لاس اینجلس (خبر ایجنسیاں)معروف برطانوی اداکار سر پیٹرک اسٹیورٹ 86 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ فلمی دنیا میں اپنی باوقار شخصیت، پُرسکون انداز اور مضبوط قیادت کے حامل کرداروں کے باعث عالمی شہرت رکھتے تھے، تاہم ان کی ذاتی زندگی کا ایک بڑا حصہ بچپن میں پیش آنے والے گھریلو تشدد کے تلخ تجربات سے متاثر رہا۔
اسٹار ٹریک میں کیپٹن ژاں لوک پیکارڈ اور ایکس مین میں پروفیسر چارلس زیویئر کے کرداروں سے شہرت حاصل کرنے والے پیٹرک اسٹیورٹ نے اپنی زندگی میں بچپن کے تلخ واقعات اور ان کے نفسیاتی اثرات کا سامنا کیا۔
برطانوی اخبار دی سن کے مطابق اداکار جمعرات کو لاس اینجلس میں اپنے گھر پر اہلخانہ کی موجودگی میں انتقال کرگئے۔ ان کے خاندان نے بیان میں کہا کہ انہوں نے اپنے پیاروں کے پُرخلوص حصار میں آخری سانس لی۔
پیٹرک اسٹیورٹ کا بچپن خوشگوار نہیں تھا۔ ان کے والد الف اسٹیورٹ دوسری عالمی جنگ کے دوران ڈنکرک سے انخلا کرنے والے آخری فوجیوں میں شامل تھے۔ بعدازاں انہیں پیراشوٹ کے ذریعے اٹلی بھیجا گیا، جہاں انہوں نے مونتے کاسینو کی خونریز جنگ میں حصہ لیا۔ اس جنگ میں اتحادی افواج کے 54 ہزار فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے تھے۔
جنگ سے واپسی کے بعد ان کے والد نے برطانیہ کے علاقے میر فیلڈ، ہڈرزفیلڈ میں ان کی والدہ پر تشدد شروع کردیا۔ پیٹرک اسٹیورٹ اس وقت صرف 7 سال کے تھے اور اکثر اپنی والدہ کو والد کے تشدد سے بچانے کے لیے دونوں کے درمیان کھڑے ہوجاتے تھے۔
اداکار نے اپنے بچپن کے ان تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی والدہ پر والد کے بار بار تشدد کا مشاہدہ کیا۔ اس ماحول میں خوف اور اذیت اس قدر زیادہ تھی کہ اگر انہیں یقین ہوتا کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں تو اپنے والد کو قتل کردیتے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر ان کی والدہ ایسا کرنے کی کوشش کرتیں تو وہ اپنے والد کو قابو میں رکھنے کے لیے انہیں پکڑ لیتے۔پیٹرک اسٹیورٹ کے مطابق سات سال کی عمر سے برسوں تک خوف، غیر یقینی صورت حال اور تذلیل کے ماحول میں زندگی گزارنے کے اثرات ایک بچے کی شخصیت پر گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔

