مسی ساگا :ایلون ٹیجو کا ٹیکسوں میں کمی، جرائم کی روک تھام اور روزگار کے مواقع بڑھانے کا اعلان

مسی ساگا (اشرف خان لودھی سے) مسی ساگا میں میئر کے امیدوار ایلوِن ٹیجو کی انتخابی مہم کے سلسلے میں پولش سینٹر میں میٹ دی پریس تقریب منعقد ہوئی، جس میں انہوں نے شہر کے مستقبل، بڑھتے اخراجات، شہریوں کے تحفظ، رہائش، آمدورفت اور معاشی ترقی سے متعلق اپنے منصوبوں پر گفتگو کی۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ شہر کی سمت تبدیل کرنے کیلئے انتخابی عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔

ایلوِن ٹیجو نے کہا کہ مسی ساگا کو بہتر شہر بنانے اور شہریوں کو درپیش مسائل حل کرنے کا موقع موجود ہے۔ ان کے بقول وہ واحد امیدوار ہیں جن کے پاس مہنگائی، عوامی تحفظ، رہائش، آمدورفت اور معاشی ترقی سمیت اہم شعبوں کیلئے جامع منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والدین تقریباً 50 سال قبل انڈونیشیا سے کینیڈا آئے تھے تاکہ بہتر زندگی گزار سکیں، اپنا گھر بنا سکیں، کاروبار شروع کریں اور خاندان کی پرورش کریں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ہر خاندان کو ایسے مواقع میسر رہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بہت سے خاندان بڑھتی ہوئی مہنگائی، تحفظ سے متعلق خدشات اور روزگار کے محدود مواقع کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق شہریوں کو ایسے حالات میں پرانی قیادت کو بار بار منتخب کرکے مختلف نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

ایلوِن ٹیجو نے جائیداد پر عائد ٹیکسوں میں کمی اور موجودہ مالی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے چار سال تک ٹیکس منجمد رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے وعدے کرنا چاہتے ہیں جن پر عمل ممکن ہو اور بہتر نتائج دینے کو محض بڑے دعوے کرنے پر ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے علاقائی بلدیاتی نظام میں مسی ساگا کے لیے منصفانہ مالیاتی فارمولے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہر پر غیر متناسب مالی بوجھ نہیں پڑنا چاہیے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی مسی ساگا کے میئر اس معاملے پر آواز اٹھاتے رہے ہیں، تاہم شہر کے مفادات کے تحفظ کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

رہائش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کا منصوبہ نئے گھروں کی تعمیر کے مقررہ اہداف پورے کرنے میں مدد دے گا اور صوبائی حکومت سے رہائشی منصوبوں کے لیے 40 سے 50 ملین کینیڈین ڈالر تک کی مالی معاونت حاصل کرنے کا موقع پیدا کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق اس کے ساتھ شہر کے ٹیکسوں کی بنیاد بھی وسیع ہوگی۔

ایلوِن ٹیجو نے کہا کہ مسی ساگا کا عوامی آمدورفت کا نظام ملک کے بڑے نظاموں میں شمار ہوتا ہےلیکن شہر کو اس شعبے کے روزمرہ اخراجات کیلئےصوبائی حکومت سے وہ مالی معاونت نہیں ملتی جو ٹورنٹو اور اوٹاوا کو حاصل ہے۔

انہوں نے برامپٹن کے کمیونٹی مرکز کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے 65 ملین کینیڈین ڈالر کی معاونت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسی ساگا کو بھی وفاقی حکومت کے ساتھ مؤثر رابطے اور مضبوط نمائندگی کے ذریعے اپنے جائز حصے کے حصول کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے شہر کے لیے مزید وسائل حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

پیل ریجنل پولیس ایسوسی ایشن کی جانب سے حمایت کے بارے میں سوال پر ایلوِن ٹیجو نے کہا کہ وہ پولیس خدمات کے بورڈ کے تخمینے کے مطابق سالانہ تقریباً 150 نئے اہلکاروں کی بھرتی اور پولیس کے لیے مناسب وسائل فراہم کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ موجودہ منصوبہ بندی سے ہٹ کر مزید 300 اہلکاروں کی اضافی بھرتی کا وعدہ نہیں کر رہے۔

جنگ نیوز کینیڈا کے چیف ایڈیٹر اشرف خان لودھی نے ایلوِن ٹیجو سے مسی ساگا میں گاڑیوں کی چوری اور ڈکیتیوں کے واقعات کے بارے میں سوال کیا۔ جواب میں ٹیجو نے برامپٹن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں دو سال کے دوران گاڑیوں کی چوری کے واقعات میں 40 فیصد کمی آئی۔

انہوں نے اس کمی کے لیے متعدد اقدامات کا ذکر کیا، جن میں وفاقی حکومت کے تعاون سے بندرگاہوں پر ایسے اسکینر نصب کرنا شامل تھا جو چوری شدہ گاڑیوں کو بیرون ملک بھیجے جانے سے پہلے شناخت کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے گاڑیوں کی بغیر چابی کے نظام کے ذریعے چوری روکنے کے لیے حفاظتی تھیلیاں تقسیم کرنے، عوامی آگاہی مہم چلانے اور 50 مصروف ترین چوراہوں پر کیمرے نصب کرنے کا بھی حوالہ دیا۔

ایلوِن ٹیجو نے کہا کہ مسی ساگا میں ان اقدامات پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، حالانکہ شہر دوسرے علاقوں کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے حفاظتی تھیلیوں کی تقسیم اور آگاہی پروگرام شروع کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن میئر نے اس تجویز کے خلاف ووٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے دوسرے شہروں کے کامیاب اقدامات سے سیکھ کر فوری عملی قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

ایلوِن ٹیجو نے اپنے خاندانی پس منظر اور تعلیم کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والدین کینیڈا آئے تو ان کی اسناد کو یہاں تسلیم نہیں کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے انہیں تعلیم اور محنت کی اہمیت سکھائی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فادر مائیکل گوئٹز سیکنڈری اسکول، کوئینز یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے شعبۂ تعلیم میں کام کیا تاکہ اعلیٰ تعلیم تک رسائی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے ممکن بنایا جاسکے۔

معاشی ترقی کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسی ساگا کو اپنے شہریوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق شہر کی مختلف قومیتوں پر مشتمل آبادی اور دنیا بھر سے روابط کو استعمال کرتے ہوئے بیرونی سرمایہ کاری لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے جدید صنعتی پیداوار، ہوابازی، حیاتیاتی علوم اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ترقی دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ کاروبار کو فروغ ملے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

انتخابی جائزوں پر اعتماد کے بارے میں ایک سوال پر ایلوِن ٹیجو نے کہا کہ جائزے کسی خاص وقت کی صورت حال دکھاتے ہیں اور انہیں حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق ان کی انتخابی مہم کی کارکردگی جائزوں میں ظاہر ہونے والی صورت حال سے بہتر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی مہم میں شریک رضاکار شہریوں سے ملاقاتوں کے دوران یہ محسوس کر رہے ہیں کہ لوگ مہنگائی اور تحفظ کے مسائل پر قیادت سے مایوس ہیں۔ ان کے بقول شہری سیاسی بحث و تکرار کے بجائے پُرسکون، ذمہ دارانہ طرزِ قیادت اور ایسے ٹھوس منصوبے چاہتے ہیں جن پر عمل کیا جاسکے۔

ایلوِن ٹیجو نے اپنی انتخابی مہم میں شہر کے اخراجات کم کرنے، رہائشی سہولتوں میں اضافہ، عوامی آمدورفت کو بہتر بنانے، پولیس کو وسائل فراہم کرنے اور سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو اہم ترجیحات قرار دیا۔