لندن، جارج ٹاؤن (آئی ٹی وی نیوز، رائٹرز) برطانوی شاہ چارلس سوم کو آئندہ ہفتے اپنے دورۂ کیریبین کے دوران بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت میں برطانیہ کے تاریخی کردار پر باضابطہ معافی اور تلافی کے مطالبات کا سامنا ہوگا۔ گیانا کے صدر ڈاکٹر محمد عرفان علی نے کہا ہے کہ ماضی کی ناانصافیوں کا اعتراف اہم ضرور ہے، لیکن اس کے بعد عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
شاہ چارلس اور ملکہ کمیلا کا دورۂ کیریبین 27 اکتوبر سے شروع ہوگا، جس کے دوران بہاماس، گیانا اور انٹیگوا و باربوڈا کا دورہ کیا جائے گا۔ گیانا جنوبی امریکا میں واقع برطانیہ کی سابق نوآبادی ہے، جہاں غلاموں کی تجارت کے تاریخی اثرات آج بھی معاشرتی اور معاشی زندگی میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ شاہ چارلس کا یہ دورہ برطانیہ اور گیانا کے سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کے موقع پر ہو رہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے آئی ٹی وی نیوز کے مطابق گیانا میں صدر سے لے کر سابق غلاموں کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد تک، متعدد حلقوں کا مطالبہ ہے کہ برطانیہ غلاموں کی تجارت میں اپنے کردار پر باضابطہ معافی مانگے اور ماضی کے نقصانات کے ازالے کے لیے اقدامات کرے۔ صدر عرفان علی نے کہا ہے کہ شاہ چارلس کی جانب سے غلامی کو برطانوی تاریخ کے تاریک ترین ادوار میں شمار کرنا اور ماضی پر افسوس کا اظہار قابلِ قدر ہے، تاہم اب باضابطہ معافی اگلا ضروری قدم ہے۔
صدر گیانا کے مطابق تلافی کا معاملہ محض کسی مقررہ رقم کی ادائیگی تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس میں ان ممالک کی ترقیاتی محرومیوں کا ازالہ بھی شامل ہونا چاہیے جو غلامی کے تاریخی نظام سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے رعایتی شرائط پر ترقیاتی قرضوں، قرضوں میں ریلیف اور تعلیم، صحت، ذہنی صحت، رہائش اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری کی تجاویز پیش کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غلامی کے اثرات نے متاثرہ معاشروں کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کیں، جنہیں دور کرنے کے لیے مشترکہ اور عملی حکمتِ عملی درکار ہے۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق ڈچ اور برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہزاروں افریقی باشندوں کو زبردستی گیانا لایا گیا، جہاں انہیں گنے کے کھیتوں میں غلاموں کی حیثیت سے کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ غلامی کے دوران ہونے والے مظالم اور ان کے اثرات نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ گیانا میں اس تاریخ کے اعتراف اور تلافی کے حق میں سرگرم افراد کا مؤقف ہے کہ صرف ماضی پر افسوس ظاہر کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے دیرپا اثرات کم کرنے کے لیے عملی مدد بھی ضروری ہے۔
تاہم بکنگھم پیلس کے مطابق شاہ چارلس کے دورے میں برطانیہ کی نوآبادیاتی تاریخ اور غلاموں کی تجارت کے تاریک پہلوؤں سے گریز نہیں کیا جائے گا، لیکن شاہ کی جانب سے باضابطہ معافی مانگنے کا منصوبہ نہیں ہے۔ شاہی محل کا مؤقف ہے کہ بادشاہ حکومت کے مشورے کے مطابق کام کرتے ہیں، جب کہ معافی اور مالی تلافی جیسے معاملات بنیادی طور پر حکومتوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ برطانوی حکومت بھی غلاموں کی تجارت پر مالی ہرجانہ ادا کرنے کے مطالبات مسترد کرتی رہی ہے۔
برطانوی حکام کو خدشہ ہے کہ اگر شاہ چارلس نے باضابطہ معافی مانگ لی تو اس سے قانونی مثال قائم ہو سکتی ہے اور دیگر سابق نوآبادیات بھی اسی بنیاد پر معاوضے کے مطالبات تیز کر سکتی ہیں۔ اس کے باوجود گیانا اور دیگر کیریبین ممالک میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ تاریخی ناانصافیوں کے اعتراف کو عملی اقدامات سے جوڑا جائے۔
گیانا کے صدر نے واضح کیا ہے کہ یہ معاملہ کسی انتقام یا خیرات کا نہیں، بلکہ غلامی کے دیرپا اثرات کو تسلیم کرتے ہوئے متاثرہ ممالک کے لیے منصفانہ ترقی کے راستے تلاش کرنے کا ہے۔ ان کے مطابق گیانا اس معاملے پر کیریبین ممالک کی تنظیم، افریقی یونین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔

