غلطیاں، کوتاہیاں یا نا اہلیاں

جمہوریت میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والے نمائندوں کا کام اپنے ووٹروں کے حقوق کا تحفظ، ان کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی اور مفاد کیلئےکام کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اقتدار میں آنے والے ”عوامی نمائندے“ چونکہ عوامی ووٹوں سے منتخب نہیں ہوتے لہٰذا ان کی ترجیح ووٹر یعنی غریب عوام اور ملک کبھی نہیں ہوتا بلکہ ”لانے والوں“ کا حکم اور ”اپنی فلاح و بہبود“ ہی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایک ہزار ارب یا دو ہزار ارب روپے خرچ کر کے ڈیم بنانے کی بجائے ہر سال 2 سے ڈھائی ہزار ارب روپیہ آئی پی پیز کے ”ان دیکھے مالکان“ کے ان پیٹوں (کنوؤں) میں ڈالا جاتا ہے جو بھرنے میں نہیں آ رہے۔ ایسا ہی ایک فیصلہ (پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026ء کی منظوری) قومی اسمبلی میں بیٹھے قانون دانوں، فیصلہ سازوں نے آنکھیں بند کرکے گذشتہ ہفتے کیا، مگر اس کا پردہ سینٹ میں بیٹھے ”سرکاری ارکان“ نے فاش کردیا۔ بل سینٹ میں ”صرف ایک دن میں منظوری“کیلئے بھیجا گیا تھا۔ شومئی قسمت سے پی ٹی آئی کے سینیٹر سید علی ظفر (انتہائی سینئر قانون دان سابق وزیر قانون دان ایس ایم ظفر مرحوم کے صاحبزادے) نے ترمیمی بل کی ”منظوری“ میں رخنہ ڈال دیا اور بل کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی بھجوانے کا مطالبہ کیا جو منظور ہوا اور ”پھر پردہ اُٹھ گیا“۔ قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن پی پی پی کی پلوشہ خان، مسلم لیگ(ن) کے ڈاکٹر افنان اللہ خان، سعدیہ عباسی اور پی پی پی کے ندیم احمد بھٹو نے موبائل فون کمپنیوں اور ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کا ”ملکی اشرافیہ“ کی معاونت سے ترتیب دیا ”کھیل بگاڑ دیا“۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ (خواجہ آصف کی بھانجی) ٹی وی پروگراموں میں وضاحتیں پیش کر رہی ہیں مگر ”ظالم اینکر“مشکل سوالات کرنے سے باز نہیں آ رہے۔

سینٹ میں تو پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے چار سینیٹرز نے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اور موبائل فون کمپنیوں کا کھیل بگاڑا مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ٹیلی کمیونیکیشن 20 ارکان پر مشتمل تھی جس کے چیئرمین ایم کیو ایم کے سید امین الحق ہیں۔ ایم کیو ایم کے دیگر ارکان میں احمد سلیم صدیقی اور آسیہ اسحاق صدیقی، مسلم لیگ ن کے احمد عتیق انور، ذوالفقار علی بھٹی،رانا ارادت شریف خان، شازیہ فرید، گلناز شہزادی، عمار احمد خان لغاری، پیپلز پارٹی کے علی قاسم گیلانی، مہیش کمار ملانی، صادق علی میمن، شرمیلا فاروقی، نیشنل پارٹی کے پلین بلوچ اور آزاد ارکان گوہر علی خان، شیر علی ارباب، اسامہ احمد میلہ، عمیر خان نیازی، اویس احمد جھکڑ اور عادل خان بازئی شامل تھے۔

اس کمیٹی میں قومی اسمبلی میں واحد اپوزیشن ہونے کی دعویدار پی ٹی آئی کے ”سربراہ“ اور سینئر وکیل گوہر علی خان بھی موجود تھے۔ عوام سے ان کا ”حق ملکیت“ چھیننے کیلئےبنایا گیا یہ ترمیمی بل ان کی ”جہاندیدہ نظروں“ سے کیسے اوجھل رہا یا ”کر دیا گیا“۔ اس کا جواب ان کی پارٹی کو ان سے ضرور مانگنا چاہئے (آخر وہ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں)۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے 20 ممبران نے جس میں چھ مسلم لیگ ن، چار پیپلز پارٹی، تین ایم کیو ایم، ایک نیشنل پارٹی بلوچستان اور چھ آزاد امیدوار ہیں عوام سے ان کی جائیداد کا حق ملکیت ”ایک طرح سے“ چھین لیا ہے۔ اس نئے قانون کی قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد کوئی بھی موبائل فون کمپنی، کوئی بھی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی آپ کے گھر پہ دستک دے گی اور آپ سے کہا جائے گا کہ کمپنی نے آپ کی چھت پر یا آپ کے لان میں ٹاور کھڑا کرنا ہے۔ آپ کی چھت پر اس نے انفراسٹرکچر نصب کرنا ہے، آپ کی پراپرٹی میں آپٹیکل فائبر بچھانا ہے تو آپ کے پاس ان کو انکار کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ اگر آپ نے 15 دن میں ان کو ”ہاں“ میں جواب نہیں دیا تو وہ 15 دن بعد اپ کو ایک ”یاد دہانی“ کی چٹھی بھیجیں گے۔ جس کے بعد آپ کے خلاف کاروائی کیلئےحکومت کو درخوست دیں گے۔ آپ کیخلاف ”کیس“ کریں گے اور یہ کیس ایک سرکاری افسر کے سامنے ”رکھا“ جائے گا جو فیصلہ کریگا۔(جس میں فیصلہ یقینی طور پہ ہمارے ملک کی روایات کے مطابق طاقتور کے حق میں ہوتا ہے)۔ تو اب کسی کی بھی پراپرٹی پر کوئی بھی موبائل فون کمپنی یا ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اپنی مرضی کی تنصیبات اور ٹاور نصب کر سکتی ہے اور ”مالک“ کے پاس کوئی حق نہیں کہ وہ انکار کرے اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے پانچ کروڑ روپے تک کا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کمپنی کے کام میں تاخیر کی اور رکاوٹ ڈالی ہے۔ یہ ہے وہ فیصلہ جو ہمارے ”انتہائی سمجھدار“ ارکان قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن قومی اسمبلی نے کیا اور قومی اسمبلی کے اراکین نے اس پر اپنی ”رضامندی کی مہر“ ثبت کر دی۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی کی چیئر پرسن پیپلز پارٹی پلوشہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بل کی منظوری کیلئےدو دن کا نوٹس دیا گیا تھا مگر انہوں نے اس کیلئے60 دن کی توسیع مانگ لی ہے۔ بلوشہ خان کے مطابق قومی اسمبلی سے منظور شدہ یہ بل آئین کی دفعات 23 اور 24 سے متصادم ہے۔ عوام کا استحصال نہیں کیا جا سکتا۔ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ بلاول بھٹو سے مشاورت کی ہے انہوں نے بھی ہدایت کی ہے کہ اس بل کو روک دو اس کو منظور نہیں ہونا چاہئے۔اس بل سے عام شہری کا حق ملکیت محدود ہو جاتا ہے اور کمپنیوں کو گھروں کے اندر تک رسائی مل جائے گی۔ پراپرٹی کے مالک سے اعتراض کا حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ پلوشہ خان نے ایک اور اہم بات کہی کہ آخر اس بل کو بجٹ اجلاس کے موقع پر کیوں لایا گیا۔ کیا چھپانا مقصود تھا اور کیا جلدی تھی۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی وزیر مملکت شزا فاطمہ خواجہ نے ٹی وی پروگرام میں کہا کہ اس بل پر چھ ماہ مشاورت ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی کے سینئر پارلیمیٹیرین نوید قمر نے بل میں ترامیم بھی پیش کی تھیں اور قومی اسمبلی سے یہ بل بغیر کسی اعتراض کے پاس ہوا۔ وزارت قانون نے بھی اس بل کو کلیئر کیا تھا۔