانی کو قانونی حیثیت دی جائے۔
برٹش کولمبیا کے علاقے گبسنز کے رہائشی اسکاٹ بلیکلی کی جانب سے شروع کی گئی تازہ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تفریحی مقاصد کیلئے برہنگی اختیار کرنے کا رجحان کینیڈا کے شہریوں کے ایک قابل ذکر حصے میں پایا جاتا ہے، اسلئے جب تک کوئی فحش، غیر اخلاقی یا دوسرے قانون کیخلاف عمل نہ ہو، اسے قابلِ اجازت ہونا چاہیے۔
درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ضابطۂ فوجداری میں ترمیم کرکے یہ واضح کیا جائے کہ محض برہنہ ہونا بذاتِ خود غیر اخلاقی طرزِ عمل تصور نہ کیا جائے۔ موجودہ قانون میں عوامی مقام پر برہنہ ہونا قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔
الزبتھ مے نے 2022ء میں بھی اسی نوعیت کی ایک درخواست کی سرپرستی کی تھی۔ اس وقت انہوں نے سی ٹی وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ عوامی مقامات پر برہنگی کی اجازت دینے کے مطالبے کی حمایت نہیں کرتیں بلکہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ درخواست گزاروں کو اپنا مؤقف حکومت کے سامنے پیش کرنے کا حق حاصل ہو۔
اس تازہ درخواست کی سرپرستی کے فیصلے سے متعلق گرین پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ سانِچ۔گلف آئی لینڈز کی رکن پارلیمنٹ کا مؤقف بدستور وہی ہے۔ ان کے مطابق الزبتھ مے سمجھتی ہیں کہ ہر رکن پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ شہری پارلیمانی درخواستوں کے ذریعے حکومت سے اپنے سوالات کے جواب حاصل کرسکیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ الزبتھ مے نے اس کی نشاندہی کی ہے کہ 2022ء کے بعد حکومت تبدیل ہوچکی ہے۔
وفاقی حکومت کی ویب سائٹ پر بھی وضاحت کی گئی ہے کہ کسی رکن پارلیمنٹ کی جانب سے درخواست کی سرپرستی کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس میں بیان کیے گئے خیالات کی توثیق کرتا ہے۔ اسی طرح درخواست میں شامل مؤقف یا معلومات کی ذمہ داری بھی سرپرستی کرنے والے رکن پر عائد نہیں ہوتی۔
پارلیمانی قواعد کے تحت آن لائن درخواست کو ایوانِ عام میں پیش کیے جانے کے قابل بنانے کیلئے کم از کم 500 دستخط درکار ہوتے ہیں۔ اس سے پہلے 2022ء میں نارتھ سانِچ کے رہائشی جیمز اینڈریو پورٹر کی شروع کردہ اسی نوعیت کی درخواست پر 1760 افراد نے دستخط کیے تھے، جسے الزبتھ مے نے دسمبر 2022ء میں ایوانِ عام میں پیش کیا تھا۔
اس وقت وفاقی حکومت نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ عوامی مقامات پر برہنگی کی ممانعت لوگوں کو نقصان دہ طرزِ عمل سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے، تاہم ہر قسم کی عوامی برہنگی قانون کے تحت جرم نہیں ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا تھا کہ ان قوانین اور ان کے اطلاق کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں اور ان کا جائزہ لیا جاتا رہے گا تاکہ وہ اپنے مقاصد پورے کرسکیں۔
کینیڈا میں بعض مخصوص مقامات پر برہنگی پہلے ہی قانونی طور پر جائز ہے، جن میں وینکوور کا وریک بیچ بھی شامل ہے۔ برٹش کولمبیا سمیت کئی صوبوں کی عدالتوں نے خواتین کو عوامی مقامات پر سینہ کھلا رکھنے کا حق بھی تسلیم کیا ہے۔ تاہم نجی ملکیت میں بھی اگر کوئی شخص ایسی جگہ برہنہ ہو جہاں سے وہ عوام کو دکھائی دے تو یہ عمل قانون کی خلاف ورزی بن سکتا ہے۔
تازہ درخواست پر دستخط کرنے کا سلسلہ 2 مارچ تک جاری رہے گا۔ منگل کی سہ پہر تک اس درخواست پر 365 افراد دستخط کرچکے تھے۔

