جمعرات کو وفاقی بجٹ میں کینیڈا کے نئے امیگریشن اہداف کا اعلان متوقع

اوٹاوا (سی ٹی وی نیوز) وزیراعظم مارک کارنی کی حکومت کینیڈا میں آئندہ برسوں کیلئے امیگریشن کے نئے اہداف کا اعلان جمعرات کو وفاقی بجٹ میں کرے گی۔ متعدد حکومتی ذرائع نے سی ٹی وی نیوز کو بتایا ہے کہ امیگریشن پالیسی اور مستقل و عارضی رہائشیوں کی تعداد سے متعلق تازہ منصوبہ بجٹ کا حصہ ہوگا۔

نئے اہداف ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب گزشتہ دو برس کے دوران کینیڈا کی آبادی میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوئی ہے، جبکہ وزیراعظم مارک کارنی امیگریشن کے مستقبل کے حوالے سے مختلف مواقع پر محتاط اور قدرے مختلف مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔

ستمبر میں نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے مارک کارنی نے کہا تھا کہ امیگریشن نظام مکمل طور پر قابو میں آنے کے بعد کینیڈا کی آبادی میں بتدریج اور منظم اضافہ دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔ چند ہفتوں بعد انہوں نے واضح کیا کہ حکومت امیگریشن کو پائیدار سطح پر رکھنے کے ہدف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

کارنی حکومت نے گزشتہ سال مستقل رہائشیوں کی سالانہ تعداد کم کرکے 2026ء سے 2028ء تک 3 لاکھ 80 ہزار مقرر کردی تھی۔ اسی طرح عارضی رہائشیوں کی آمد کے اہداف بھی کم کیے گئے تھے، جن کے تحت 2026ء میں 3 لاکھ 85 ہزار جبکہ 2027ء اور 2028ء میں 3 لاکھ 70 ہزار افراد کی آمد کا ہدف رکھا گیا تھا۔

یہ اقدامات سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے دور حکومت میں 2020ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کے دوران امیگریشن میں غیر معمولی اضافے کے بعد کیے گئے تھے۔ اس اضافے سے رہائش، مکانات اور سماجی خدمات کے شعبوں پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔ 2021ء سے 2024ء کے دوران عارضی رہائشیوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا اور اکتوبر 2024ء میں وہ کینیڈا کی مجموعی آبادی کا 7.6 فیصد ہوگئے تھے۔

ٹروڈو حکومت کے آخری دور میں بین الاقوامی طلبہ کی تعداد محدود کرنے سمیت مختلف اقدامات کیے گئے، جبکہ مارک کارنی نے 2025ء کے عام انتخابات میں امیگریشن کو پائیدار سطح پر واپس لانے کا وعدہ کیا تھا۔

تاہم امیگریشن کے اہداف میں کمی اور دیگر اقدامات کے نتیجے میں آبادی میں اضافے کی رفتار مزید سست ہوگئی ہے۔ ادارۂ شماریات کینیڈا کے مطابق یکم جولائی 2026ء کو ملک کی تخمینی آبادی 4 کروڑ 17 لاکھ 98 ہزار 407 تھی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ایک لاکھ 89 ہزار 425 افراد یا 0.5 فیصد زیادہ تھی۔ یہ 1944ء اور 1945ء کے بعد جولائی سے جولائی کے درمیان آبادی میں سب سے کم سالانہ اضافہ ہے۔

بینک آف کینیڈا نے اکتوبر میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ آبادی کی عمر میں اضافے اور امیگریشن میں کمی کے باعث ملکی معیشت کی ساخت تبدیل ہورہی ہے، افرادی قوت سکڑ رہی ہے اور لوگوں کے اخراجات کے رجحانات بھی بدل رہے ہیں۔

دوسری جانب رائل بینک آف کینیڈا نے ستمبر میں جاری کردہ رپورٹ میں امیگریشن حکمت عملی پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ رپورٹ میں آبادی میں سالانہ ایک فیصد اضافے کو مستحکم رکھنے اور نئے آنے والوں کی تعداد میں توازن پیدا کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ بینک کی شعبۂ مہارت و افرادی قوت سے وابستہ جیکی پشیت نے لکھا تھا کہ امیگریشن نہ ہو تو صدی کے اختتام تک کینیڈا کی آبادی موجودہ حجم کے نصف تک سکڑ سکتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے امیگریشن لینا میٹلیج دیاب نے اکتوبر میں وزیراعظم کے منظم انداز میں امیگریشن بڑھانے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ کینیڈا کی آبادی میں اضافے کی رفتار دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے کم سطح پر آگئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس ترقی کا ایک وسیع منصوبہ ہے، جس کے لیے افرادی قوت اور نئے لوگوں کی ضرورت ہوگی۔

لینا دیاب نے اسی ماہ ایکسپریس انٹری پروگرام میں تبدیلیوں کا اعلان بھی کیا تھا، جن کا اطلاق 3 نومبر سے ہوا۔ ان تبدیلیوں کے تحت زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے امیدواروں کو اضافی پوائنٹس دیے جائیں گے تاکہ ملکی معیشت کو ترقی دی جاسکے اور ہنرمند نئے تارکینِ وطن کو کینیڈا میں برقرار رکھا جاسکے۔

دوسری جانب کنزرویٹو جماعت نے آئندہ امیگریشن منصوبے میں مستقل رہائش دینے کی تعداد مزید کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جماعت کی رکن پارلیمنٹ اور امیگریشن امور کی ناقد مشیل ریمپل گارنر نے ستمبر میں بیان دیا تھا کہ کنزرویٹو وزیراعظم مارک کارنی اور ان کی لبرل حکومت کی جانب سے امیگریشن بڑھانے کی کسی بھی کوشش کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت امیگریشن میں نمایاں کمی کے لیے دباؤ جاری رکھے گی اور توقع ہے کہ نئے منصوبے میں اہداف بہت کم مقرر کیے جائیں گے۔