لاہور(کلچرل رپورٹر)معروف پاکستانی گلوکار اور موسیقار طارق طافو 58 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی طبیعت اچانک بگڑنے پر انہیں لاہور کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
مرحوم طارق طافو اپنے خاندان کی موسیقی کی روایت کو آگے بڑھا رہے تھے۔ وہ لیجنڈری سنگر غلام علی کے داماد بھی تھے۔ انھوں نے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں پرفارم کیا۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے موسیقی کے میدان میں بہت کچھ استاد غلام علی سے سیکھا اور انہیں اپنی “یونیورسٹی” قرار دیا تھا۔
طارق طافو اپنے مشہور گانے ’’لاہور لاہور اے‘‘ کے باعث بے حد مقبول ہوئے، اور یہی گانا ان کی پہچان بن گیا۔ اس گانے نے انہیں پاکستان کی موسیقی کی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا۔وہ معروف موسیقار طافو خان کے صاحبزادے تھے اور اپنے والد کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے موسیقی کے میدان میں طویل عرصے تک سرگرم رہے۔
اپنے کیریئر کے دوران طارق طافو نے کئی نئے گلوکاروں کو متعارف کرایا اور نوجوان ٹیلنٹ کی سرپرستی کے باعث موسیقی کی برادری میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ان کی نمازِ جنازہ کل سہ پہر ساڑھے تین بجے ایمپریس قبرستان، کریم بلاک لاہور میں ادا کی جائے گی، جس میں اہل خانہ، فنکار، دوست اور مداحوں کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔

