عید الاضحیٰ کی نماز پر پابندیاں، بھارتی مسلمانوں میں خوف اور بے چینی

لکھنؤ / میرٹھ / نئی دہلی(عرب میڈیا، الجزیرہ، مقامی رپورٹس)بھارتی ریاست اتر پردیش میں کھلے مقامات اور سڑکوں پر عید کی نماز ادا کرنے پر سخت پابندیوں کے بعد مسلمانوں میں خوف اور بے چینی کی فضا دیکھی گئی۔

رپورٹس کے مطابق میرٹھ، علی گڑھ، سہارنپور اور لکھنؤ سمیت مختلف شہروں میں مساجد کی انتظامیہ نے نمازیوں کو ہدایت دی کہ وہ مسجد کے باہر اجتماع سے گریز کریں اور ضرورت پڑنے پر نماز کو مختلف اوقات میں ادا کریں۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے سخت بیانات کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہوئی، جن میں انہوں نے ہدایات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سخت کارروائی کا عندیہ دیا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق عید کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور متعدد علاقوں میں مساجد و عیدگاہوں کے باہر نگرانی بڑھا دی گئی۔

مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مساجد میں گنجائش کم ہونے کے باعث لوگ عموماً مختصر وقت کے لیے سڑکوں یا کھلے میدانوں میں نماز ادا کرتے ہیں، لیکن اب اس عمل کو سیکیورٹی اور قانون کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ برس کھلے مقامات پر نماز ادا کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے اور بعض جگہوں پر گھروں کی مسماری کے واقعات بھی سامنے آئے، جس کے بعد اس سال لوگ زیادہ محتاط نظر آئے۔

عرب میڈیا کے مطابق دہلی اور دیگر بھارتی ریاستوں میں بھی اسی نوعیت کی پابندیوں کی اطلاعات ہیں، جس سے مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی سرگرمیوں اور عوامی مقامات پر موجودگی کو لے کر بڑھتی ہوئی سختی سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔