پیرس (بی بی سی)فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس کے نواحی علاقے میں فائرنگ کے واقعے کو نسل پرستانہ دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ فرانس کے جمہوری نظام اور قومی زندگی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتا ہے۔ واقعے میں ایک شخص ہلاک اور 5 زخمی ہوگئے، جن میں ایک 12 سالہ بچی بھی شامل ہے۔
فائرنگ کا واقعہ جمعہ کو پیرس کے جنوب مغربی علاقے ٹراپ اور اس کے قریبی قصبے لا ویریئر میں تقریباً 15 منٹ تک جاری رہا۔ حملہ آور نے اپنی گاڑی سے مختلف مقامات پر فائرنگ کی اور بظاہر تارکین وطن کے پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا۔ بعدازاں پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔
زخمیوں میں سے 3 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ فرانسیسی صدر نے ٹراپ میں جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ان کی جلد کے رنگ اور مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ان نظریات کے سامنے کسی صورت پیچھے نہ ہٹیں جو معاشرے میں جڑیں پکڑ رہے ہیں۔

فرانسیسی قومی انسدادِ دہشت گردی استغاثہ کے دفتر کے مطابق واقعے کے محرکات تاحال واضح نہیں، تاہم بظاہر یہ دہشت گردانہ کارروائی سے منسلک قتل کا واقعہ ہے۔ دفتر نے مقدمے میں دہشت گرد گروہ کے ساتھ سازش اور افراد کے خلاف جرائم کی تیاری کے الزام کی بھی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
فرانسیسی ذرائع ابلاغ نے مشتبہ حملہ آور کا نام کیون ٹی بتایا ہے۔ انسدادِ دہشت گردی استغاثہ کے مطابق ملزم کو ماضی میں 4 مرتبہ سزا ہوچکی تھی، تاہم یہ سزائیں خودکار طریقے سے اس کے ریکارڈ سے خارج ہوچکی تھیں۔ 39 سالہ ملزم پولیس کے علم میں تھا، لیکن خفیہ اداروں کی نگرانی میں نہیں تھا۔ وہ قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ سمجھے جانے والے افراد کی فہرست میں بھی شامل نہیں تھا۔

استغاثہ کے دفتر نے بتایا کہ جمعہ کو ملزم کے قریبی خاندان کے ایک فرد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
ٹراپ کے میئر علی راحبی نے بتایا کہ ایک شخص نے اپنی گاڑی سے مختلف افراد پر فائرنگ کی۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور سرمئی رنگ کی رینالٹ کلیو گاڑی میں مختلف محلوں سے گزرا اور راستے میں فائرنگ کرتا رہا۔ میئر کا کہنا تھا کہ حملہ آور بظاہر زیادہ سے زیادہ افراد کو نشانہ بنانا چاہتا تھا اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے ارادے سے آیا تھا۔
میئر کے مطابق حملہ آور نے ٹراپ میں ایک پٹرول پمپ، طبی مرکز اور بچوں کے کھیلنے کی جگہ پر فائرنگ کی، جس کے بعد وہ قریبی قصبے لا ویریئر کی جانب روانہ ہوگیا۔ پولیس یونین کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ملزم کو لا ویریئر میں مرکزی شاہراہ این 10 پر گرفتار کیا گیا۔
زخمی ہونیوالی 12 سالہ بچی کی والدہ نے فرانسیسی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو 8 گولیاں لگی ہیں اور اس کی سرجری کرنا پڑی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی شخص ایک بچی کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتا ہے؟ والدہ کے مطابق ان کی بیٹی نے سر پر اسکارف پہن رکھا تھا اور انہیں شبہ ہے کہ شاید اسی وجہ سے اسے نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی فرانس میں پیدا ہوئی اور ٹراپ ہی میں پلی بڑھی ہے، اسے بھی فرانس میں رہنے اور اپنی زندگی گزارنے کا پورا حق حاصل ہے۔
مقامی پولیس سربراہ کے مطابق حملہ آور نے پرانے طرز کا نیم خودکار ہتھیار استعمال کیا، جس سے وقفے وقفے سے فائرنگ کی گئی۔ فرانسیسی اخبار کے مطابق یہ اسلحہ دوسری عالمی جنگ کے زمانے کا تھا۔
انسدادِ دہشت گردی استغاثہ کے دفتر نے بتایا کہ تحقیقات میں ممنوعہ درجے کے اسلحے رکھنے کا پہلو بھی شامل ہے۔ اس زمرے میں فوجی نوعیت کے ہتھیار اور مسلسل فائرنگ کی صلاحیت رکھنے والے ہتھیار آتے ہیں۔واقعے کی تحقیقات قتل، دہشت گرد گروہ کے ساتھ سازش اور افراد کے خلاف جرائم کی تیاری کے پہلوؤں سے جاری ہیں۔

