مسلم لیگ ق کاچوہدری سالک کے معاملے پر مریم نواز کو لہجہ درست کرنے کا مشورہ

لاہور (نمائندہ خصوصی) مسلم لیگ (ق) نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوانے کے اعلان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کو اپنا لہجہ اور الفاظ درست کرنے چاہییں۔ جماعت کے ترجمان مصطفیٰ ملک نے کہا کہ غرور اور تکبر صرف اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، وزیراعلیٰ کو اپنے طرزِ گفتگو پر نظرثانی کرنی چاہیے۔

مصطفیٰ ملک نے کہا کہ چوہدری سالک حسین کے بغیر مریم نواز آج وزیراعلیٰ نہ ہوتیں اور نہ ہی ’’آپ کے لیے طبلہ بجانے والی مس بخاری‘‘ وزیر ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مریم نواز نے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تو اس کا بھرپور قانونی اور سیاسی جواب دیا جائیگا۔

مسلم لیگ (ق) کے ترجمان نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین اور ان کی جماعت نے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اپنے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے مریم نواز کو اقتدار تک پہنچانے میں کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق چوہدری سالک حسین کے والد کی سیاسی قربانیوں کے باعث ہی مریم نواز آج وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہیں۔

مصطفیٰ ملک نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر 2023ء میں طے پانے والا معاہدہ مکمل ہو جاتا تو مریم نواز آج وزیراعلیٰ نہ ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احسان فراموشی کے بجائے ماضی کے حقائق کو سامنے رکھنا چاہیے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا حکومتی اتحاد کا حصہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اتحادی جماعتیں حکومت کے کسی غلط اقدام یا پالیسی پر خاموش رہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ عزت دیں گے تو عزت ملے گی، شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر نہیں پھینکنے چاہییں۔

ترجمان نے کہا کہ مسلم لیگ (ق) نے ہمیشہ پنجاب حکومت کے اچھے کاموں اور عوامی فلاح کے منصوبوں کی خلوصِ نیت سے تعریف کی ہے، تاہم یہ حیران کن ہے کہ مریم نواز معمولی شکایت یا تنقید بھی برداشت نہیں کرتیں۔اگر انہیں سیاسی اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے کا طریقہ نہیں آتا تو انہیں چچا سے تربیت لینی چاہیے۔

مصطفیٰ ملک نے کہا کہ دھمکیوں اور ہرجانے کے قانونی نوٹسز سے مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور ان کی جماعت عوامی مفاد میں اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔